پومپیائی ۔۔۔ شاھین کاظمی

Shahin Kazmi, is a Pakistani fiction writer based abroad. She has made sense of fascinating feelings and problems of women with creativity in such a way that gender discrimination does not happen, and the reader feels it on pure human level.

پومپیائی

( شاہین کاظمی )

’’ میں جانتی ہوں وہ زندہ ہے’‘ لڑکی ہذیانی انداز میں چیخ رہی تھی۔

آگسٹینا بھاگ کر اندر آئی اور اُسے دونوں بازوؤں میں جکڑ لیا آج پھر اُس پر دورہ پڑا تھا۔ وہ چیختے چیختے نڈھال ہوئی جا رہی تھی۔ زیریں اطالیہ سے کچھ دور سیسیلیئن چینل میں ایک چھوٹے سے جزیرے پر ماہی گیروں کا یہ قبیلہ صدیوں سے آباد تھا۔ یہ لڑکی انھیں چند ماہ قبل ساحل پر بہت اَبتر حالت میں ملی تھی اِس کا بچہ اِس کے پیٹ میں مر چکا تھا بدن میں تیزی سے پھیلتے ہوئے زہر کو روکنے کے لئے جزیرے کے حکیم کو بہت محنت کرنی پڑی۔ وہ ٹھیک تو ہو گئی لیکن اس کی ذہنی حالت اب بھی خاصی ابتر تھی بیٹھے بیٹھے چیخنے لگتی۔ اس کی نگاہوں میں ایک نہ ختم ہونے والی کھوج تھی جو اسے بے چین کئے رکھتی۔ الفانسو اپنے قدیم جڑی بوٹیوں کے نسخوں سے اس کا علاج جاری رکھے ہوئے تھا اس کی حالت میں بتدریج سدھار آ نے لگا۔ الفانسو کی بیٹی آگسٹینا اس کا بہت خیال رکھتی اِسی نے اُسے اسٹرینیو(اجنبی) کا نام دیا تھا

’’آگسٹینا مجھے جانا ہو گا مجھے اُسے ڈھونڈنا ہے’‘

آگسٹینا لکڑی کے مرتبان میں سوکھی مچھلیاں بھر رہی تھی کہ اسٹرینیو اندر آ گئی۔

’’کسے ڈھونڈنے جانا ہے’‘ آگسٹینا نے اس کی طرف دیکھا، آج اس کی آنکھوں میں وحشت کی جگہ تفکر اور ٹھہراؤ تھا۔

’’ آر مینڈو کو’‘ وہ بہت آہستگی سی بولی۔

’’کون آرمینڈو؟’‘

لمحہ بھر کو آنکھوں میں پھر وحشت جاگی لیکن جلد ہی اس نے خود پر قابو پا لیا۔

’’ میرا آرمینڈو’‘ عجیب سا جواب آیا تھا۔

’’تم اسے ڈھونڈنے کہاں جاؤ گی کون جانے وہ زندہ بھی ہے یا نہیں’‘

’’نہیں میں جانتی ہوں وہ زندہ ہے’‘ آج پہلی بار آگسٹینا کو اس جملے کی سمجھ آئی تھی۔

’’وہ پومپیائی ہی میں ہو گا’‘

’’لیکن تم کہاں سے شروع کرو گی پومپیائی تو ختم ہو چکا’‘ آگسٹینا کے لہجے میں دکھ تھا۔

’’میں اپنی کھوج وہیں سے شروع کروں گی جہاں اسے کھویا تھا’‘

’’ تمہاری حالت ٹھیک نہیں ہے اور پھر تم وہاں اکیلی کیسے رہو گی’‘ آگسٹینا فکر مند تھی۔

ََ ’’اکیلی کب ہوں گی آرمینڈو ہو گا نا وہاں۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے یقین ہے وہ وہاں میرا انتظار کر رہا ہو گا’‘

سب نے اسے روکنے کی بہت کوشش کی الفانسو نے بہت سمجھایا لیکن وہ اپنی بات پر اَڑی رہی۔

“ٹھیک ہے کچھ دنوں بعد ایک جہاز اس طرف جا رہا ہے تم چاہو تو ان کے ساتھ جا سکتی ہو”

آگسٹینا نے ہار مان لی۔ گو کہ وہ اس کے جانے سے خوش نہیں تھی اتنے عرصے میں اُس سے ایک اُنسیت سی ہو گئی تھی۔

لوینیا نے آئینے میں آخری بار اپنا تنقیدی جائزہ لیا ایک دلکش مسکراہٹ اس کے لبوں پر بکھر گئی۔ مشاطہ نے بہت خوبصورتی سے اسے سنوارا تھا۔ سنہری بالوں کی دو باریک چوٹیاں گوندھ کر باقی بالوں کو بہت ڈھیلے ڈھالے انداز میں ان میں جکڑ دیا گیا تھا۔ جنگلی بیروں سے نکالے ہوئے رنگ سے سجے ہونٹ اور آنکھوں میں بسا کاجل جیسے لَو دے دے رہا تھا۔ وہ آئینہ ایک طرف رکھ کر اپنا لمبا لبادہ سنبھالتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئی اور پاس پڑا ہوا جنگلی پھولوں سے بنا تاج سر پر رکھ لیا۔

باہر کاسٹانیٹ(castanet) اور اوریگانیٹو(oreganetto)( قدیم اطالوی ساز) کی تھاپ پر رقص جاری تھا، بیچ بیچ میں کاپیلو نے ( ڈھول کی ایک قسم) کی تیز آواز ابھرتی تو ایڑیوں کا ردہم تبدیل ہو جاتا۔ نوجوان جوڑے چست لباس پہنے لکڑی کی بھدی میزوں کے درمیان تھرکتے پھر رہے تھے۔۔ لڑکوں کے ہاتھوں میں سیب اور انگور کی شراب سے بھرے گلاس تھے جنہیں وہ نہایت مشّاقی ایک سے دوسرے ہاتھ میں منتقل کرتے ہوئے ساتھی لڑکیوں کو بھی سنبھالے ہوئے تھے۔۔

ٓآرمینڈو سامنے پڑی ہوئی لکڑی کی بڑی سی قاب میں رکھی بھنی ہوئی ران سے گوشت کے پارچے الگ کر رہا تھا۔ دوسری قاب میں تیز مصالحے والی مچھلی اور اُبلی ہوئی سیپیاں رکھی تھیں۔۔ اچانک ہی موسیقی کی تیز آواز خیر مقدمی دھن میں بدل گئی۔ رقص میں شامل لڑکے لڑکیاں تیزی سے دائیں بائیں اطراف میں سمٹنے لگے۔۔ لوینیا اپنی خادماؤں کے جلو میں شادی کے پنڈال میں داخل ہو رہی تھی۔ اُس کے آگے آگے ہاتھوں میں پھولوں کی ٹوکریاں تھامے رنگ برنگ کپڑوں میں ملبوس بچیاں تھیں۔۔ دو خادماؤں نے لوینیا کا لمبا حریری لباس تھاما ہوا تھا۔

آر مینڈو نے تیزی سے ہاتھ صاف کئے اور پنڈال کے وسط میں آ گیا۔ چست لباس اور سرخ کمر بند میں اس کا دراز قد نمایاں ہو رہا تھا۔ اُس نے جھک کر لوینیا کا ہاتھ تھاما اور داہنے پاؤں پر گھوم کر اسے بانہوں میں بھر لیا اُس کی ایڑیاں بلند آواز سے فرش سے ٹکرائیں اطراف میں کھڑے لڑکے لڑکیوں نے جیسے ہوا میں تیرتے ہوئے رقص کے زاویے بنانے شروع کر دئیے۔۔ کاپیلو نے کی تیز تھاپ اور اویگانیٹو کی مخصوص آواز تھرکتے قدموں کو مہمیز کر رہی تھی رقص میں تیزی آتی گئی۔

وہ ایک خوبصورت اور چمکدار دن تھا۔ نیلے آسمان پر تیرتے ہوئے روئی کے گالوں جیسے سفید بادل بہت بھلے لگ رہے تھے۔۔ ہوا میں ہلکی ہلکی تمازت اور جنگلی پھولوں کی مہک رچی ہوئی تھی۔ خلیج نیپلز کے نقرئی پانیوں پر ڈولتی کشتیاں دور آسمان کی وسعتوں میں اُڑتے سفید پرندے اور فضا میں پھیلا ہوا جادوئی سکوت رگ و پے میں ایک عجیب سا سرور بھر رہا تھا۔

آرمینڈو نے لوینیا کو پہلی بار موسمِ بہار کے اوائل میں شراب کے ایک تہوار میں دیکھا تھا۔ شہر کے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں انگوروں کو پاؤں سے کچلنے کے لئے مدعو تھے یہ عام تاثر تھا کہ انسانی جلد کا لمس شراب کا ذائقہ اور رنگت نکھارتا ہے۔۔ آرمینڈو نے اُ سے دیکھا تو دیکھتا ہی رہ گیا۔ لوینیا کی بھوری آنکھوں میں جانے کیسا سحر تھا کہ آرمینڈو چاہتے ہوئے بھی اُس سے نظریں نہیں ہٹا پایا۔ لوینیا بھی بے اختیار اُس کی طرف کھنچی چلی آئی، گذرتے موسموں نے اِن کی محبت کو ایک انوکھی جاذبیت بخشی تھی۔

آرمینڈو نے باقاعدہ طور پر لوینیا کے باپ اَلبرٹو سے بات کی۔ اُس نے اس شرط پر رشتہ منظور کیا کہ آرمینڈو اپنی ذاتی کشتی خرید لے۔۔ لوینیا اُس کی بہت نازو نعم میں پلی اکلوتی اولاد تھی وہ چاہتا تھا کہ آرمینڈو کی اپنی الگ سے پہچان ہو۔ البرٹو کا شمار شہر کے رئیس لوگوں میں ہوتا تھا۔ خلیج نیپلز میں اس کے دو جہاز مچھلی پکڑنے میں مصروف رہتے تھے ہر کولینیم، پومپیائی اور قرب و جوار میں ایک بڑی منڈی اس کی مچھلیوں کی منتظر رہتی تھی۔ شہر کے وسط میں بنا ہوا پختہ اکھاڑا اور اس کے ساتھ ہوسٹل جوگلیڈیئیٹرز(gladiators) کی رہائش گاہ اور اُن کی تربیت کے لیے مشہور تھا اُسی کی ملکیت تھے۔۔ آمینڈو کا باپ ایک معمولی کاشت کار تھا۔ ویسویئس(vesuvius اٹلی کا مشہور زمانہ آتش فشاں پہاڑ) کے دامن میں نہایت زرخیز زمین پر اُس کا انگوروں کا ایک چھوٹا سا باغ تھا اور اُس کے ساتھ ہی شراب بنانے کا ایک کارخانہ۔ آرمینڈو کے باپ کے لیے البرٹو سے رشتہ داری جڑنا بہت اعزاز کی بات تھی اُس نے بخوشی آرمینڈو کو کشتی خریدنے کے لئے رقم فراہم کر دی۔

آج کی شاندار دعوت کا انتظام بھی البرٹو نے ہی کیا تھا وافر مقدار میں بھنا ہوا نمکین گوشت، تیز مصالحے والی روایتی مچھلی، تازہ پھل، شراب، اور اُبلی ہوئی سیپیوں کے ساتھ نان نما روٹی موجود تھی۔

جیسے ہی چاند ویسویئس کے بلند پہاڑ کی داہنی طرف سے نمودار ہوا آرمینڈو نے لوینیا کا ہاتھ پکڑا اور اُس کے باپ سے جانے کی اجازت چاہی۔ گھاٹ پر اُس کی نئی کشتی تیار تھی۔ دونوں کو شادی کی پہلی رات کچھ دوری پر واقع ایک چھوٹے سے جزیرے پر گذارنا تھی جو نجانے کب آتش فشانی عمل کے نتیجے میں معرض وجود میں آیا تھا اور دیوتاؤں کی آماجگاہ تصور کیا جاتا تھا۔ دو نئے چاند نکلنے تک لوینیا کو وہاں رہنا تھا جبکہ آرمینڈو صرف دن کی روشنی میں ہی وہاں رہ سکتا تھا۔ یہ زمانوں سے چلی آ رہی ایک ایسی ریت تھی جو ہر نئے شادی شدہ جوڑے کو نبھانی پڑتی تھی۔ کہا جاتا تھا کہ نئی نویلی دلہن یہ تنہائی ’’ جونو دیوی’‘ کو خوش کرنے کے لئے اختیار کرتی تھی

چندہفتوں کے بعد جب وہ واپس لوٹے تو بہت خوش تھے۔۔ دیوتاؤں نے ان کی قربانی کو قبول کر لیا تھا لوینیا ماں بننے والی تھی آرمینڈو اُس کا اتنا خیال رکھتا کہ بعض اوقات وہ چڑ جاتی۔

’’میں کیا کروں لوینیا مجھے اچھا لگتا ہے تمہارا خیال رکھنا’‘

آرمینڈو کے لہجے کی بے چارگی لوینیا کو مغرور سا کر دیتی۔

’’آرمینڈو تم کیا چا ہتے ہو لڑکا یا لڑکی’‘

لوینیا نے پیٹ پر بھیڑ کے دودھ سے نکلا مکھن ملتے ہوئے پو چھا۔

’’لڑکی بالکل تمہاری طرح بھوری آنکھوں والی’‘

آرمینڈو کی آواز میں محبت کا رس گھلا ہوا تھا۔

اتنے میں خادمہ شمع دان لئے اندر داخل ہوئی

’’کھڑکی سے پردے ہٹا دو اندھیرا سا ہو رہا ہے’‘

’’ اطاعت سینیو ریتا’‘

’’لیکن باہر بھی ایسا ہی ہے ویسویئس کچھ دنوں سے ناراض ہے دھواں اُگل رہا ہے۔۔ اِس سے اندھیرا سا رہنے لگا ہے’‘

خادمہ نے پردے ہٹاتے ہوئے شمع دان کو چھت میں لٹکے آ ہنی حلقے میں پھنسا دیا۔

دن کا دوسرا پہر تھا پومپیائی کی منڈی کی رونق عروج پر تھی۔ تاجر اپنا اپنا مال فروخت کرنے کے لئے گا ہکوں کو لبھانے میں لگے ہوئے تھے۔۔ صاف ستھری گلیاں زندگی کی آوازوں سے گونج رہی تھیں۔۔ خوبصورت فربہ اندام عورتیں کھلے گریبانوں کے ساتھ ہر آنے جانے والے کو تاڑتے ہوئے فحش اشارے بازی میں مصروف تھیں۔۔ بازار کے بیچوں بیچ کئی جگہوں پر لونڈے لپاڑے اور مالدار ٹھرکی بوڑھے شراب کے نشے میں دھت جواء کھیلتے ہوئے آزادی سے ایک دوسرے کو گندی گالیوں سے نواز رہے تھے

اچانک زمین نے ہلکے ہلکے لرزنا شروع کر دیا لوگوں میں گھڑی بھر کے لئے ہلچل سی مچی لیکن چند لمحوں سب پر سکون ہو گئے۔۔ ایسا اکثر ہوتا تھا۔ ویسویئس جب چاہتا تھا چنگھاڑنے لگتا تھا اس کی چنگھاڑ بادل کی گھن گرج سے زیادہ نہیں ہوتی تھی مگر آج اس نے چنگھاڑ کے ساتھ گہرا سیاہ دھواں بھی اگلنا شروع کر دیا جو لمحہ بہ لمحہ بڑھتا جا رہا تھا۔ آرمینڈو گھاٹ پر ہر کولینیم سے آئے ہوئے تاجروں کے ساتھ مول تول میں مصروف تھا ویسویئس کے سر پر پھیلا ہوا دھویں کے بادل کا بڑھتا حجم دیکھ کر اس نے بات مختصر کی اور گھر کی طرف بھاگ پڑا جانے کیوں اِس کا دل بہت تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ زمین ایک بار پھر شدت سے لرزی ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے کوئی زمین کو پکڑ کر ہلا رہا ہو عمارتیں دائیں بائیں ڈول رہی تھیں ایک ہولناک گڑ گڑاہٹ کے ساتھ ویسو یئس نے دھوئیں کے ساتھ آگ اُگلنی شروع کر دی۔

یہ وہ شہر تھا جو اپنے قحبہ خانوں، جوئے اور عمدہ شراب کے لئے مشہور تھا اس کی پُر شکوہ سنگی عمارتوں پر ہونے والی کاشی کاری اور تصویر کشی اپنی مثال آپ تھی۔ سنگی مجسمے بنانے میں انھیں ملکہ حاصل تھا۔ ظروف سازی میں نیپلز کے کاری گر پوری دنیا میں جانے جاتے تھے۔۔ خوبصورت اکھاڑے، لمبے لمبے ستونوں والی شاندار رہائش گاہیں پل بھر میں تیزی گرتی ہوئی نرم راکھ سے ڈھک گئیں۔۔ ویسویئس کے دہانے سے نکلنے والے دھوئیں اور زہریلی گیسوں نے سورج کو ڈھانپ لیا بوجھل ہوا اور پاؤڈر جیسی مہین راکھ کی وجہ سے سانس لینا دشوار ہو رہا تھا۔

آرمینڈو گھر میں داخل ہوا تو عجیب افراتفری کا عالم تھا لوینیا درد سے کراہتی ہوئی زمین پر لوٹ رہی تھی شاید بچے کی پیدائش کا وقت قریب تھا۔ پورا گھر خالی تھا وقت کی نزاکت کو بھانپ کر تمام خادمائیں کسی پناہ گاہ کی تلاش میں نکل چکی تھیں۔۔ آرمینڈو تڑپ کر آگے بڑھا اور لوینیا کو ہاتھوں میں اٹھانے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا اس نے بستر سے ایک تکیہ اٹھا کر لوینیا کے سر کے نیچے رکھا اور بیرونی دروازے کی طرف لپکا وہ کسی کو مدد کے لئے بلانا چاہتا تھا۔ لوینیا کی بھوری آنکھوں میں چھپے ہوئے درد اور خوف نے اُسے دہلا کر رکھ دیا۔ اچانک زمین ایک بار پھر لرزی اس بار شدت اتنی زیادہ تھی کہ مضبوط سنگی عمارتیں چٹخ چٹخ کر زمیں بوس ہونے لگیں۔۔ ویسویئس نے دھوئیں کے ساتھ ٹنوں کے حساب سے آتشی چٹانیں اور پتھر ہوا میں اچھالنے شروع کر دیئے تھے۔۔ شہر میں کہرام مچا ہوا تھا گہرے اندھیرے میں گرتے پڑتے چیختے چِلاتے ہوئے لوگ اندھا دھند مختلف سمتوں میں بھاگے چلے جا رہے تھے۔۔ آرمینڈو بُری طرح گھبرایا ہوا تھا اس نے بار بار سب سے مدد کی درخواست کی لیکن اس قیامت نے سب کے حواس مختل کر دیئے تھے۔۔ وحشت سے پھٹی آنکھوں میں جنون اُترا ہوا تھا ہر کوئی اپنی جان بچانے کی فکر میں تھا۔ بڑھتی ہوئی حدت اور مہین راکھ نے پھیپھڑوں میں آگ سی بھر دی تھی۔ اچانک زور دار آواز کے ساتھ بڑے کمرے کی شمالی دیوار ڈھیر ہو گئی اس کے ساتھ چھت کا بیشتر حصہ بھی۔ آرمینڈو لوینیا کو دونوں بازوؤں سے پکڑ کر گھسٹتا ہوا باہر صحن میں لے آیا وہ بری طرح ہانپ رہا تھا۔ اِس نے انتہائی بے بسی سے درد اور کھانسی کی شدت سے دوہری ہوتی ہوئی لوینیا کو دیکھا۔۔۔۔۔۔۔ ہوا میں کچھ ایسی چیز شامل ہو گئی تھی جو سینے میں شدید جلن پیدا کر رہی تھی۔۔۔۔۔ ویسو یئس پوری طاقت سے گرج رہا تھا آرمینڈو نے کوئی چارہ نہ پا کر لوینیا کو پیٹھ پر لادا اور گھاٹ کی طرف بھاگ نکلا۔

اندھیرے اور لوگوں کے اژدھام میں راستہ بنانا آسان نہ تھا۔ گلی کے چکنے پتھروں پر بچھی راکھ کی موٹی تہہ نے قدم اٹھانا دشوار کر دیا تھا۔ پانی کی طرح بہتا پسینہ اور لمحہ بہ لمحہ بوجھل ہوتی ہوا۔ آرمینڈو کی اپنی سانسیں اکھڑ رہی تھیں۔۔ اچانک اُسے ایسا لگا جیسے جہنم کے دروازے کھول دئیے گئے ہوں پانچ سو ڈگری کی حدت لئے پیرو کلوسٹک فلو نے بجلی کی سی سرعت سے پومپیائی کے گلی کوچوں میں غرانا شروع کر دیا۔ آرمینڈو گھاٹ کے قریب پہنچ چکا تھا گیلے راکھ سے اٹے اور بری طرح لرزتے ہوئے تختوں پر قدم جمانا بہت مشکل ہو رہا تھا۔ اس سے قبل وہ کشتی تک پہنچ پاتا زمین کی تیز کپکپاہٹ نے اس کے پاؤں اُکھاڑ دیئے اور وہ لوینیا سمیت بپھرے ہوئے سمندر میں جا گرا۔

پومپیائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لوینیا کے خوابوں کی جنت، وہ اپنی جنت میں واپس لوٹ آئی تھی لیکن وہاں کچھ نہ بچا تھا اُجڑے ہوئے درودیوار سے جھانکتی اداسی اور ویرانی۔۔۔۔۔ اعصاب پر طاری ہوتا ہوا پُر ہول سناٹا۔۔۔۔۔۔۔ منوں دبیز راکھ تلے سویا ہوا شہر۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سنسان گلیوں میں سرسراتی ماتمی ہوا۔۔۔۔۔۔۔ وہ زندگی سے بھر پور لوگ جانے کہاں کھو گئے تھے۔۔

اپنے بے جان قدموں کو گھسیٹتے ہوئے لوینیا وہیں ایک ٹوٹی ہوئی دیوار کے سائے میں بیٹھ گئی۔ خاموشی اور ویرانی اِس کے اعصاب چاٹ رہی تھی تنہائی، بھوک اور سخت موسم نے اُسے نڈھال کر دیا۔ سورج کی روشنی اُسے کم از کم اپنے زندہ ہونے کا احساس تو دلاتی تھی لیکن شام ڈھلتے ہی اِس آسیب زدہ شہر کے بوسیدہ درو دیوار جاگ کر اُس پر ہنسنے لگتے۔۔ گلی کوچے مرتے ہوئے لوگوں کی دلدوز کراہوں سے بھر جاتے۔۔ بے رحم ویسویئس ایک خون آشام دیو کا روپ دھار لیتا اور دھرتی اپنا سینہ پیٹ پیٹ کر بین کرنے لگتی۔ لوینیا اس سارے شور سے گھبرا کر اپنا ہی بدن نوچنے لگتی۔ ہر صبح کا سورج اس کے بدن پر لگے نئے زخم دیکھتا اور تاسف سے بادلوں میں منہ چھپا لیتا۔ قیامت کی رات گذار کر صبح کی پہلی کرن اُسے یقین دلا جاتی کہ آرمینڈو اُسے ڈھونڈتا ہوا یہیں آئے گا۔

یخ بستہ شمالی ہوا نے دیکھا وہ پریوں کی سی نرم و نازک لڑکی جس کے ہونٹوں پر گلاب دہکتے تھے جس کے رخسار لو دیتے تھے اُسی ٹوٹی ہوئی دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے ہمیشہ کے لئے بیٹھی رہ گئی۔ اس کی کھلی آنکھوں سے انتظار جھانک رہا تھا۔ اُجڑے ہوئے در و دیوار میں سسکتی ہوئی سرد ہوا تھم چکی تھی۔

٭٭٭

Advertisment

Be the first to comment

Share your Thoughts: