تبصرہ ۔۔۔ حوا کی تین بیٹیاں (الف شفق ) ۔۔۔راشد جاوید احمد

الف شفق     حوا کی تین بیٹیاں    

 

تبصرہ کتاب : راشد جاوید احمد 

الف شفق فرانس میں ترکش نژاد والدین کے ہاں پیدا ہوئی۔ کمسنی میں ہی ماں باپ کی علیحدگی کے بعد ماں کی گود میں پروان چڑھی۔ اس غیر معمولی بچپن نے بعد میں اسکی تحریروں پر گہرا اثرمرتب کیا۔ ناقدین ادب کے مطابق وہ ترکی اور عالمی ادب میں ایک منفرد آواز ہے۔ اسنے کل 14 کتابیں لکھی ہیں جن میں ۹ ناول ہیں۔ یہ کتابیں ترکی اور انگریزی دونوں زبانوں میں ہیں اور کئی دیگر زبانوں میں ترجمہ ہو چکی ہیں۔ ادیب ہونے کے علاوہ وہ ایک سیاسی سائنسدان بھی مانی جاتی ہے۔ بین الاقوامی تعلقات کی ڈگری کے علاوہ اسنے جینڈر اند ویمن سٹدیز میں ایم اے کیا اور پولیٹیکل سائنس میں ڈاکٹریٹ کی۔ ۲۰۱۴ میں اسنے بچوں کے لئے ادب تخلیق کیا اور وہ راک موسیقاروں کے لئے گانے بھی لکھتی ہے۔ اسکی کہانیوں میں عورت، اقلیتیں،تارکینِ وطن، عام لوگ اور عالمی ارواح کا ذکر ملتا ہے۔ اسکے ناولوں میں اقوامِ عالم کے مختلف کلچر، روایات، تاریخ، فلسفہ،صوفی ازم اور کلچرل سیاست کے علاوہ مشرق و مغرب کے خوبصورت امتزاج موجود ہوتے ہیں۔ اسکے پہلے ترکی ناول پناہ کو ادبی ایوارڈ ملا۔ناول The Gaze کوبہترین ناول گردانتے ہوئے یونین پرائز دیا گیا۔ ناول The Flea Palace کو بیسٹ فکشن ایوارڈ ملا۔ دیگر بہت سے ناول انعام کے حق دار ٹھہرے۔ میں نے بھی حسبِ توفیق اور باعثِ دستیابی الف شفق کے کتقریبا تمام ناول مطالعہ کئے جن کے بارے میں پہلی ہی ایک مضمون لکھ چکا ہوں
۔ شفق کا دسواں ناول  Three daughters of Eveمیں نے ابھی مطالعہ کیا ہے۔یہ اپر مڈل کلاس کےایک شہری بود و باش والے خاندان کی کہانی ہے۔ اس ناول میں الف شفق نے  ترکی کی سیا ست، روحانیت اور مشرق و مغرب کے درمیان نا ہموار تعلقات کا بھر پور تجزیہ کیا ہے۔ یہ 2016 کا استنبول ہے  جہاں کہانی کے مطابق ایک 35 سالہ ” پری” نام کی عورت اپنی 12 سالہ بچی کے ساتھ ایک دعوت کے لئے روانہ ہوتی ہے اور ایک اوباش قسم کا بھکاری انہیں لوٹنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ مقابلہ تو کامیابی سے کر لیتی ہے لیکن اس دوران ایک فوٹو گراف اس کے بیگ میں سے زمین پر گر جاتی ہے جسمیں پری اپنی دو دوستوں اور ایک مرد کے ساتھ کھڑی ہے۔ یہ تصویر اسکے آکسفورڈ میں تعلیم کے دوراں بنی تھی۔دونوں ماں بیٹیاں میزبان کے گھر پہنچ جاتی ہیں جہاں انواع و اقسام کے پر تکلف کھانے اور  ہر قسم کے مشروب  مہیا کئے جاتے ہیں لیکن پرس سے گرنے والی وہ پولورائڈ کیمرے کی پرانی تصویر پری کے دماغ میں اٹکی رہتی ہے۔ کھانے کے دوران بات چیت کا سلسلہ بھی جاری  رہتاہے ، پری ا، مہمانوں کی باتوں میں حصہ بھی لے رہی ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ وہ تصویر اسے اس کے ماضی کی طرف لے جاتی ہے۔ اسے اپنا نا خوشگوار بچپن یاد آتا ہے جب وہ اپنی مذہبی ماں اور  اتاترک  کے پیروکار، سیکولر باپ کے درمیان اپنے آپ کو سینڈ وچ  کی طرح محسوس کرتی تھی۔  وہ فیصلہ نہیں کر پاتی تھی کہ ماں کی باتوں پر ” ایمان” لائے یا باپ کی باتوں پر۔ جب پری کو آکسفورڈ یونیورسٹی میں داخلہ ملا تو ماں کی خواہشات کے بر عکس، اسکے باپ نے پری کی بھر پور حوصلہ افزائی کی۔ یہ تصویر بھی اسی سال 2000 کی ہے جس میں پری  اپنی تمام تر روحانی، ذہنی اور جذباتی زندگی لئے ہوئے ہے۔ تصویر میں  اسکی کالج فیلوز ہیں۔ مونا ایک امریکی۔مصری کٹر مسلمان لڑکی ہے جو سکارف پہنتی ہے اور عوتوں کے حقوق کی علمبردار بھی ہے۔ شیریں، ایک ایرانی لڑکی ہے ، خوش باش، سیکولر رحجان کی حامل۔ اور پروفیسر آذر۔جس کے ٹیٹوریل

, “Entering the Mind of God/God of the Mind,”

نے اسکے تمام شاگردوں کو اپنے سحرمیں لے رکھا تھا۔  کہانی تو ہمیں بتاتی ہے کہ آذر پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا لیکن  اس کی ہر بات کے پیچھے ایک وزنی دلیل ہوتی ے جسے نہ رد کیا جا سکتا ہے نہ آسانی سے  ہضم کیا جا سکتا ہے۔ خاص طور پر پری  بیک وقت اس سے بے حد متاثر لیکن الجھن اور تذبذب میں بھی مبتلا نظر آتی تھی۔ 2016 میں اس شام رات کے کھانے کی دعوت  میں ترک نیسنلزم، کیپیٹیلزم اور اسلام پر دھواں دھار بحث و مباحثہ ہوتا ہے لیکن پری  کے دماغ میں ایک ہی بات چل رہی ہوتی ہے کہ آکسفورڈ میں اس نے پروفیسر آذر کے ساتھ جو دھوکہ کیا تھا اسے  اب  اسے اسکا سامنا کرنا چاہیئے۔ اب اس سے زیادہ تفصیل اگر یہیں بیان کر دی جائے تو آپ کو ناول کا کچھ لطف نہیں آئے گا۔

چھوٹی موٹی  خامیوں کے باوجود  الف شفق کے اس ناول نے مجھے  میری توقع سے زیادہ باندھے رکھا۔ شفق کے مطابق”ماڈرن مسلمانوں ” کو جو چیلنجز درپیش ہیں ، شفق نے انکا اظہار بہت قابلیت سے کیا ہے۔ انکے حل کے لئے شفق نے جو  مذہبی استدلال پیش کئے ہیں وہ بھاری بھرکم نہیں بلکہ بہت سادہ سے ہیں۔ شفق نے ہمیشہ ہی اپنی اس خوبی کو اپنی تحریروں میں  ظاہر کیا ہے اور کامیابی سے کیا ہے۔ آج کے دور میں    سیاست، آزادی رائے اور  سیاسی جبر ، کے بارے میں گفتگو اس قدر زیادہ  پیمانے پر ہوتی ہے کہ وہ ہمارے آپس کے تعلقات کو متاثر کرنے لگتی ہے، اسی بات کو شفق نے اس ناول کی تھیم بنایا ہے۔ اس لحاظ سے  یہ ناول آج کے دور کا نمایئندہ  ناول بھی کہا جا سکتا ہے۔ شفق نے بڑی مہارت سے  جوشیلے اور متذبذب استنبول اور ٹھنڈے ٹھار آکسفورڈ کی منظر کشی کی ہے۔شفق کا یہ ناول دنیا میں موجود مختلف تمدنوں میں پائے جانے والے تصادم   اور موجودہ  اور قدیم دور کے تفاوت کو کم کرنے کی ایک ایسی کوشش کہا جاسکتا ہے جہاں ذاتی جدو جہد کے نشیب و فراز بھی دیکھنے کو ملتے ہیں۔ مشرق کے خام لیکن ہمہ وقت موجود سچ  اور مغرب کی  آزادی لیکن جبر پر کھلی بحث بھی اس ناول کا حصہ ہے اور مشرق و مغرب کی تہذیبوں کے درمیان شگاف کو کم کرنے کی ایک سعی بھی اس ناول میں نظر اتی ہے ۔  

الف شفق نے اپنے خوبصورت  اور چونکا دینے والےانداز تحریر کے ذریعے اسلام فوبیا، استاد شاگرد کے رشتے اور کئی اقسام کی دہشت گردی  پر  آج کی صورت حال کے پیش نظر، کھل کر اظہار خیال کیا ہے۔ موجودہ دور میں ہونے والی سماجی، معاشرتی تبدیلیوں  اور تبدیل ہوتے انسانی روویوں کے بارے میں یہ ایک دلچسپ ناول ہے لیکن سوچنے کو بہت سے سوال چھوڑ جاتا ہے۔

Advertisment

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.