غزل ۔۔۔ سرمد صہبائی

Sarmad Sehbai is a brilliant Pakistani poet, playwright, film and theatre director, worked in Urdu, Punjabi and English.  He always provokes extreme reactions: you either hate him or adore him. Indifference towards his work is almost impossible.

غزل

 

(سرمد صہبائی)

بناتی ہے نظر تصویرِ آب آہستہ آہستہ
کہ ہے پھر تشنگی محوِ سراب آہستہ آہستہ
اکیلی شام یوں گلیوں مکانوں سے گزرتی ہے
پھرے سینے میں جیسے اضطراب آہستہ آہستہ
تری کھڑکی پہ تجھ کو دیکھنے جب رات رکتی ہے
گزرتا ہے گلی سے ماہتاب آہستہ آہستہ
شبِ تنہا نجانے میں کسے آواز دیتا ہوں
نجانے کون دیتا ہے جواب آہستہ آہستہ
ترے ہوتے ہوئے دنیا کا ہم کو غم نہ تھا لیکن
ہوا پھر ایک یہ غم بے حساب آہستہ آہستہ
ہمیں مرنے کی خواہش اور وہ مرنے نہیں دیتا
عجب ظالم ہے دیتا ہے عذاب آہستہ آہستہ

اڑاتا ہے مجھے رخش جنوں دوش قیامت پر

کہ برق تیز تر ہے ہمرکاب آہستہ آہستہ

کسی کے پرتو دیدار سے رنگیں ہوئی چلمن

پلک بنتی رہی اک تار خواب آہستہ آہستہ
کہاں ہم اور کہاں یہ عالمِ سحر بیاں سرمد
کوئی پڑھتا ہے اِس دل کی کتاب آہستہ آہستہ

Advertisment

Be the first to comment

Share your Thoughts: