پدما وتی۔فلم ریویو۔۔۔۔راشد جاوید احمد

 

Rashid Javed Ahmed is a senior short story writer. He writes in Urdu and Punjabi languages. He is a playwright, copy writer and script writer as well.

فلم  پدما وتی

تبصرہ؛ راشد جاوید احمد

آج سے تقریبا دس سال پہلے تاریخی واقعات پر مبنی فلم بنانا کوئی نفع بخش کام نہیں سمجھا جاتا تھا اسلئے تاریخ کو فلموں سے دور ہی رکھا گیا لیکن 2008 میں بنی فلم ” جودھا اکبر ” نے اس متھ کو توڑا۔ اس فلم کو ناظرین نے بہت پسند کیا اور فلم ساز نے ٹھیک ٹھاک رقم بھی کمائی۔ ابھی حال ہی میں سنجے لیلا بھنسانی کی فلم ” باجی راو مستانی” نے بھی خوب پیسہ اور نام کمایا۔ اور اب فلم انڈسٹری کے اس معروف ہدایت کار نے ایک اور فلم بنا ڈالی ہے۔۔۔ ” پدما وتی “۔۔۔

یہ فلم خاندان غلاماں کے بادشاہ علاؤ الدین خلجی اور چتور کی رانی پدما وتی کی ” رومانوی داستان “پر مبنی ہے۔

مہارانی پدماوتی چتور کے راجہ رتن سنگھ کی بیوی تھی اور اپنی خوبصورتی، بہادری اور ذہانت کے باعث مشہور تھی۔ تاریخ کی کتابوں کے مطابق علاؤ الدین خلجی اس کی خوبصورتی کی داستانیں سن کر وہاں گیا اور اس نے آئینے میں مہارانی کا عکس دیکھا تھا۔

فلم میں مرکزی کردار دپیکا پڈوکون اور رنویر سنگھ ادا کیا ہے۔۔ دپیکا کے شوہر یعنی راجہ رتن سنگھ کے کردار کے لیے پہلے شاہ رخ خان کا نام لیا گیا لیکن پھر فواد خان کو کاسٹ کرلیا گیا۔ لیکن راجہ رتن سنگھ کے مختصر کردار کی وجہ سے شاہ رخ خان اور فواد خان دونوں ہی نے اس کردار کے لیے منع کردیا ہے۔اور شاہد کپور نے بھی اس وعدے پر کہ کردار کو طوالت دی جائے گی، کام کرنے کی حامی بھر لی۔

فلم کا آغاز دپیکا کے گانے سے ہوتا ہے جس میں دپیکا راجھستانی ڈانس ’گھومر‘ کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔ جبکہ راجھستان کے ڈانسرز سے بیھی کام لیا گیا ہے۔

مجھے اس فلم میں کوئی خاص تاریخی حقیقتیں نظر نہیں آیئن۔ ایسے لگتا ہے کہ راجپوتوں کی اساطیری قسم کی درندگی کی حدوں کو چھوتی شجاعت کو زیادہ اجاگر کیا گیا ہے۔ راجپوت بہادر اور شجاع تو تھے لیکن درندے نہیں تھے۔ تاریخ کی کتابوں میں علاوالدین خلجی کی رومان پسند طبیعت سے زیادہ اسکی ہم جنسوں سے التفات کی داستانیں ہیں۔ اس سلسلے میں ” کافور” نامی ایک زنخے کا بہت ذکر ملتا ہے جسے علاوالدین نے فوج کا جنرل بھی بنا دیا تھا۔ (تاریخ فیروز شاہی)

دیپیکا ، رانی یا مہارانی کے روپ میں ایک بھرپور کردار نبھانے میں کچھ زیادہ کامیاب نظر نہیں آئی۔ وہ ذہانت اور بہادری جو اصل پدما وتی سے منسوب تھی اسے آپ فلم میں تلاش ہی کرتے رہتے ہین

  جو کردار شاھد کپور کو دیا گیا اس سے تو خیر توقع ہی نہیں تھی کہ وہ اسے بخوبی ادا کر سکے گا اور فلم دیکھ کر یہی تاثر بنتا ہے۔

  کچھ فلموں میں بہت ہی اچھی پرفارمنس دینے والے “رنویر” سے اس فلم میں بھی کافی توقعات تھیں لیکن یا تو وہ اس کردار کے لئے مس فٹ تھا یا پھر اس سے یہ کردار نبھایا نہیں گیا۔ ہو سکتا ہے فلم کا ڈھیلا ڈھالا سکرپٹ ہی اسکی وجہ ہو۔  رنویر کو دوسرے اداکاروں کی نسبت کچھ رعایتی نمبر دئے جا سکتے ہیں۔

فلم چاہے جس موضوع پر ہو، فلم کے اندر وہ موضوع انڈر کرنٹ چلتا رہتا ہے۔ کہا تو یہ گیا ہے کہ یہ فلم علاوالدین خلجی اور پدما وتی کی محبت کے بارے میں ہے اور اسے لے کر بھارت میں کافی کچھ ہوا لیکن فلم میں وہ محبت تو سرے سے غائب ہے۔ اول تو پدماوتی کا چتوڑ کے راجہ کی بیوی بننا ہی ایک پھسپھسے سے واقعے پر مبنی ہے، پھر خلجی کا ایک نادیدہ رانی کو حاصل کرنے کی ٹھان لینا ۔۔۔ تو محبت کہاں ہے۔

جتنا شور اس فلم کی ریلیز سے پہلے اٹھا تھا اس کے حساب سے تو توقع تھی کہ بہت بڑی فلم ہوگی لیکن اس فلم نے کم از کم مجھے تو مایوس کیا ہے۔ ہاں چند ایک سین ایسے ہیں جن کی تعریف کی جا سکتی ہے اور اتنے تو تقریبا ہر فلم میں ہوتے ہیں۔

 

Advertisment

Be the first to comment

Share your Thoughts: