میاں جی ۔۔۔ شاھین کاظمی

Shahin Kazmi, is a Pakistani fiction writer based abroad. She has made sense of fascinating feelings and problems of women with creativity in such a way that gender discrimination does not happen, and the reader feels it on pure human level.

 

 

میاں جی

( شاھین کاظمی )

بچپن کی ملائمت اور نرمی چہرے پر اُگنے والے روئیں نے کم کر دی تھی۔ اُس کی جگہ ایک عجیب سی جاذبیت نے لے لی تھی گو میاں جی اُسے منع کیا تھا کہ ابھی اُسترا نہ مارے لیکن اُسے چہرے پر اُگا ہوا بے ترتیب جھاڑ جھنکار اچھا نہیں لگتا تھا اپنے ایک دوست کی مدد سے اِس روئیں سے چھٹکارا پانے کی کوشش میں چہرے کو تین چار جگہوں سے زخمی بھی کر بیٹھا تھا اِس کی حالت دیکھ کر میاں جی نے بے بھاؤ کی سنائیں وہ سر جھکائے خاموشی سے ڈانٹ سنتا رہا

’’چلو جاؤ اور جو کہا جائے اُسے سُنا بھی کرو’‘

میاں جی سخت ناراض تھے

’’جی میاں جی’‘

اُس نے سعادت مندی سے جواب دیا

میاں جی اِس چھوٹے سے گاؤں کی اکلوتی مسجد کے پیش امام گاؤں کے لوگوں کے روحانی پیشوا، قاضی استاد، طبیب اور غمگسار، سبھی کچھ تھے سب بے جھجھک انھیں اپنے مسائل اور دکھڑے سنایا کرتے تھے ان کی آمدنی کا واحد ذریعہ گاؤں والوں کی طرف سے مقر رہ کردہ معمولی سی وظیفے کی رقم کے ساتھ ساتھ وہ تحائف بھی تھے جو سال بھر انھیں گندم اور دوسری اجناس کی صورت میں ملا کرتے تھے۔۔ دودھ، دہی، اور لسّی کی علاوہ تازہ پکا ہوا کھانا بھی اس وظیفے میں شامل تھا۔ اب دو بندوں کے اخراجات ہوتے ہی کتنے ہیں میاں اکثر اجناس یا تو اطراف کے گاؤں میں ضرورت مندوں میں بانٹ دیا کرتے یا کبھی کبھار اپنی کسی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے فروخت کر دیا کرتے تھے گاؤں میں بچوں بچیوں کا قرآنِ پاک پڑھانا، غمی خوشی کے وقت دعائیں دینا اور جھگڑے نبٹانا میاں جی کے فرائض میں شامل تھا جسے وہ بڑی خوش اسلوبی سے سر انجام دے رہے تھے

دو سال کے بن ماں کے بچے کو کندھے سے لگائے میاں جی آج سے تیرہ سال قبل اِس گاؤں میں آئے تھے اور ایک کمرے پر مشتمل اِس کچی مسجد میں پہلی پار اذان دے کر خود ہی نماز پڑھی تھی۔ اِس کے بعد گاؤں والوں انھیں کبھی کہیں جانے نہ دیا وہ کون تھے کہاں سے آئے تھے نہ کبھی کسی نے جاننے کی کوشش کی اور نہ ہی میاں جی نے بتانے کی جیسے ایک خاموش معاہدہ سا ہو اِس عرصے میں نہ تو میاں جی سے کوئی ملنے آیا اور نہ وہ کہیں گئے اُن کی بڑے سے بڑی تفریح کسی قریبی گاؤں کی چوپال میں شمولیت ہوا کرتی تھی اُن کی معاملہ فہمی، تدبر اور متحمل مزاجی وجہ سے آس پاس کے گاؤں میں اُن کی بہت عزت تھی

سعید پندرہ برس کا ہو چکا تھا اُس کی خوبصورت اٹھان، پُر کشش خد و خال اِسے گاؤں کے باقی لڑکوں میں نمایاں کرتے تھے۔۔ گاؤں میں بچیوں اور بچوں کے ساتھ مسجد کے کچے صحن میں ہل ہل کر سیپارہ پڑھتے ہوئے وقت کتنی تیزی سے گزارا اُسے اندازہ ہی نہ ہوا۔ چلچلاتی دوپہروں میں باغوں کے گھنے سائے میں چُرائے ہوئے پھل کھانا، غلیل سے گرمی گھبرا کر درختوں کی اُوٹ میں چھپے پرندوں کو تاک تاک کر نشانہ بنانا، نہر کے پانی میں شرطیں باندھ کر غوطے لگانا جیسے خواب سا ہو گیا تھا۔

میاں جی نے اُسے قریبی قصبے کے کالج میں داخلہ کیا دلوایا وہ اپنے گاؤں سے جیسے لاتعلق سا ہو کر رہ گیا شام ڈھلے جب وہ سائیکل پر چار میل کا سفر کر کے گھر آتا تو جوڑ جوڑ دکھ رہا ہوتا تھا، نمازیں بھی نہایت بدلی سے پڑھتا اور سرِ شام ہی لمبی تان کر سو جاتا۔

اُس دن رانو میاں جی کے لئے کھیر لائی تھی وہ بھی اِسی کی ہم عمر تھی۔ سرخ لان کے سوٹ میں اِس کا رنگ کھلا پڑ رہا تھا بڑی بڑی آنکھوں میں بسا کاجل، ڈوبتے سورج کی زرد شعاعوں نے اُس کے گالوں کو جیسے دہکا دیا تھا۔ کھیر کا پیالہ اُس کے ہاتھ سے لیتے ہوئے غیر ارادی طور پر اِس کی انگلیاں رانو کے ہاتھ سے مَس ہو گئیں اِسے لگا جیسے اِس نے بجلی کی ننگی تاروں کو چھُو لیا ہو سانسیں سینے میں اٹکنے سی لگیں جسم میں دوڑتی سنسنی اسے کوٹھڑی تک آنا مشکل ہو گیا وہ تو شکر ہوا میاں جی مغرب کی نماز کے لئے وضو کر رہے تھے اِس نے جلدی سے کھیر کا پیالہ اندر رکھا اور اذان کے لئے مسجد کی طرف چل پڑا۔

اِس کے لئے یہ تجربہ بہت انوکھا اور پریشان کُن تھا اِسی رانو سے ہزار بار جھگڑا ہوا تھا وہ قرآن پڑھنے میں سب سے تیز تھی میاں جی کا بتایا ہوا ایک بار کا سبق اُسے کبھی نہیں بھولا تھا جبکہ اِس نے اور باقی بچوں نے بارہا میاں جی سے چھڑیاں کھائی تھیں اسی لئے سب رانو سے چڑتے اُسے رٹو طوطا اور میاں جی کی چمچی کہا کرتے تھے سعید نے اُسے کبھی بھی کسی کی بات پر غصہ کرتے نہیں دیکھا تھا ایسے ظاہر کرتی جیسے اِس نے کوئی بات سُنی ہی نہ ہو اور یہ بات بچوں کو چِڑانے کے لئے کافی تھی

سعید کی رانو سے کبھی نہیں بنی وہ اِسے بہت بری لگتی تھی میاں جی اُس کا سبق سن کر اُسے باقی بچوں کا سبق سننے کو کہا کرتے تھے اِس وقت وہ سب سے دل کھول کر اپنا سارا غصہ نکالا کرتی، معمولی معمولی غلطی پر میاں جی سے شکایت لگا دیتی سعید نے اُس کی وجہ سے اکثر میاں جی سے مار کھائی تھی۔

آج جو کچھ ہوا تھا سعید اُسے سمجھنے سے قاصر تھا کہیں اندر کھلبلی سی مچ گئی تھی، وہ اپنی اِس کیفیت کو سمجھ نہیں پا رہا تھا

’’ کیا بات ہے سعید سب ٹھیک تو ہے نا؟’‘

میاں جی نے اِس کی خاموشی بھانپ لی، وہ ایک دم چونک گیا

’’جی میاں جی’‘

وہ آہستگی سے بولا

’’اتنے چپ کیوں ہو’‘ وہ مطمئن نہ ہو سکا

’’سر میں درد ہے’‘

اُسے اور کوئی بہانہ نہ سوجھ سکا

’’دھوپ کی وجہ سے ہو گا کچی لسی بناتا ہوں پی لینا آرام آ جائے گا’‘

میاں جی کے پاس ہر مسئلے کا حل موجود تھا

’’یہ لو’‘ وہ بڑا سا گلاس اُسے تھماتے ہوئے بولے ”

پی لو ان شاء اللہ آرام آ جائے گا

’’میاں جی’‘

وہ شرمندہ سا ہو گیا ’’میں خود بنا لیتا’‘

’’کیوں میرے ہاتھ کی پسند نہیں ہے کیا’‘

وہ ہلکا سا مسکرائے اور کچھ پڑھ کر اُس پر پھونک دیا۔

’’چلو اب پی لو’‘

انھوں نے بہت شفقت سے اُس کے سر پر ہاتھ پھیرا

آتے جاتے اکثر رانو سے ملاقات ہو جاتی، وقت کے ماہر ہاتھوں نے رانو کے ہونٹوں پر گلاب دہکا دیئے تھے، گال لَو دینے لگے تھے اٹھتی جھکتی لانبی پلکیں دل میں ترازو ہوئی جاتی تھیں، سعید اُسے دیکھتے ہی جیسے بن پیئے بہکنے لگتا

وہ انٹر کر چکا تھا اور میاں جی سے مار مار کھا کر پندرہ سیپارے بھی حفظ کر لئے تھے، قصبے کا واحد کالج صرف انٹر تک ہونے کی وجہ سے میاں جی اُسے شہر بھیجنے کا سوچ رہے تھے

’’پر میاں جی میں وہاں رہوں گا کس کے پاس؟’‘

اُسے میاں جی کا یہ آئیڈیا بالکل پسند نہیں آیا تھا

’’دوسرا میں آپ کو اکیلا چھوڑ کر جانا نہیں چاہتا’‘

اُس نے میاں جی کو صاف جواب سنا دیا

’’جانا تو پڑے گا میرے بچے کہ کوئی اور حل ہے نہیں’‘

میاں جی اُس کی ناراضی کو نظرانداز کرتے ہوئے بولے ’’ میں نہیں چاہتا کہ تم میری طرح یہاں مسجد میں ہی زندگی گزار دو، خدا کی دنیا بہت وسیع اور خوبصورت ہے، تمہیں بہت پڑھنا ہے، میں نے ملک صاحب کو خط لکھا ہے وہ تمہارے رہنے سہنے کا انتظام کر وا دیں گے’‘

’’کون ملک صاحب؟’‘

سعید نے پہلی بار اُن کے منہ سے کوئی نام سنا تھا

’’ہیں ایک اچھے وقتوں کے مہربان’‘

لیکن وقت نے میاں جی مہلت نہ دی رات سوئے تو اتنی گہری نیند کہ ٹوٹ ہی نہ سکی صدمے نے ہلا کر رکھ دیا ابھی تو اس نے چلنا ہی سیکھا تھا کہ میاں جی نے ہاتھ چھڑا لیا اُس کی کیفیت اس ننھے بچے کی سی تھی جو بھرے میلے میں اپنی ماں سے ہاتھ چھڑا بیٹھے چاروں طرف اجنبی چہرے، انجان لوگ وہ چیخ چیخ کر رونا چاہتا تھا لیکن آنکھیں جیسے بنجر ہو گئیں گاؤں کے لوگوں نے بہت محبت سے اس کے زخم پر پھاہے رکھنے کی کوشش کی، دھیرے دھیرے اُسے بھی قرار آتا گیا، میاں جی کے چالیسویں کے بعد اُسے میاں جی گدی سونپ دی گئی اور اٹھارہ سال کی عمر میں وہ سعید سے میاں جی بن گیا

دروازے پر دستک ہوئی تو وہ چونک گیا، سامنے رانو کھڑی تھی، ’’ میاں جی یہ امّاں نے بھیجا ہے’‘ اس کے لہجے میں وہی عزت و احترام تھا جو کبھی میاں جی کے لئے ہوا کرتا تھا وہ کپڑے سے ڈھکا ڈونگا اس کی طرف بڑھاتے ہوئے بولی

’’تم مجھے میاں جی کیوں کہتی ہو’‘

سعید کے لہجے میں الجھن تھی

’’ تو اور کیا کہوں، آپ میاں جی ہی تو ہیں’‘

رانو کی آواز میں شوخی تھی

سعید نے ایک نظر اُسے دیکھا، گہرے نیلے سوٹ میں اس کی رنگت کھلی پڑ رہی تھی، بھرے بھرے ہونٹوں پر تھرکتی مسکان اور آنکھ کا کاجل سعید کا ایمان لوٹنے کو کافی تھے

’’اچھا اب تم جاؤ’‘

سعید نے ڈونگا پکڑ لیا اسے اپنے سینے میں مچلتے دل سے خوف آنے لگا تھا، کمبخت قابو سے باہر ہوا جا رہا تھا

وقت جیسے تھم سا گیا تھا دن تو ہنگاموں کی نذر ہو جاتا لیکن رات تمام تر وحشتیں لیے پہلو میں آن بیٹھتی۔ بلب کی مدھم سی زرد روشنی میں دیواروں پر ناچتے سائے زندہ ہو جاتے اور اپنی نوکیلی انگلیوں اور تیز دھار ناخنوں سے اسے نوچنے لگتے، وہ ہر رات تنہائی کے ان خوفناک بھتنوں سے لڑتے لڑتے گزار دیتا، دن سارے ان چاہے ہنگام ساتھ لے کر آتا، وہ اکتانے لگا

ایسے میں رانو کا خیال جیسے واحد سہارا تھا وہ اپنی تمام تر خوبصورتیوں سمیت جب تصور میں وارد ہوتی تو وہ کچی کوٹھڑی کسی شیش محل میں تبدیل ہو جاتی مدقوق روشنی والا مریل بلب چودھویں کے چاند کی سحر آگیں روشنی لٹانے لگتا، کچی بد رنگ دیواروں پر ہزاروں رنگ جھلملانے لگتے سعید رانو کا ہاتھ تھامے خواب وادیوں میں اتر جاتا جہاں جھرنوں کا مترنم پانی اُلفت کے سرمدی سُر چھیڑ دیتا، فضاؤں میں نغمگی سی گھل جاتی، ہوا رقص کرنے لگتی، کلیوں کے نازک لبوں پر مسکان بکھر جاتی اور مخملیں سبزے پر تھرکتی چاندنی بیخود ہو اپنے بلوریں جام بھر بھر محبت کرنے والی روحوں کو چاہت کی مے بانٹنے لگتی، تشنگی مٹنے لگتی اور روح بیخود میں درِ عشق پر دھمال ڈالنے لگتی

اس کے پور پور میں اکتاہٹ اتر آئی تھی، انتہائی بے دلی سے نمازیں بھی ادا کرتا معمولی غلطی پر قرآن پڑھنے کے لیے آنے والے بچوں کو روئی کی طرح دھنک کر رکھ دیتا اور بعد میں انھیں بہلاتے ہوئے خود بھی سسک پڑتا

وہ اس ماحول سے بھاگنا چاہتا تھا لیکن کہاں ؟ یہ سوال اس کے قدم جکڑ لیتا اس کی تعلیم کا سلسلہ موقوف ہو چکا تھا دن رات مسجد حجرے میں پڑا رہتا، اسے لگتا شاید وہ بھی انھی کچی دیواروں کا حصہ ہے بھدا، بد رنگ اور کھردرا، اپنی بیزاری کہ وجہ سمجھنے سے وہ خود بھی قاصر تھا اسے مسجد اور اس کے خاموش ماحول سے وحشت ہونے لگی عجیب مفلوج کر دینے والی یاسیت تھی اک بے نام اداسی اسے لگا وہ پاگل ہو جائے گا وہ اپنے ہی بال نوچنے لگتا

اس دن جب بڑے چودھری جی نے شادی کی تجویز اس کے سامنے رکھی تو وہ چونک اٹھا،

’’ہاں میاں جی، بڑے میاں جی ہوتے تو سب خود دیکھ لیتے لیکن اب ہمیں ہی کچھ کرنا ہو گا اگر آپ رضامند ہوں تو بات چلاؤں ؟ظ

’’” چودھری جی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ۔۔۔۔۔۔۔۔میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سعید گڑبڑا گیا

’’اگر کوئی لڑکی نظر میں ہو تو بتا دیں ورنہ میں اپنے طور پر کچھ کرتا ہوں’‘

چودھری جی سنجیدگی سے بولے

’’بھاگ بھری کی بیٹی رانو کے بارے میں کیا خیال ہے ؟ بہت سگھڑ لڑکی ہے’‘

سعید کو لگا دل ابھی پسلیاں توڑ کر باہر نکل آئے گا، اسے سینے میں سانسیں اٹکتی ہوئی محسوس ہوئیں

’’ آپ نے جواب نہیں دیا؟’‘

چودھری جی نے پھر پوچھا

’’چودھری جی میں کیا بولوں، آپ بڑے ہیں جیسا مناسب لگے کریں’‘

سعید نے سارا معاملہ اُن پر ڈال دیا

“ٹھیک ہے میاں جی میں بات کرتا ہوں ربّ سوہنا بہتر کرے گا

وہ مصافحہ کر کے باہر نکل گئے

سعید کے اندر ہلچل مچ گئی تھی، وہ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے رانو کی مرضی جاننا چاہتا تھا، شام کو جب وہ کھانا لے کر آئی تو سعید نے اسے روک لیا

’’رانو ایک بات پوچھوں’‘

اُس نے بہت جھجھکتے ہوئے کہا

’’جی میاں جی ضرور’‘

’’ مجھ سے شادی کرو گی؟’‘

سعید کی آواز کپکپا رہی تھی رانو ایک دم چپ ہو گئی

’’کیا ہوا تم نے جواب نہیں دیا؟’‘

’’میاں جی مجھے ہر گھر کا پکا ہوا کھانا اچھا نہیں لگتا’‘

رانو کی آواز بہت دھیمی تھی

Advertisment

Be the first to comment

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.