آنکھیں ۔۔۔ قاضی عبد الستار

qazi-abdul-sattar-story-aankhein

آنکھیں

(قاضی عبد الستار)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔ طاؤس کی غم ناک موسیقی چند لمحوں بعد رک جاتی ہے۔ ’’سبحان اللہ جہاں پناہ! سبحان اللہ۔‘‘
’’بیگم!‘‘ (بھاری اور رنجور آواز میں)
’’جہاں پناہ اگر ہندوستان کے شہنشاہ نہ ہوتے تو ایک عظیم مصنف، عظیم شاعر، عظیم مصور اور عظیم موسیقار ہوتے۔‘‘
’’یہ تعریف ہے یا غم گساری؟ بہرحال جو بھی ہے مابدولت کے بے قرار دل کو قرار عطا کرنے کی جسارت کرتی ہے۔‘‘
’’نصیب دشمناں، کیا مزاج عالم پناہی…؟‘‘
’’ہندوستان کے تخت پر جلوس کرنا آسان ہے، لیکن سچ بولنا دشوار ہے، دشوار تر۔‘‘
’’نورجہاں بیگم کے سامنے بھی عالم پناہ؟‘‘
’’بیگم!‘‘
’’ظل الہی کو جو ارشاد فرمانا ہے، ارشاد فرما دیا جائے، پھر جلاد کو حکم دیا جائے کہ ہمارے کانوں میں پگھلا ہوا سیسہ ڈال کر الفاظ پر مہریں لگا دے۔‘‘
’’خوب، جوانی آنکھیں قبول کر چکی۔ بڑھاپا سماعت کو سولی چڑھا دے۔‘‘
’’کنیز کچھ سمجھنے سے قاصر ہے۔‘‘
’’آپ کے نام کا سکہ روئے زمین کی سب سے شان دار سلطنت کے بازار کا چلن ہے۔ ہندوستان کی مہرِ حکومت آپ کی انگشت مبارک کی زینت ہے۔ زمانہ جانتا ہے کہ جہاں گیر ایک جام کے عوض تاج ہندوستان آپ کو عطا کر چکا ہے، لیکن یہ کون جانتا ہے کہ جہاں گیر آج بھی اپنی محبت کی تکمیل کا محتاج ہے۔‘‘
’’پوری کائنات کو اپنے بازوؤں میں سمیٹ لینے والی محبت اس ایک چھوٹے سے لمحے کی محتاج ہوتی ہے جب عاشق اپنے سینے کا آخری راز محبوب کے سینے میں منتقل کر دیتا ہے۔ آج کون سی رات ہے بیگم؟‘‘
’’شوال کی چودھویں عالم پناہ!‘‘
’’بہت خوب، آج کی رات اس لیے اتاری گئی کہ مابدولت آپ کے سر پر تکمیل محبت کا تاج رکھ دیں۔‘‘
’’ظل الہی! کیا روئے زمین پر کوئی عورت ہے جس کے ہاتھ میں خاتم سلیمانی ہو اور سر پر محبت کا تاج؟‘‘
’’نورجہاں بیگم! رام رنگی کا ایک جام بنائیے اور اس طرح ہونٹوں سے لگا دیجیے کہ جام مابدولت کی آنکھوں سے دور رہے، ایک عمر ہونے کو ہوئی کہ جام میں آنکھیں نظر آ رہی ہیں، وہی آنکھیں۔ وہ بے پناہ آنکھیں۔‘‘
’’جہاں پناہ طبیب شاہی کی مقرر کی ہوئی مقدار شراب نوش فرما چکے۔‘‘
’’یہ کیسی شہنشاہی ہے کہ ایک جام کو ترستی ہے؟ بیگم! ہماری محبت کے جشن تاج پوشی کے تصدق میں ایک جام عطا کر دیجیے۔‘‘
’’اتنی عزت نہ دیجیے جہاں پناہ کہ نورجہاں اس بارِعظیم کی متحمل نہ ہو سکے۔‘‘
(ایک ہی سانس میں جام خالی ہو جاتا ہے۔)
’’بیگم!‘‘
’’کنیز ہمہ تن گوش ہے عالم پناہ!‘‘
’’ بیگم! زندگی کا صرف ایک نام ہے، جوانی اور سلیم کی جوانی؟ دولت مغلیہ کے اوّلین صاحبِ عالم کی جوانی؟ فردوس مکانی بابر بارہ برس کی عمر میں بادشاہ ہو گئے۔ جنت مکانی ہمایوں میدان جنگ میں تلوار چلاتے جوان ہوئے۔ عرش آشیانی اکبر اپنے داداجان کی طرح بارہ سال کی عمر میں تخت نشیں ہوئے، اور اکبر اعظم کی ولی عہدی سلیم کا مقدر ہوئی۔ عرش آشیانی نے جب شراب پر پہرے بٹھا دیے تو مابدولت کے جان نثار اپنی بندوقوں کی نالیوں میں شراب بھر کر لاتے اور پیمانے لبریز کر دیتے، اور نظام ہضم بارود سے سینچی ہوئی شراب اس طرح ہضم کر لیتا جس طرح آج دوا کا پیالہ ہضم نہیں ہوتا۔ اس بے پناہ جوانی اور بےمحابا شہزادگی کا اثر تاج داری پر طاری رہا۔ بیگم!‘‘
’’ہاں بیگم! دوسرا سالِ جلوس تھا۔ مابدولت مینابازار میں جلوہ افروز تھے کہ ایک لڑکی نے پان پیش کیے۔گلوریوں کی نزاکت اور نفاست پسند خاطر ہوئی۔ ہاتھوں پر نظر پڑی تو اور ہی عالم نظر آیا، جیسے نور کے سانچے میں ڈھال دیے گئے ہوں۔ نگاہ بلند ہوئی، معصوم وحشی آنکھوں میں ڈوب گئی اور محسوس ہوا جیسے اندر کوئی چیز ٹوٹ گئی۔ جب ہوش آیا، وہ نگاہ نیچی کیے لرز رہی تھی اور دونوں ہاتھوں میں طشت کانپ رہا تھا۔ مابدولت گردن سے ہار اتار رہے تھے کہ اس کی آواز طلوع ہوئی، جیسے کشمیر کے برف پوش پہاڑوں پر سورج کی کرن تڑپتی ہے۔‘‘
’’تحفۂ درویش کی قیمت کیا عالم پناہ!‘‘
’’بے شک، تحفۂ درویش قیمت سے بلند ہوتا ہے۔ یہ موتی اس نفاست اور نزاکت کی داد ہیں جو ان گلوریوں میں مجسم کر دی گئی ہے۔ ہم آگے بڑھے تو عرفان ہوا کہ پیچھے رہ گئے۔ پہلی بار قلعۂ معلّا ویران معلوم ہوا۔ اکبر اعظم کے جانشین کی بارگاہ خالی محسوس ہوئی۔ پہلی بار مابدولت کو غربت کا تجربہ ہوا۔ ایسی غربت جو دل مٹھی میں دبوچ کر ایک ایک قطرہ لہو نچوڑ لیتی ہے اور جب ہم نے چاہا کہ دل کی ویرانی شراب سے شاداب کر لیں تو پہلی بار انکشاف ہوا کہ شراب نشے سے عاری ہو چکی۔ دیر تک شیشے خالی ہوتے رہے لیکن دل کا خلا پر نہ ہو سکا۔‘‘
’’پھر جہاں پناہ؟‘‘
’’پھر مابدولت کے ہاتھ نے گھنٹہ بجا دیا۔ چوب دار کے بجائے محرم خاں کورنش ادا کر رہا تھا۔ ابھی اس کی بےادب حاضری پر غور فرما رہے تھے کہ معروض ہوا، پان پیش کرنے والی صاحب زادی کا نام صائمہ خاتون ہے جو بخارا کے شیخ الاسلام کی پوتی اور جلوہ دار شیخِ عرب کی بیٹی ہیں، ان کا مکان عرب کی سرائے۔‘‘
’’محرم خاں!‘‘
’’ظل الٰہی!‘‘
’’یہ قیمتی معلومات کس کے حکم پر فراہم کی گئیں؟‘‘
’’زبان مبارک سے نازل ہونے والے احکام کی تکمیل ہر بندۂ درگاہ کا فرض ہے لیکن محرم خاں جیسے مقرب بارگاہ کے منصب کا حق ہے کہ وہ عالم پناہ کی چشم و اَبرو کی زبان سمجھنے کی قدرت رکھتا ہو۔‘‘
’’جہاں گیری چشم و اَبرو کی زبان سمجھنا ایک نادر علم ہے لیکن اس کا اظہار اس سے زیادہ ہنر اور اس ہنر کا غلط استعمال بے داد مستوجب۔‘‘
’’خداوند!‘‘
’’مابدولت نے تمہارا قصور معاف کیا اور حکم دیا کہ خلعتِ ہفت پارچہ مع زر و جواہر کے ساتھ نواب صائمہ بیگم کی خدمت میں حاضر ہو اور پیام دو کہ جشن سال گرہ میں شریک ہونے کی سعادت حاصل کریں۔ ہر چند کہ ابھی رات کی زلف کمر تک بھی نہ پہنچی تھی، ہم بے طرح انتظار فرما ہو چکے تھے۔‘‘
’’کتنی خوش نصیب تھی صائمہ بیگم کہ عالم پناہ اس کے منتظر تھے۔ کتنی بدنصیب تھی صائمہ بیگم کہ جہاں پناہ کی حضوری سے محروم تھی۔‘‘
’’تمام رات وہ آنکھیں ہماری آنکھوں کے سامنے مجرا کرتی رہیں جن کی سیاہی میں ابدالآباد تک تمام مہجور عاشقوں کی سیہ بختی کا جوہر کھینچ کر انڈیل دیا گیا تھا، جن کی تاب کے سامنے سمندروں کے تمام موتیوں کی آب پانی پانی تھی۔‘‘
’’سبحان اللہ، اگر ملک الشعرا یہ تشبیہ سن لیتا تو خجالت سے ڈوب ڈوب جاتا۔‘‘
’’وہ رات زندگانی کی سب سے بھاری رات تھی۔‘‘
’’کیا اس رات سے بھی بھاری جہاں پناہ! جس کی صبح اکبر اعظم کی تلوار طلوع ہونے والی تھی؟‘‘
’’ہاں بیگم! اس رات کی دل داری کے لیے پچاس ہزار تلواریں سلیم کی رکاب میں تڑپ رہی تھیں، اور صاحب عالم کے منہ سے نکلا ہوا ایک فقرہ اکبری تلوار کو غلاف کر سکتا تھا لیکن اُس رات کی غم گساری کے لیے نور الدین محمد جہاں گیر کے پاس ایک دامن و آستیں کے سوا کچھ نہ تھا۔‘‘
’’کاش اس رات کی خدمت گزاری کنیز کا مقدر ہوئی ہوتی۔‘‘
’’پھر سورج کی کرنیں سلام کو پیش ہوئیں۔ مابدولت درشن جھروکے پر نزول اجلال کے اہتمام میں مصروف تھے کہ فریادی نے زنجیر ہلا دی، صائمہ بیگم اس طرح باریاب ہوئی گویا وہ کشور ہندوستان کے قلعۂ معلّا میں نہیں، کسی غریب عزیز کے گھر میں قدم رنجہ فرما رہی ہو، نقاب اٹھتے ہی محسوس ہوا جیسے داروغۂ چاندنی خانہ نے قلعۂ معلاً کی تمام روشنیاں ایک شاہ برج میں انڈیل دی ہوں۔ استفسار پر اس طرح مخاطب ہوئی جیسے وہ جہاں گیر سے نہیں، اپنی ڈیوڑھی پر کھڑے ہوئے سوالی سے مخاطب ہے۔ اس کی خطابت نے یقین دلا دیا کہ مابدولت نے محرم خاں کو سفیر بنا کر غلطی کا ارتکاب نہیں، جرم سرزد فرمایا ہے۔ پھر معلوم ہوا کہ بھری دوپہر پر رات غالب آ گئی ہے۔ وہ جا چکی تھی۔ اس کے غروب ہوتے ہی محرم خاں باریاب ہوا۔ عرض کیا گیا کہ خلعت نامقبول اور دعوت نامنظور ہوئی۔‘‘
نجابت اور شرافت پر اتنا غرور؟ ایسا تبخیر؟ معاذ اللہ، معاذ اللہ۔ ایک جام اور عنایت ہو، زبان خشک ہونے لگی۔‘‘
(ایک ہی سانس میں آبگینہ ختم ہو جاتا ہے)
’’جہاں پناہ!‘‘
’’گوش گزار کیا گیا کہ ارم آشیانی عُلیا۔ حضرت مریم زمانی درودِ مسعود فرما رہی ہیں۔ سلام کے جواب میں ارشاد ہوا کہ شیخوبابا کو اس مغرور لڑکی میں کیا نظر آ گیا کہ مغل جبروت و جلال کی بازی لگا دی گئی۔ مابدولت سکوت فرما رہے۔ جب سکوت حدِادب سے گزرنے لگا تو عُلیا حضرت نے سنا کہ صائمہ بیگم سر سے پاؤں تک کرشمہ الہی ہے لیکن آنکھوں کی بے پناہ ہی زمین و آسمان کے درمیان اپنی مثال نہیں رکھتی۔ سورج شاہ برج سے رخصت کی اجازت مانگ رہا تھا کہ علیا حضرت ثانی کا غلغلہ بلند ہوا۔ خوش خبری سنائی گئی کہ سفارش خاص پر نواب صائمہ بیگم رات کے کسی پہر قلعہ مبارک میں جلوس فرمائیں گی۔‘‘
’’ظل الٰہی نے یہ خوش خبری کس طرح قبول فرمائی؟‘‘
’’مابدولت نے غسل فرمایا، نیا لباس زیب تن کیا، نئے جواہر سے آراستہ ہوئے اور خاصہ تناول فرمایا۔ داروغۂ چاندنی خانہ کو حکم ہوا کہ ارکِ معلا کا چپا چپا روشنی میں غرق کر دے۔
داروغہ بیوتات کو فرمان ملا کہ ذرہ ذرہ مشک و عنبر سے معطر کر دے اور داروغہ جواہر خانہ کو پروا نہ پہنچا کہ شاہ برج کے طاق جواہر سے لبریز کر دے۔ قلعے دار کو مطلع کیا گیا کہ نواب صائمہ بیگم بہادر کی سواری کو نوبت خانے کی سیڑھیوں تک آنے کی اجازت عطا ہوئی۔ احکام کی تعمیل ہو چکی تھی اور مابدولت انتظار کے تخت پر جلوہ افروز تھے۔‘‘
’’ظل اللہ کے دہن مبارک سے انتظار کا لفظ عطا ہو کر کنیز کی سماعت پر اس طرح گرتا ہے جیسے طاؤس پر عقاب۔‘‘
’’مقربین بارگاہ نے تہنیت دی کہ حضرت نواب صائمہ بیگم بہادر کی سواری نوبت خانے کی سیڑھیوں پر لگا دی گئی۔ چوب داروں کی آواز پر ملاحظہ فرمایا کہ وہ سیاہ سوتی برقع پر بھاری نقاب ڈالے، دونوں بازوؤں پر عورتوں کا سہارا لیے ہاتھوں میں ایک سرخ پیالہ سنبھالے آہستہ آہستہ آ رہی ہے۔ نقیب خاص کی آواز پر عورتوں نے اس کے بازو چھوڑ دیے اور وہ کورنش ادا کرنے کے بجائے گھٹنوں پر گر پڑی اور کانپتے ہاتھوں نے دراز ہو کر پیالہ تخت کی طرف بڑھا دیا۔ مابدولت تخت سے اتر پڑے، دست گیری عطا کرنے کے بجائے اس کی نذر قبول کی۔ پیالہ ہاتھ میں آیا تو بیگم! جیسے آنکھوں سے بصارت چلی گئی۔‘‘
’’جہاں پناہ!‘‘
’’پیالے میں اس کی آنکھیں تڑپ رہی تھیں۔‘‘
’’ظل الٰہی۔‘‘
’’ہاں بیگم! اس کی آنکھوں کے دیدے پیالے میں رکھے تھے۔ شہنشاہی کی پوری عمر میں آدابِ شہنشاہی کبھی اتنے بھاری معلوم نہیں ہوئے تاہم انہوں نے اس کا نقاب اٹھا دیا۔ آنکھوں کی جگہ دو سوراخ تھے جن سے خون رس رہا تھا۔ زرد سنگ مرمر سے تراشا ہوا چہرہ ساکت تھا۔ پائے مبارک میں جیسے کسی نے زنجیریں ڈال دیں۔‘‘
’’نصیبِ دشمناں۔‘‘
’’صرف اس قدر ادا ہو سکا کہ نواب صائمہ بیگم نے یہ کیا کر لیا؟ آواز آئی، شہنشاہوں کی پسند غریبوں کو زیب نہیں دیتی۔ ناچیز کی آنکھیں جہاں پناہ کو پسند آ گئیں، نذر میں گزار دی گئیں۔ کل کی گلوریوں کی طرح قبول فرما لیجیے۔‘‘
’’ظل الہی۔‘‘
’’جب بھی تنہائی باریاب ہوتی ہے، جہاں گیر کی پیٹھ پر اس آواز کے تازیانے برسنے لگتے ہیں۔ آنکھوں میں وہ زندہ دیدے انگاروں کی طرح دہکنے لگتے ہیں۔ کاش وہ زندہ رہتی تو جہاں گیری محل اسے تفویض کر دیا جاتا۔ اس کی دل داری اور دل آسانی کی جاتی تو شاید اس چوٹ کی تڑپ کم ہو جاتی بیگم!‘‘
’’جہاں پناہ!‘‘
’’ایک جام اور عطا کر دیجیے کہ سماعت جلنے لگی ہے اور بصارت دہکنے لگی ہے۔‘‘

 

Advertisment

Be the first to comment

Share your Thoughts: