غزل ۔۔۔ سلیم طاہر

غزل

سلیم طاہر

سخت مشکل میں ہوں اک خواہش سادہ کر کے
توڑ بیٹھا ہوں کئی بار ارادہ کر کے
میں جسے اپنی محبت کی اکائی سمجھا
اس نے تو چھوڑ دیا ہے مجھے آدھا کر کے
اسکی باتوں کے بھروسے پہ کہاں تک جائیں
وہ تو پورا نہیں کرتا کوئی وعدہ کر کے
میں بھی کیا نقش ہوں اَزبر نہیں ہونے پاتا
اور وہ بھول بھی جاتا ہے اعادہ کر کے
وہ جو اک شخص مری مُٹھی میں آ جاتا تھا
کھو دیا میں نے اسے دل کو کشادہ کر کے
کچھ تکلف بھی ضروری ہے رچاؤ کے لئے
زندگی اور بھی مشکل ہوئی سادہ کر کے
میں تو شہپر تھا، ہواؤں میں اُڑا کرتا تھا
شوقِ شطرنج نے مارا ہے پیادہ کر کے
پہلے کاٹا مجھے اِک پیڑ کے پہلو سے سلیمؔ
پھر اُڑایا ہے ہواؤں میں بُرادہ کر کے

Advertisment

Be the first to comment

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.