غزل ۔۔۔ سلطنت قیصر

غزل

(سلطنت قیصر)

بے خبر دوستوں سے دور رہوں

کیوں نہ سب الجھنوں سے دور رہوں

رنگ سے ، موسموں سے دور رہوں

کس طرح بارشوں سے دور رہوں

کان آہٹ پہ رکھ کے لوٹ آوں

اور پھر دستکوں سے دور رہوں

زرد پتوں کی بارشوں میں پھروں

اور ترے راستوں سے دور رہوں

آیئنوں میں اچھال دوں آنکھیں

اور پھر آیئنوں سے دور رہوں

Advertisment

Be the first to comment

Share your Thoughts: