کالے رنگ کی اجارہ داری ۔۔۔ صفیہ حیات

کالے رنگ کی اجارہ دری
(صفیہ حیات)

سفید رنگ اتار کر دھوپ میں ڈال دیا گیا ھے
پانی میں رنگ اتنا گھولا گیا
کہ اب پانی کو 
نیا شناختی کارڈ بنوانا پڑا۔
کارڈ پہ نام کے ھجے غلط نکلے ہیں۔
سیاھی بھی
تیز دھار دھوپیلی کرنوں نے بھگا دی
کالا رنگ در آمد کیا گیا ۔
تو ہر کوئی اسے گھول گھول کر بیچنے لگا۔
کلنک کا ٹیکا اسی سے تو بنتا ھے۔
پچانوے فی صد پانی کبھی
کلنک دھو نہیں پاتا
جب یہ بندیا کی جگہ پر ٹک جائے۔
کوئلے کی کانوں سے
کالا رنگ گردن تان کر نکلتا ھے
کیونکہ
اب دیدہ وروں سے بینائی چھین کر
کالی پٹی مفت تقسیم کی جائے گی۔
لوگ اب سفید رنگ دیکھنے کے بھی روادار نہیں۔
سفید رنگ داغوں کے سوا 
دیتا بھی کیا ھے۔
رنگ ساز نے سب رنگ پانی کو دے کر
کالا رنگ سٹاک کر لیا ھے۔
وہ دور اندیش ھے
جانتا ھے۔
مستقبل کالی ٹوپیاں پہنے گا۔

Advertisment

Be the first to comment

Share your Thoughts: