وکٹوریہ اینڈ عبدل ۔۔۔ فلم ریویو

وکٹوریہ اینڈ عبدل

 

مبصر : راشد جاوید احمد

“Life is like a carpet, we weave in and out to make a pattern

یہ وہ الفاظ ہیں جو  لمبے قد، مضبوط جسم اورخوبصورت آنکھوں والا، ایک ہندوستانی غلام ،عبدل کریم، ملکہ برطانیہ، یعنی  کویئن وکٹوریہ کو اس وقت کہتا ہے جب ان دونوں کے درمیاں ایک نازک تعلق کا آغاز ہوتا ہے۔ جی ہاں یہ بات ہے ایک فلم کی جس کا نام ہے وکٹوریہ اینڈ عبدل۔

۔فلم ’وکٹوریا اینڈ عبدل‘ کی کہانی شرابانی باسو کی کتاب ’وکٹوریا اینڈ عبدل: دی کوئین کلوزسٹ کانفیڈنٹ‘سے اخذ کی گئی ہے۔یہ کتاب ملکہ وکٹوریا اور اس کے قریبی راز دار عبدل کریم کی سچی کہانی پر مبنی ہے۔ فلم کی کاسٹ مین عدیل اختر، علی فضل،  اورجوڈی ڈنچ نے نمایاں کردارادا کئے ہیں۔

فلم کی کہانی 1887 میں ملکہ برطانیہ، کوئین وکٹوریہ کے آخری چند سالوں کے بارے میں ہے۔ چونکہ اسوقت ہندوستان بھی برٹش راج میں تھا اس لئے ملکہ اس وقت ملکہ ہند بھی کہلاتی تھی ۔ ملکہ کی گولڈن جوبلی تقریبات میں ہندوستانی خدمتگار کے طور پر عبدل کا انتخاب کیا گیا کہ وہ برطانیہ جا کرتقریب کے دوران ملکہ کی خدمت میں حاضر رہے۔ اسے سختی سے ہدایات دی گئی تھیں کہ انتہائی مودب رہے حتی کہ ملکہ کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھےاور غلامانہ طور پر نگاہیں نیچی رکھے۔ تقریب کے دوران، عبدل ہدایات کو نظر انداز کرتے ہوئے  نہ صرف ملکہ پر ایک بھرپور نظر ڈالتا ہے بلکہ موقع پا کر ملکہ کی قدم بوسی بھی کر لیتا ہے۔ اس اچانک حرکت پر سب ششدر رہ جاتے ہیں اوردل ہی دل میں عبدل کو کڑی سزا کا حقدار سمجھتے ہیں کہ یہ سنگین گستاخی کے زمرے میں آتا ہے لیکن ملکہ اسکی اس حرکت پر بے حد خوش ہوتی ہے۔ یوں دونوں کے درمیان ایک تعلق کا آغاز ہوتا ہے جو بعد میں ایک عجیب، ملا جلا سا کہیں گہرا، کہیں ہموار اور کہیں نازک تعلق بن جاتا ہے۔ اسکی تفصیل میں اسلئے  بیان نہیں کر رہا کہ پھر فلم بینی کے لئے باقی کچھ نہیں رہے گا۔

فلم میں اس زمانے کے ملبوسات، محلات کی پر ہیبت فضا، روشنیوں سے مزین اندرونی کمرے، موسیقی، ملکہ کے بچوں کا جاہ و جلال، درباریوں کی کورنشیں اور بھاگ دوڑ، سب انتہائی خوبصورتی سے فلمایا گیا ہے۔ علی فضل، عبدل کے کردار کے لئے  نہایت مناسب طور پر کاسٹ کیا گیا ہے۔ اسنے اپنے لمبے قد اور مضبوط جسم کی طرح اس کردار کو بھی خوب مضبوطی سے نبھایا ہے۔ ملکہ کا کرادر ادا کرنے والی تجربہ کار ایکٹریس، جوڈی ڈنچ کے ساتھ ہالی وڈ کے اس ابھرتے ہوئے فنکار کا کوئی مقابلہ نہیں بنتا تاہم اس نے ثابت کیا ہے کہ اس رول کے لئے اسکا انتخاب درست ہے۔۔  جوڈی ڈنچ نے ایک جانب تو طاقتور ترین ملکہ وکٹوریہ کا کردار بڑی عمدگی سے پیش کیا ہے اور دوسری جانب، غیر متوقع طور پر، عمر کے آخری ایام میں، افلاطونی تعلق میں گرفتار ہونے والی عورت کا کردار بھی اعلی طور پرنبھایا ہے۔ جب وکٹوریہ اور عبدل، سارے محل کو حیران و ششدر چھوڑ کر فلورنس کی سیر کو جاتے ہیں تو وہاں کے سین اور فلمبندی کے لئے فلمساز تحسین کا مستحق ہے ۔ یہاں،  وکٹوریہ کے اندرکی عام عورت کے جذبات، کمال طور پر عکس بند کئے گئے ہیں۔   

فلم میں ملکہ اور  معتمد خاص عبدل کے  ” متنازعہ “تعلق کو بہت ہی احتیاط اور مہارت سے پیش کیا گیا ہے۔ ملکہ کا ایک مسلم ہندوستانی کو محل میں ایک اہم درجے پر فائز کرنا اور پھر ہر مخالفت پر ایک زینہ اور ترقی عطا کرنا تو ظاہر کرتا ہے کہ شدید نسلی امتیاز کے اس دور میں، ملکہ نسلی امتیاز کو کچھ خاص گھانس نہیں ڈالتی تھی۔

جوڈی ڈنچ، جو اس سے پہلے نوجوان ملکاوں کا کردار خوبصورتی سے نبھاتی رہی ہے، خاص طور پر داد کے لائق ہے کہ اسنے ایک عمر رسیدہ، تنہا لیکن ارادے کی پختہ ملکہ کا کردار کمال خوبی سے ادا کیا ہے۔ ڈنچ کے مقابلے میں علی فضل نے عبدل کا کردار بہت ہی خوش اسلوبی سے ادا کیا ہے اور وہ کہیں بھی ایک تجربہ کار ایکٹرس سے دبا ہوا نظر نہیں آیا۔

سٹیفن فریئرز نے فلم میں  کمال ہدایت کاری کے جوہر دکھائے ہیں۔ اس قسم کی دلچسپ کہانی، اسی کی ڈایئرکشن میں ہی کامیاب بن سکتی تھی۔ لی ہال کے سکرپٹ میں البتہ کچھ جھول سا معلوم ہوتا ہے، خاص طور پر جب فلم آخری سین میں  سنجیدگی سے آگے بڑھتی ہے تو جھٹکا سا محسوس ہوتا ہے۔ شروع کے خوش کن سین دکھانے کے بعد زیادہ تر سین دوہرائے گئے ہیں جو با لکل بھی اچھے نہیں لگتے۔ اس فلم میں بھارتی موسیقی بھی کچھ بھلی دکھائی نہیں دیتی کیونکہ آجکل یہ موسیقی ہر دوسری انگریزی فلم میں سننے کو مل جاتی ہے۔

  شروع میں تو یہی لگتا ہے کہ چونکہ یہ ایک سچے واقعے پر بنائی گئی فلم ہے اسلئے اسمیں کافی دلچسپ کہانی پیش کی گئی ہوگی لیکن کچھ دیر بعد ایک روائتی میلوڈرامے کا تاثر ابھرنے لگتا ہے۔مجموعی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ مرکزی کرداروں کی دلکش کیمسٹری کے باعث وکٹوریہ اینڈ عبدل مزید بہتر فلم بن سکتی تھی۔ فلم دیکھئے ضرور تاکہ آپ کو علم ہو سکے کہ انگریز راج میں، بیشتر، نائٹ اور سر کے خطاب اور مراعات کن لوگوں کو، کس طرح ملا کرتی تھیں۔

 .

Advertisment

Be the first to comment

Share your Thoughts: