لہو ٹپکاتے حروف ۔۔۔ ریحانے جباری

 

Reyhaneh Jabbari  an Irani Girl was convicted of murdering Morteza Abdolali Sarbandi, She was in prison from 2007 until her execution by hanging in October 2014 for killing her alleged assailant. She published her story about what happened to her in prison, including solitary confinement.

لہو ٹپکاتے حروف

(ریحانہ جباری)

ایران میں 25-اکتوبر 2014 کو پھانسی چڑھنے والی چھبیس سالہ خاتون، ریحانے جباری، کی ڈائری سے ایک اقتباس-

’’پولیس ہیڈ کوارٹر میں تین جسیم مرد ایک چھوٹے سے کمرے میں میرے منتظر تھے۔ اندر داخل ہوتے ہی انہوں نے مجھے فرش پر بیٹھنے کو کہا اور مجھے ایک کرسی کے ساتھ ہتھکڑیوں سے باندھ دیا۔ باری باری وہ مجھ پہ چلاتے رے۔

تم سمجھتی ہو کہ تم بہت چالاک ہو؟ یہاں تو تم سے بڑوں بڑوں کی چیں بول گئی۔ تم کیڑی مکوڑی کیا چیز ہو؟ سارے سوالوں کا اونچی آواز میں جواب دو۔‘‘
مجھے اپنی پشت پر جلد سوجتی اور پھٹتی محسوس ہو رہی تھی۔ مجھے شدید جلن محسوس ہو رہی تھی اور میری چیخوں سے میرے اپنے کان دکھنے لگے۔ مجھے چابک کی لش سنائی ہی نہیں دے رہی تھی۔ میں نہیں جانتی کہ وہ مجھے کس چیز سے زدوکوب کر رہے تھے، چابک سے یاکسی رسی سے یا لکڑی کے ایک ٹکڑے کے ساتھ ۔ ۔ مجھے کبھی پتہ نہیں چلا کہ وہ تینوں راکشس مجھے کس شے سے جلا رہے تھے۔ مجھے صرف اپنی چیخیں سنائی دے رہی تھیں اور کچھ نہیں۔ اونچی کرسی سے بندھی میری کلائیاں درد اور جلن سے سُن ہو چکی تھیں۔
اس سال موسم سرما سرد تھا ۔ جیل میں ہیٹنگ کے نطام کے خراب ہونے کی وجہ سے ہمارے وارڈ میں ہر طرف دانت بجنے اور کھانسی چھینکوں کی آوازیں آتی تھیں۔ مجھے ۲۰۰۷ کی قیدِ تنہائی یاد آتی ہے کہ جب قیدِ تنہائی کے دوران میری تفتیش ہو رہی تھی۔ زخموں سے چور اور بے چینی اور خوف سے کانپتے بدن کے ساتھ۔ میری عمر تب انیس برس کی تھی۔
پوچھ گچھ کرنے والے اکثر دو آدمی ہوتے تھے جن کا نام مجھے کبھی پتہ نہیں چلا۔
وہ مجھے [میرا اقرارنامہ] بول کر لکھاتے تھے اور میں لکھتی تھی۔ ایک بار وہ مجھے کہیں تفتیش کے لئے لے گئے جہاں میں نےاپنی کلائیوں سے بندھی چھت سے لٹکی ہوئی ایک 14 یا 15 سال کی عمر کی لڑکی کو دیکھا۔ لڑکی کا رنگ پیلا تھا، بری طرح سبکیاں لیتے ہوئےاس کے ہونٹ پھٹے ہوئے تھے۔
[ایک اور کمرے میں،] پرسندہ مرے سامنے بیٹھ کر بولا کہ آج یا کل وہ میری چھوٹی بہن کو بھی لے آئیں گے۔ انہیں اسکا نام بھی معلوم تھا: بادوک۔ اس نے کہا کہ “اب اس کی باری ہے۔ وہ تو دبلی پتلی دھان پان سی ہے۔ کیا خیال ہے وہ اس لڑکی کی طرح لٹکی ہوئی کتنی دیر کاٹے گی؟‘‘
وہ تفصیل سے مجھے بتانے لگا کہ وہ میری بہن سے کیا سلوک، کیسے کرے گا۔ میں نے رونا شروع کر دیا اور منتیں کرنے لگی کہ وہ میری بہن کو معاف کر دے۔ اس نے کہا کہ وہ مجبور ہے یہ اس کے بس میں نہیں ہے۔ میں نے اسے پوچھا کہ میں اپنی بہن کو تکلیف سے بچانے کے لئے کیا کر سکتی تھی ۔ اس نے کہا کہ:
“یہ بہت آسان ہے ۔ بس اعتراف لکھ کر دے دو کہ تم نے چھری دو دن پہلے خاص طور پر اس قتل کیلئے خریدی تھی۔”۔ …
تو میں نے بالآخر لکھ کر دے دیا کہ میں نے چھری خود پہلے سے خریدی تھی، کاغذ پر دستخط کئے اور ایک اطمینان کی سانس لی [کہ بادوک بچ گئی تھی]۔

دنیا بھر کی انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی کوششوں کے باوجود قتل کے الزام میں تقریباً 7 سال سے قید ریحانہ جباری کو 25 اکتوبر کو پھانسی دے دی گئی۔
ریحانہ نے پھانسی سے پہلے اپنی ماں کو ایک خط لکھ کر اپنی موت کے بعد اپنے اعضاء کو عطیہ کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔
دلوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دینے والا یہ خط اپریل میں ہی موصول ہوگیا تھا، لیکن ایران میں امن کے حامی کارکنوں نے اس کو ریحانہ کو پھانسی دیے جانے کے ایک دن بعد عام کیا۔
ریحانی کی والدہ نے جج کے سامنے اپنی بیٹی ریحانہ کی جگہ خود کو پھانسی دیے جانے کی التجاء کی تھی۔
واضح رہے کہ 2007ء میں ریحانہ نے سابق اینٹیلی جنس اہلکار مرتضیٰ عبدل علی سربندی کو چھری کے وار سے قتل کر دیا تھا۔ 
اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے ایک مبصر کا کہنا تھا کہ ریحانہ نے مرتضٰی کا قتل اپنے دفاع میں کیا تھا کیونکہ سربندی نے ریحانہ کا ریپ کرنے کی کوشش کررہا تھا۔ پندرہ دسمبر 2008ء کو ریحانہ جباری اپنے خلاف مقدمے کی پہلی سماعت کے دوران اپنا دفاع کیا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا تھا کہ ریحانہ پر اس قتل کا مقدمہ 2009ء میں نہایت ناقص طریقے سے چلایا گیا تھا۔ ایرانی اداکاروں اور دیگر نامور شخصیات نے ریحانہ کو سنائی جانے والی پھانسی کی سزا پر سخت احتجاج کرتے ہوئے اس سزا کو روکنے کی اپیل کی تھی اور اُن کی اپیل کی باز گشت مغربی دنیا میں بھی سنائی دے رہی تھی۔ ایمنسٹی انٹر نیشنل کی رپورٹ کے مطابق ریحانہ کی والدہ کو جمعہ کو ایک گھنٹے کے لیے اپنی بیٹی سے ملنے کی اجازت دی گئی تھی۔ 
ایرانی قانون کے مطابق کسی بھی شخص کو سزائے موت دینے سے پہلے اُس کے کسی قریبی رشتہ دار سے ملنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ ایران میں امن کے لیے سرگرم کارکنوں کا کہنا تھا کہ ریحانہ کی والدہ کو بتایا گیا تھا کہ ریحانہ کو پھانسی دیے جانے کے کچھ گھنٹوں پہلے انہیں اس بارے میں بتا دیا جائے گا۔ عدالت کے حکم کے مطابق، 2007 ءمیں ریحانہ نے مرتضیٰ پر جس چاقو سے وار کیا تھا، وہ دو دن پہلے ہی خریدا گیا تھا۔ ایرانی وزیر انصاف مصطفٰی محمدی نے بتایا تھا کہ اس معاملے کا خوشگوار اختتام ہو سکتا تھا لیکن مرتضٰی کے اہلخانہ نے ریحانہ کی جان بچانے کے لیے قصاص کی رقم لینے کی تجویز کو مسترد کردیا تھا۔ برطانوی وزارت خارجہ نے بھی ریحانہ جباری کی پھانسی کو ناپسندیدہ فعل قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس طرح دنیا کے ساتھ ایران کے تعلقات کو بحال کرنا آسان نہیں ہوگا۔ اگرچہ ایرانی حکام یہ وضاحت کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ چونکہ مقتول کے ورثاء اسلامی قوانین کے تحت قاتل لڑکی کو معاف کرنے یا قصاص لینے پر راضی نہیں ہوئے تھے، چنانچہ حکومت اور عدالتیں مجبور تھیں۔ لیکن وہ اس سوال کا جواب دینے میں ناکام رہے کہ ریحانہ پر جنسی حملہ کرنے کے الزام کی تحقیقات کیوں نہیں کی گئیں۔ اس حقیقت کی چھان بین کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی گئی کہ ریحانہ کن حالات میں مرتضیٰ عبدالعلی کے فلیٹ تک لائی گئی اور وہاں تیسرا شخص کون تھا۔ مقدمے کے دوران استغاثہ سارا زور اس بات پر دیتا رہا کہ ریحانہ نے دو روز قبل چاقو خریدا تھا، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ قتل کا ارادہ رکھتی تھیں۔

ریحانہ کی والدہ صالحہ۔

ریحانہ نے اپنی والدہ کے نام اپنے آخری خط میں لکھا تھا:
’’میری عزیز ماں،
مجھے آج پتہ چلا کہ مجھے قصاص (ایرانی نظام میں سزا کا قانون) کا سامنا کرنا پڑے گا، مجھے یہ جان کر بہت دکھ ہو رہا ہے کہ آخر آپ اپنے دل کو یہ یقین کیوں نہیں دلا رہی ہیں کہ میں اب اپنی زندگی کے آخری مقام تک پہنچ چکی ہوں۔
آپ کو پتہ ہے کہ آپ کی اداسی مجھے کس قدر پریشان کرتی ہے؟ آپ مجھے اپنے اور پاپا کے ہاتھوں کو چومنے کا موقع کیوں نہیں دیتی ہیں۔
ماں، اس دنیا نے مجھے 19 سال جینے کا موقع دیا تھا۔ اس منحوس رات کو میرا قتل ہو جانا چاہیے تھا۔ میری لاش کو شہر کے کسی کونے میں پھینک دیا گیا ہوتا اور پھر پولیس آپ کو میری لاش کو پہچاننے کے لیے بلواتی اور آپ کو پتہ چلتا کہ قتل سے پہلے میرا ریپ بھی ہوا تھا۔
میرا قاتل کبھی بھی گرفت میں نہیں آتا، کیونکہ آپ پاس اس کی طرح نہ ہی دولت ہے، نہ ہی طاقت۔
اس کے بعد آپ کچھ سال اسی عذاب اور پریشانی میں گزار تیں اور پھر اسی عذاب میں آپ بھی انتقال کرجاتیں۔
لیکن، کسی لعنت کی وجہ سے ایسا نہیں ہوا۔ میری لاش تب پھینکی نہیں گئی۔ لیکن، یہاں جیل کی قبر میں یہی کچھ ہو رہا ہے۔
اسے ہی میری قسمت سمجھیے اور اس کا الزام کسی کے سر نہ ڈالیے۔ آپ بہت اچھی طرح جانتی ہیں کہ موت زندگی کا خاتمہ نہیں ہوتی۔
آپ نے ہی تو کہا تھا کہ انسان کو مرتے دم تک اپنے اقدار کی حفاظت کرنی چاہیے۔
ماں، جب مجھے ایک قاتل کے طور پر عدالت میں پیش کیا گیا، تب بھی میں نے ایک آنسو نہیں بہایا۔ میں نے اپنی زندگی کی بھیک نہیں مانگی۔ میں چلّانا چاہتی تھی لیکن ایسا نہیں کیا کیونکہ مجھے قانون پر پورا بھروسہ تھا۔
ماں، آپ جانتی ہیں کہ میں نے کبھی ایک مچھر بھی نہیں مارا۔ میں كاكروچ کو مارنے کی بجائے اس کو مونچھ سے پکڑ کر اسے گھر سے باہر پھینک آیا کرتی تھی، لیکن اب مجھے ایک ارادے کے تحت قتل کرنے کا مجرم بتایا جا رہا ہے۔
وہ لوگ کتنے پُر امید ہیں جنہوں نے ججوں سے انصاف کی امید کی تھی۔ 
آپ جو سن رہی ہیں، مہربانی کرکے اس پر مت روئیے۔
میں اپنی موت سے پہلے آپ سے کچھ کہنا چاہتی ہوں۔ ماں، میں مٹی کے اندر سڑنا نہیں چاہتی۔ میں اپنی آنکھوں اور جوان دل کو مٹی میں بدلنا نہیں چاہتی، اس لیے استدعا کرتی ہوں کہ پھانسی کے بعد جلد سے جلد میرا دل، میرے گردے، میری آنکھیں، ہڈیاں اور وہ سب کچھ جس کا ٹرانسپلاٹ ہو سکتا ہے، اسے میرے جسم سے نکال لیا جائے اور انہیں ضرورت مند شخص کو عطیے کے طور پر دے دیا جائے۔ میں نہیں چاہتی کہ جسے میرے اعضاء دیے جائیں اسے میرا نام بتایا جائے۔

Be the first to comment

Share your Thoughts: