ٹوٹتے بکھرتے فیصلے ۔۔۔ سلمی جیلانی

ٹوٹتے بکھرتے فیصلے

(سلمی جیلانی)
عجیب درد تھا ۔۔۔ کسی آکاس بیل کی طرح فراز کو نچوڑتا چلا جا رہا تھا ۔ دنوں میں ہی ان کی حالت برسوں کے مریض جیسی ہو چلی تھی ۔ ٹانگ میں کرنٹ کی طرح پھیلنے والے درد کی شکایت تو وہ گزشتہ کئی دن سے کر رہے تھے مگر وائے ری میری مصروفیت ۔ بس آرتھو پیڈک   کے پاس جانے کا مشورہ دیتی اور پھر اپنے حد سے بڑھے ہوئے مصروف روٹین میں غرق ہو جاتی ۔
اسی دوران فراز کے بھائی ڈاکٹر نواز مشرق وسطیٰ سے چھٹیاں گزارنے چلے آئے ۔ انہوں نے جو یہ حال دیکھا تو اپنے ساتھ کسی بڑے سپیشلسٹ کو دکھانے لے گئے جس نے بستر سے ہلنے کو ہی منع کر دیا۔ یہ درد عرق النساء کی انتہائی شکل تھی جوریڑھ کی ہڈی کے سرے کی باریک سی ہڈیوں میں سے ایک کے اپنی جگہ سے ہٹ جانے کی بناء پر پیدا ہورہا تھا ۔
اسپیشلسٹ نے ہدایت کی اگر آرام نہ کیا تو آپریشن ہی آخری حل ہو گا …
’’آپریشن ۔۔۔.. وہ کیسے ہو سکتا ہے‘‘ ۔ابا جی جو آنگن میں لگے پودوں کو پانی دینے میں مصروف تھے چونک کر بولے …’’نہیں نہیں …ابا جی ہم کوئی اور بات کر رہے ہیں ۔۔۔..میں آرام کرلوں گا’’ فراز گھبرا گئے ۔ابا جی کا کہا ٹالنا انہوں نے سیکھا ہی نہ تھا .. حالانکہ سبھی واقف تھے۔ آرام ان کے بس کی بات نہیں ۔ان کی بے چین طبیعت اور تین بچوں کے باپ ہونے کی ذمہ داری جس میں عمو تو ابھی صرف چھ ماہ ہی کا تھا ۔۔۔ ہر وقت ادھر ادھر بھگائے رکھتا۔ پھر دکان بھی مستقل بند نہیں کی جا سکتی تھی ۔ غرض یہ کہ فراز کی بستر پر لیٹ کر درد بھگانے کی کوشش بری طرح ناکام ہو گئی تھی اور ان کی تکلیف میں روزافزوں اضافہ ہو رہا تھا ۔
ان کی بیماری نے مجھے بھی گھن چکر بنا کر رکھ دیا ۔ کام کا دباؤ اور پریشانی حد سے زیادہ بڑھ گئی ۔دونوں بچیوں کوکبھی رکشے اور کبھی ٹیکسی سے سکول پہنچاتے ہوئے خود اپنے سکول جاتی جہاں پچھلے کئی سال سے ٹیچر کے فرائض نبھا رہی تھی ۔ننھے عمو کو گھر پر ساس کی نگرانی میں ایک ماسی کے حوالے کر جاتی ، کریانے کی دکان سے برائے نام ہی آمدنی رہ گئی تھی ۔گو ہمارا پرانا اور وفا دار ملازم اچھی طرح چلانے کی اپنی سی کوشش کر رہا تھا ۔
آج بھی کلاس کے بعد سر جھکائے بچوں کا ہوم ورک چیک کرنے میں لگی تھی ۔۔۔. میرے چہرے پرپریشانی کے آثار کھلی کتاب کی مانند آسانی سے پڑھے جا سکتے تھے۔
اگر چہ میری لیے دیئے رہنے کی عادت ہر جگہ آڑے آ جاتی لیکن پھر بھی سینئر ٹیچر مسز رفعت سے رہا نہ گیا۔ وہ بے اختیار بول اٹھیں ’’میں کئی دن سے نوٹ کر رہی ہوں سیما کہ تم کافی پریشان ہو۔۔۔.کیا بات ہے‘‘۔ اپنے سامنے کسی ہمدرد کو پا کر تو جیسے ضبط کے سارے بندھن ٹوٹ گئے اور میں نے پھپک کر رونا شروع کر دیا ۔مسز رفعت نے مجھے پانی پلایا ۔جب حالت ذرا سنبھلی تو فراز کی تکلیف دہ کیفیت ان کے گوش گزار کی۔
وہ پریشان ہو کر بولیں “سیمااگر ڈاکٹر نے آپریشن تجویز کیا ہے تو اس میں دیر نہ کرو …میں تمہیں اس لئے کہہ رہی ہوں کہ میرے ایک قریبی عزیز کی با لکل ایسی ہی حالت تھی ۔جب تشخیص ہوئی تو معلوم ہوا …ریڑھ کی ہڈی میں کینسر تھا وہ بھی آخری اسٹیج پر‘‘۔
’’ اوہ ۔۔۔. خدا نہ کرے ‘‘۔ میں تو اوربھی گھبرا گئی اور سکول سے  چھٹی ہوتے ہی بچیوں کو لے کر سیدھی ان کے بتائے ہوئے فلاحی ہسپتال جا پہنچی۔۔۔ اتفاق سے اس دن مطلوبہ سپیشلسٹ اپنی سیٹ پر موجود تھا ۔ فرانس سے ڈگری یافتہ نہایت ماہر سرجن اور انسان دوست شخص نے میری روئیداد ہمدردی سے سنی اور اسی دن ایم آر آئی کروانے کی ہدایت کی جس کے لئے پچیس ہزار روپے درکارتھے ۔
میں نے گھر آ کر جلدی جلدی الماری کی درازوں اورکچن میں مصالحوں کے ڈبوں کے پیچھے خفیہ خانے کی تلاشی لی جہاں آڑے وقتوں کے لئے بچا کر پیسے چھپانے کی عادت کام آ گئی ، پچیس ہزار سے کچھ زیادہ ہی تھے اور یوں اٹکا ہوا سانس بحال کیا۔
مگر اگلا مرحلہ اس سے بھی مشکل تھا یعنی فراز کو ایم آر آئی کے لیے تیار کرنا تھا۔ وہ بھی اس طرح کہ ابا جی کو پتا نہ چلے کہ میں کسی آپریشن کی تیاری میں ہوں ۔لیکن وہ تو باہر برآمدے میں ہی براجمان رہتے ۔ان سے بھلا یہ سب کیسے چھپ سکتا تھا۔
شام کا جھٹپٹا پھیل رہا تھا ڈاکٹر کے اپائنٹمنٹ کا وقت قریب آ رہا تھا اور میری حالت فراز سے زیادہ دگرگوں تھی۔ کبھی کوئی راز داری برتنے کی عادت جو نہ تھی یہ بات نہ تھی کہ میں نے کبھی گھر والوں کی مرضی کے خلاف کوئی کام ہی نہ کیا تھا۔ ابھی پچھلے ماہ ہی چار سال کی ندا سیڑھیوں سے گر گئی اور اس کا ہونٹ پھٹ گیا۔ میں نے ڈاکٹر کے یہاں لے جانے کی ضد کی تو سب یک زبان ہو کر لگے روکنے۔ مگر میں نے ایک نہ سنی تھی اور بچی کو ایمرجینسی میں ہسپتال لے گئی تھی جہاں اس کے دو ٹانکے لگے تھے ۔ بس میری انہی حرکتوں کی وجہ سے محلے اور خاندان بھر میں ضدی اور ہٹ دھرم مشہور ہو گئی تھی
’’ ارے بہو کہاں جا رہی ہو اس وقت‘‘۔ رکشہ دروازے پر کھڑا دیکھ کر ابا جی حسب توقع اپنی پاٹ دار آواز میں وہیں سے چلائے اور میرے پراگندہ خیالات کا تسلسل ٹوٹ گیا
’’ کہیں نہیں۔۔۔. ابا جی آپ ہی کے بتائے ہوئے حکیم صاحب کے پاس لے جا رہی ہوں فراز کو‘‘۔
’’اس وقت .؟…وہ تو صرف دن میں مطب کھولتے ہیں‘‘۔ خود ہی کچھ اور یاد آ جانے پر توقف کر کے پھر گویا ہوئے ” ابھی تو میز بھری ہوئی ہے دواؤں سے ۔۔۔ پیسے ضائع کرنے کا بہت شوق ہے ۔۔۔پہلے وہ تو ختم ہو جانے دو ” ان کی باریک بین نظروں سے تو سوئی بھی اوجھل نہیں رہ سکتی تھی ۔پھر بھلا دو افراد کیسے چھپ سکتے تھے ، وہ اور بھی جانے کیا کیا کہہ رہے تھے ، مگر میں کان دبائے کمرے میں چلی آئی ۔۔۔۔۔۔مجھ پر نظر پڑتے ہی ۔۔۔ فراز کا پارہ بھی جیسے ہوا سے باتیں کرنے لگا ۔۔۔ تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے ۔۔۔ میں بستر سے ہلنے کے قابل نہیں اور تم مجھے رکشے میں گھسیٹ رہی ہو … میں کہیں نہیں جاؤں گا۔۔۔.. سنا نہیں تم نے” ۔۔۔..ان کے لہجے کا روکھا پن بڑھتا ہی جا رہا تھا ” بڑے بھیا نے کیا کہا تھا ۔۔۔ آرام کروں گا تو سب ٹھیک ہو جائے گا ” وہ درد سے چلا رہے تھے لیکن زبان کی تیز دھار مجھے چھلنی کئے جا رہی تھی ۔۔۔ مگر ان کی حالت دیکھتے ہوئے خون کے گھونٹ پی کر خاموش تھی۔ پر دل میں سوچ رہی تھی ۔۔۔ ذرا ٹھیک ہو جاؤ دیکھنا کیسی خبر لوں گی ۔۔۔مگر انہیں پرسکون کرنے کی کوئی بروقت تدبیر نہ سوجھنے پر جھنجلاہٹ سی طاری ہو گئی تھی۔ “اف خدایا۔۔۔. کیا کروں ، ابھی اسی شش و پنج میں تھی کہ نازیہ میری نند نے دروازے سے جھانکا ۔ وہ بھائی کی عیادت کو ہی آئی تھی۔
اسے دیکھ کر کچھ جان میں جان آئی ایک تو فراز اسی کی بات مان لیتے تھے اور دوسرے اس کی گاڑی میں انہیں قدرے آرام سے لے جایا جا سکتا تھا میں نے جلدی سے آگے بڑھ کر نازیہ کے ڈرائیور کے ہاتھ میں دس روپئے تھمائے ہوئے رکشے والے کو دینے کی ہدایت کی ۔
’’ بیبی صہیب کا ارادہ نہیں جانے کا ۔۔۔. مڑا توم اپنا رکشہ لے جاؤ‘‘۔
رکشے والے نے ایک نظر نسیم جان کے بھاری بھر کم سراپے پر ڈالی اور پھر مجھے غصیلی نگاہوں سے گھورتے ہوئے رکشہ آگے بڑھا لیا
.۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خدا خدا کرکے ایم آر آئی کا مرحلہ نمٹا اورفوراً ہی رپورٹ سرجن تک پہنچ گئی
سرجن زیب نے خاصے پریشان کن انداز میں آگاہ کیا ” ہڈی بہت تیزی سے نسوں کو کاٹ رہی ہے اور اگر فوری آپریشن نہ ہوا تو ایک دو دن میں ہی ٹانگ فالج زدہ ہو جائے گی اور فراز ہمیشہ کے لئے معذور ”
’’ یہ نہیں ہو سکتا‘‘۔ میں نے بے تابی سے ان کی بات کاٹتے ہوئے خود کلامی کے انداز میں کہا ۔۔۔ابھی ان کی عمر ہی کیا ہے بمشکل پینتیس سال اور ہمیشہ کی معذوری ، میرے والد نے بھی برسہا برس فالج کی حالت برداشت کی … ہم بچوں نے باپ کے ہوتے ہوئے یتیمی کی زندگی گزاری اور اب میرے بچے بھی وہی سب کچھ جھیلیں ۔۔۔ میں فکر کی گہری وادی میں ڈوب گئی تھی۔
’’مسز فراز میں آپ کی پریشانی سمجھ سکتا ہوں۔۔۔ ۔۔۔.صبح اگرچہ اتوار ہے پھر بھی خاص طور پر آپریشن کا انتظام کر لیا جائے گا ۔۔۔.آپ بس بیس ہزار روپئے لے کر آ جایئے۔ باقی پیسے ایک دو دن میں دے دیجئے گا ” انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا
’’ ہسپتال چونکہ فلاحی بنیادوں پر چلتا ہے اس لئے میں اپنی فیس بھی نہیں لے رہا ہوں ‘‘ سرجن زیب نے تسلی آمیز لہجے میں کہتے ہوئے آپریشن سے پہلے کی بقیہ ہدایات دینا شروع کر دیں ۔
بڑی مشکل سے خود کو گھسیٹتی درد سے نڈھال فراز کو کندھے کا سہارا دیئے گھر لا کربستر پر لٹا یا
ان کی فلک شگاف چیخوں نے سارا گھر سر پر اٹھا لیا تھا …
میں نے انہیں تسلی دینی چاہی مگر چہرے پر پھیلے کرب کے صحرا نے جیسے ساری توانائی سلب کر لی اور الفاظ ریت کے ذروں کی طرح ہواؤں میں بکھر گئے
بچے الگ سہمے ہوئے کونے میں بیٹھے تھے ۔صرف چھوٹا عمو زندگی کی پیچیدگیوں سے بے نیاز ماں کا دودھ مانگ رہا تھا …
وہ سب گھیرا باندھے ان کے بستر کے گرد جمع ہو گئے تھے
’’کیا کہا … ایمر جینسی آپریشن۔۔۔ ہر گز نہیں ہو گا .. ہم ابا جی کی مرضی کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھا سکتے‘‘۔ڈاکٹر نواز نے زوردے کر کہا ،” مرض دور کرنے کے اور بھی طریقے ہیں… فزیو تھراپی کرائیں گے یا پھرچائنیز ایکو پکنچر سے بھی ٹھیک ہو جاتا ہے آپ خواہ مخواہ مرض کو بڑھا رہی ہیں ‘‘۔
’’ ارے نواز بھائی۔۔۔. آپ تو خود ڈاکٹر ہیں ۔ایم آر آئی کی رپورٹ دیکھ کر بھی ایسی باتیں کر رہے ہیں ”
میں جو ان سے ضرورتاً بات کرتی تھی تڑپ کر بول اٹھی ۔۔۔..بھابی ثمینہ بھی اپنے میاں کی ہاں میں ہاں ملانے لگیں۔۔۔.. ان کی باتوں کی سن گن ابا جی کو بھی لگ چکی تھی ۔۔۔. کڑک دار آواز میں حکم صادر کرتے برآمدے میں آن موجود ہوئے ۔’’ اس گھر میں کوئی آپریشن کا نام بھی نہ لے۔۔۔میں اپنے بچے کو کٹنے کی اجازت ہرگز نہیں دے سکتا‘‘۔
اب ایک طرف تو فراز کی درد سے بے حال چیخیں اور دوسری طرف سسرالی رشتہ داروں کی ملامت بھری آوازیں۔
میرا سر چکرانے لگا قریب تھا کہ غش کھا کر گر جاؤں مگر یکایک جانے کہاں سے ہمت آ گئی جو ایسے موقعوں کے لئے ہی کہیں سے نمودار ہو جاتی تھی اور قدرے بلند آواز میں بولی ’’ ابا جی کا کہا پتھر کی لکیر نہیں ۔۔۔.. میں اپنے شوہر کو محتاج نہیں ہونے دوں گی‘‘۔میرا لہجہ باغیانہ تھا
میری ساس مجھ سے بھی زیادہ زور سے چیخیں “خدا نہ کرے۔۔۔. میرا بیٹا کیوں ہوتا معذور ، تمہارا منحوس سایہ پڑ گیا میرے بیٹے پر۔۔۔ پہلے اپنے باپ کو کھا گئیں ’’انہوں نے اپنا روایتی جملہ دہرایا اوربچوں کی طرح بھاں بھاں رونے لگیں ، گھر میں عجیب افراتفری کا ماحول پیداہو گیا تھا ۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے نادان دوستوں نے اپنے ہی فرزند کو زندگی بھر کے لئے ناکارہ کرنے کی ٹھان لی ہو۔ ان سب میں ایک نازیہ ہی سب سے معقول بات کررہی تھی حالانکہ وہ صرف میٹرک پاس تھی ۔۔۔
” خدا کے لئے آپ سب خاموش ہو جائیں ‘‘۔وہ زور سے چلائی اور میری طرف دیکھتے ہوئے بولی ” بھابی ! ایک تو آپ بولتی بہت ہیں ” پھر مجھے ایک طرف لے جاتے ہوئے سرگوشی کی ” میں انہیں سنبھال لوں گی ۔۔۔.بس ابھی آپ بچوں کولے کر اندر چلی جائیں ‘‘۔
’’ ضد کی بھی انتہا ہو گئی ہے ‘‘ میں نے غصے سے زیر لب بڑبڑاتے ہوئے برآمدے کے کونے میں سہمے ہوئے بچوں کو دونوں بازوؤں میں بھرا اور کمرے میں لا کر اندر سے کنڈی لگا لی اور انہیں پر سکون کرنے کی ناکام کوشش کرنے لگی ، ندا اور آنیا میری چار اور پانچ سالہ بچیاں مجھ سے لپٹی سسک رہی تھیں۔
دروازے زور سے دھڑ دھڑ ا یا گیا … بچیوں کو اپنے سے الگ کرتے ہوئے میں نے آگے بڑھ کر دروازہ کھولا ۔
میری طرف دیکھے بغیر نواز بھائی اندر آئے اور فراز کو انتہائی درجے کے طاقت ور درد کشا انجکشن دے کر پاؤں پٹختے واپس پلٹ گئے … برآمدے میں باتوں کی آوازیں اب مدھم ہو چلی تھیں ۔ میں نے انہیں کروٹ دلائی کہ شاید درد کی شدت میں کسی طرح کمی ہو سکے اور صدمے اور رنج سے گنگ ہو گئی۔ ان کی ٹانگ پر سے گوشت بلکل ختم ہو چکا تھا اور یوں لگتا تھا جیسے کسی مردہ انسان کی ٹانگ کو ساتھ جوڑ دیا گیاہو ، جلدی سے رضائی کو ان کے گرد اچھی طرح لپیٹ دیا۔ گویا تھوڑی دیر کو حقیقت کی دنیا سے فرار حاصل کرنے کی سعی کی ۔
کوئی گھنٹہ بھر بعد دروازے پر نواز بھائی نے پھر دستک دی میں نے دروازہ کھولے بغیر بستر پر لیٹے ہوئے وہیں سے پوچھا “جی ۔۔۔.بچوں کو سلا رہی ہوں …آپ بتا دیجئے کیا بات ہے؟‘‘۔
’’ اچھا … ٹھیک ہے …ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ آپریشن ہونا چاہئے لیکن میری مرضی کے سرجن سے جو اگلے ہفتے عمرہ سے ان کی واپسی پر ہو گا ‘‘۔ڈاکٹر نواز نے دروازے کے دوسری طرف سے کہا ان کی تیزآواز میں غصے کا ارتعاش صاف محسوس ہو رہا تھا ۔
میں پھر اپنی بچی کچی ہمت جمع کر کے بولی ” لیکن تب تک تو بہت دیر ہو جائے گی کہیں نرو کٹ گئی تو کیا ہوگا ۔۔۔اور ویسے بھی سرجن امتیاز تو بہت مہنگے ڈاکٹر ہیں”
فکر مجھے کھائے جا رہی تھی ۔۔۔۔ مرے مرے الفاظ میں ایک بار پھر اپنی بات کا دفاع کیا لیکن مجھے معلوم تھا کہ وہی ہو گا جویہ ہٹ دھرم لوگ چاہیں گے
دفعتاً ابا جی کی تڑختی ہوئی آواز آئی ۔۔۔.” ہاں تو کیاہوا … وہ بہت اللہ والے ڈاکٹر ہیں ۔تمہاری ضد پر اگر آپریشن ہو رہا ہے تو انہی کے ہاتھ سے ہو گا … ان کے علاج میں بہت شفاء ہے ۔۔۔۔۔۔’’میں نے دل میں سوچا ۔۔۔. اونہہ … اللہ والے تو دیکھو کتنی بھاری فیس وصول کرتے ہیں اور اپنی چھٹیوں سے غرض ہے چاہے اس دوران مریض کی جان ہی کیوں نہ چلی جائے ۔۔۔. لیکن کچھ بولی نہیں بس دل میں کڑھ کر رہ گئی ۔۔۔. چلواس بات پر تو رضا مند ہوئے۔
اب مجھے اس ناگہانی مالی افتاد سے نمٹنا تھا، اگلے تین دنوں میں آپریشن کے لئے بھاری رقم کا انتظام کرنا بھی آسان نہ تھا ۔ کسی سے ادھار لے لوں ۔۔۔ پہلے سوچا لیکن اتنے سارے پیسے وہ بھی اس مختصر نوٹس پر کون دے گا بھلا ۔۔۔.. میں نے اپنوں کی خود غرضی کاایسا بھیانک روپ دیکھ لیا تھا کہ رشتے ناتے، خلوص اور محبت جیسے الفاظ اپنا مفہوم ہی کھو بیٹھے تھے ، اسی ادھیڑ بن میں کچھ یاد آیا۔۔۔.. اپنی ڈائری کی طرف لپکی اور ماہانہ بچت کمیٹی کے شیڈول کا صفحہ تلاش کرنے لگی ۔۔۔ اف خدایا کیسی بروقت مدد ہو گئی ۔۔۔.. میں نے سوچا ۔۔۔ لیکن ۔۔۔سکول میں دوسری ٹیچرز کے ساتھ مل کر ڈالی جانے والی بچت کمیٹی میں میرا اگلا نمبر تھا ۔۔۔.. اگر کسی طرح مسزشفاعت اس ماہ اپنی کمیٹی مجھے دے دیں ۔۔۔ ان کی یاد آتے ہی میری آنکھوں میں امید تارہ بن کر جھلملانے لگی ۔۔۔.
مسز شفاعت جو ہمیشہ مجھے چھوٹی بہنوں کی طرح عزیز رکھتی تھیں آج کیسے بدلی بدلی لگ رہی تھیں
” سیما … میں تمہیں یہ کمیٹی دے دیتی لیکن دیکھو جو نیاکچن بنوایا ہے اس کی قسط دینی ہے ” وہ ہچکچا کر بولیں ۔۔۔. اس سے پہلے کہ وہ مزید کچھ کہتیں میں ان کے دروازے سے واپس پلٹ آئی ۔۔۔ ناامیدی کے اندھیرے میری آنکھوں کے آگے کسی سیاہ پردے کی طرح تن گئے ۔۔۔۔۔۔. بھاری قدموں سے رکشے میں بیٹھی اور ڈرائیور کو واپسی کا اشارہ کیا ۔
رکشہ سے اتر کرکرایہ دینے کے لئے بیگ میں ہاتھ ڈالا تو کسی نے پیچھے سے آ کر میرا ہاتھ پکڑ لیا۔۔۔. ” ارے ۔۔۔ آپ”
” ہاں ۔۔۔. میں” یہ مسز شفاعت تھیں ۔۔۔ چلو اندر چلتے ہیں۔
ہفتہ بھر بعد فرازکا آپریشن کامیابی سے ڈاکٹر امتیاز کے ہاتھوں انجام پا گیا ۔درد کی جڑ نکل جانے کے بعد وہ کچھ ہی دنوں میں چاق و چوپند ہو گئے مگر ٹانگ میں لنگ آگیا تھا ۔۔۔۔۔۔ آپریشن میں دیر ہونیکی وجہ سے کچھ نسیں جزوی طور پر متاثر ہو چکی تھیں لیکن یہی کیا کم تھا کہ وہ ہمیشہ کی معذوری سے بچ گئے تھے۔
فراز سمیت ہم سب ہی خوش تھے سوائے ایک شخص کے اور وہ تھے ابا جی ۔۔۔. جو برآمدے میں بیٹھے فراز کی صحت یابی کی مبارکباد کو آنے والے محلہ داروں کو باور کرا رہے تھے۔
“دیکھا ۔۔۔… میں نہ کہتا تھا آپریشن مت کراؤ لیکن بہو کی ضد نے ہمارے بیٹے کو ہمیشہ کے لئے لنگڑا کردیا “۔
میں نے چائے بناتے ہوئے کچن کی کھڑکی سے برآمدے میں جھانکا ۔
ابا جی کی آرام کرسی کے پرے لکڑی کی ہلکی سی عصا تھامے پورے قد سے کھڑے فراز کو دیکھ کر میرا دل اطمینان سے بھر گیا … ان کی ممنونیت بھری مسکراہٹ کے جواب میں زیر لب مسکرا کرپردہ گرا دیا۔

Advertisment

Be the first to comment

Share your Thoughts: