دشت کے آیئنہ خانے میں ۔۔۔ سبین علی

Sabeen Ali is a short story writer, poet and critic. Her writings, poems and articles have been published in renowned literary magazines. She has a great interest in fine and applied arts. She expresses her thoughts in Urdu and Punjabi with equal ease.

نظم

سبین علی

دشت کے آئینہ خانے میں

وقت مجھے تعمیر کرتا ہے 
ایک مجسم مورت میں 
پھر ریزہ ریزہ توڑ دیتا ہے 
اور میں جو بہ جو بہتی ہوں
ندی کی ریت بن کر 
کئی عمروں سے 
کئی وادیوں سے گزرتے
سنگلاخ پتھروں میں رواں
سرکش موجوں میں 
پنپنا سیکھتی ہوں
اور قانع ہو جاتی ہوں 
اپنی ساخت پر 
اسی ساعت وہ 
پھر سے مجھے 
نئی تعمیر دیتا ہے 
ہوا کے چاک پر گھماتے 
سنہری کرنوں میں دمکتے 
اجلی روئی سے بادلوں میں 
اور میں کو بہ کو سرگرداں 
فلک کی راہگزر میں تیرتی 
سر جھکا کر زمیں کو حیرت سے تکتی ہوں 
ہوا کے رتھ ہانکتے ہانکتے 
بہت دور لے جاتے ہیں 
اور جب ہوا کے موافق ہو جاتی ہوں 
رعد کا رجز 
بادلوں کو چیرتے 
قطرہ قطرہ برسا دیتا ہے 
کسی بحر بیکراں میں
اور میں آشفتہ سر قطرہ آب کی مانند 
نمکین سمندر میں 
سیپ کی آغوش کھوجتی ہوں
مچھلیوں کے پیچھے بھاگتی ہوں 
کہ سورج کی تپش پھر اڑا لے جاتی ہے 
صحرا کی پیاسی ریت پر 
جہاں خارزار جھاڑیوں میں 
جامنی پھول کھلے 
شام تک کملا جاتے ہیں 
اور میں بھاپ بنی لو کی حدت میں لرزاں
صبح دم کا انتظار کرتی ہوں 
پھر کسی نوک خار پر
جھلملانے کو 
وقت عجب ساحر،عجب مسیحا ہے
توڑتا بناتا مرہم لگاتا ہے 
اور میں گنگ 
اپنے بدلتے خدوخال دیکھتی ہوں
سنہری ریت کے ذروں میں
دشت کے آئینہ خانے میں

Advertisment

1 Comment

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.