سلمی اور کرونس ۔۔۔ شاہین کاظمی

سلمی اور کرونس

شاھین کاظمی

گھپ اندھیرا اور اتنا گہرا سکوت کہ سانسوں کی آواز بھی کسی شورِ قیامت سے کم نہ تھی، چاروں طرف پھیلی ہوئی اک عجیب سی بوباس، کھردرا اور سرد فرش، ساتھ چھوڑتے ہوئے اعصاب اور شل ہوتا ہوا بدن،ذہن پر جیسے جالے سے تنے ہوئے تھے، کچھ بھی تو محسوس نہیں ہو رہا تھا،وہ نہ جانے کب سے یہاں پڑی تھی، پتھریلے فرش کی یخ بستگی دھیرے دھیر ے ہڈیوں میں اترتی جا رہی تھی، اس نے حرکت کرنے کی کوشش کی تو درد کی ایک تیز لہر پورے بدن میں پھیل گئی، ذہن ابھی تک دھند کی لپیٹ میں تھا، اس نے ایک بار پھر اٹھنے کی کوشش کی ، کسی کو مدد کے لئے پکارنا چاہا مگر آواز نے ساتھ نہ دیا، ایک دم اسے اپنے بازو پر کسی کی گرفت محسوس ہوئی ٹھنڈی سرد اور استخوانی ،دل اچھل کر حلق میں آن گھسا ، ریڑھ کی ہڈی میں سرسراہٹ سی ہونے لگی،گہرے اندیرے میں کچھ دیکھنا ممکن نہ تھا،
”تم مجھے ملنے کیوں نہیں آتی“بہت دھیمی سی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی،
دھند چھٹی تو سفید لبادے میں لپٹا ہوا وجود نمایاں ہو گیا،وہ بری طرح چونک اٹھی،
” امی آپ ، آپ تو“اسے اپنی دھڑکن رکتی ہوئی محسوس ہوئی،
”کیا میںتو……..“وہ ہنسی
” مرگئی تھی نا“ان کا لہجہ بہت عجیب سا تھا ، انگلیاں جیسے اس کے بازو میں گڑی جا رہی تھیں،
”میرا دل جلتا ہے تمہیں اس آگ میں دیکھ کر۔“
اس نے دیکھا ان کے ہاتھ کا گوشت پگھل رہا تھا،پتلی پتلی ہڈیاں نمایاں ہونے لگیں، وہ ہذیانی انداز میں چیخنے لگی،
”چھوڑیں مجھے“
گرفت اور مضبوط ہو گئی،ہڈیاں مزید نمایاں ہو رہی تھیں،”نہیں چھوڑ سکتی، کیسے چھوڑ دوں”خود کلامی کا سا انداز تھا،
عجیب سا تعفن اٹھنے لگا تھا، اس کا جی متلانے لگا، ابکائی روکنا مشکل ہو گا، اس نے وہیں قبر پر قے کردی۔
”کوئی بھی ساتھ نہیں دیتا، ایک وقت آتا ہے جب سب چھوڑ دیتے ہیں، بندہ خود اپنے آپ سے بچھڑ جاتا ہے، جیسے میں بچھڑ گئی“وہ سسک اٹھی
”اندر باہر دہکتے ہوئے جہنم نے سب کچھ جلا ڈالا سب کچھ“ سسکیاں تیز ہونے لگیں۔
”نہیں چھوڑتا تو یہ تعفن ساتھ نہیں چھوڑتا،یہ سڑاند ،یہ غلاظت، یہ اس جہنم میں جل کیوں نہیں جاتا“
”کیوں؟“ لایعنی سوال کی تکرار بڑھنے لگی۔
بازو پر گرفت اور مضبوط ہو گئی

راشد کے ہونٹوں پر شیطانی مسکراہٹ تھی، اس نے ایک نظرسلمیٰ پر ڈالی ،
”میری بات تو تمہیں ماننا ہی ہوگی“۔
”کیوں کیا میں تمہاری زرخرید ہوں؟“سلمیٰ کی آواز کافی بلند تھی،
”دیکھو یہ پرو جیکٹ میرے لئے بہت اہم ہے میں اسے چھوڑ نہیں سکتا، تمہیں جانا ہو گا“راشد کا لہجہ انتہائی سخت تھا”چلو“اٹھو فریش ہو جا ﺅ و صاحب آتے ہی ہونگے“ راشد نے اس کا غصہ نظر انداز کر دیا، وہ بپھر گیا۔
” نہیں جاتی کیا کرلو گے،“وہ بھی ضدی تھی
”جانا تو تمہیں پڑے گا ڈیئر“راشد کا لہجہ سرد تھا۔ورنہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
”کیا ورنہ“؟
”تمہیں ماں بننے کا بڑا ارمان ہے نا“اس کی ہنسی بہت زہریلی تھی
ذات کا کعبہ مسمار ہو رہا تھا، لیکن وقت کے خالی گنبد میں پھڑ پھڑاتی ابابیلوں کی چونچیں خالی تھیں، اصحاب الفیل آج بھی اسی طرح طاقت کے نشے میں چور تھے۔
”یا ربِ کعبہ ،تکمیل کی خواہش میں یوں ریزہ ریزہ ہونا آخر کیوں ؟ کونسی ماورائے عقل خواہش ہے ؟ تو پھر اتنا بھاری مول کیوں؟ ”تکرار بڑھنے لگی،وہ بے دم سی ہو گئی،اسے اپنا آپ کتوں کا چبایا ہوا راتب لگ رہا تھا،
راشد اس کے بابا کا کزن تھا، وجیہہ اور تعلیم یافتہ، جب اس نے بابا سے رشتے کی بات کی تو بابا نے بلا تردّد ہاں کر دی،ماں کی اچانک موت نے اسے بہت گم سم اور تنہا کر دیا تھا، انھیں لگاشاید شادی ہی اس کا بہترین حل ہے۔
راشد ایک کامیاب آدمی تھا، اِسے راستے کے پتھر ہٹانے آتے تھے،پہلی بار جب اس نے اِسے اپنے ایک دوست سے ملوایا اور اِسے اِن کی خدمت کرنے کا کہا تو وہ سُن سی رہ گئی،
”یہ سب کیا ہے راشد؟ میں ایسا ہرگز نہیں کروں گی“ وہ سخت غصے میں تھی۔
” دھیرج ڈارلنگ دھیرج، یہ سب بزنس کا حصہ ہے۔“
“بھاڑ میں گئے تم اور تمہارا بزنس، تم ایسے نکلو گے میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی“ سلمیٰ کے لہجے میں حقارت تھی۔
راشد نے اِسے بازو سے پکڑ کر ایک جھٹکے سے اپنے سامنے کیا۔
”ایک بات یاد رکھنا مجھے نہ سننے کی عادت نہیں ہے۔“
”چلو تیار ہو جاﺅ“
”ہر گز نہیں“۔
راشد کا ہاتھ اٹھا اور اِس کے چہرے پر نشان چھوڑ گیا، وہ اِس کے لئے تیار نہیں تھی، چکرا کر گری ، بیڈ کی سائیڈ بری طرح اِس کے پیٹھ میں آلگی تھی۔
وہ بمشکل بازو چھڑا کر بھاگی تو بھاگتی چلی گئی، پھیپھڑوں میں، آگ سی لگی ہوئی تھی، حلق میں کانٹے اُگ آئے تھے، کچھ عجیب سی جگہ تھی ویران، اندھیر ی، سناٹا رگ وپے میں اتر رہا تھا، اچانک اسے اپنے بدن کے مختلف حصوں میں، چبھن کا شدید احساس ہوا، لمحوں میں چبھن درد میں، ڈھل گئی، وہ سیاہ رنگ کے کیڑے تھے جو اِس کے بدن پر چپکے ہوئے اسے نوچ رہے تھے،ان کے نہ دکھائی دینے والے تیز دانت گوشت میں دھنسے جا رہے تھے، اِس نے پاگلوں کی طرح چلاتے ہوئے، دونوں ہاتھوں سے انھیں جھٹکنا شروع کر دیا،
اچانک اسے لگا جیسے کسی نے پکارا اسے ہو، اس نے پلٹ کر دیکھا تو وہ ننھا سا بچہ اس کے سامنے کھڑا تھا۔
”یا اللہ ،وہ لمحے بھرکو اپنا درد بھول گئی، تم کون ہو اور یہاں کیسے؟ جا یہاں سے“اس نے پاﺅں سے اُسے پرے کرنا چاہا۔
”میں تویہیں تھا“وہ معصومیت سے بولا اور اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے اِس کے بدن پر رینگتے کیڑے اُٹھا کرکھانے شروع کر دیئے۔
”او مر ے خدا، مت کھا انھیں،جاﺅ ،جاﺅ یہاں سے ، تم جاﺅ“اس کی آواز پھٹ رہی تھی۔
بچے کا ادھورا بدن پھول رہا تھا، اس نے اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھایا، ننھی سی ہتھیلیوں پرکلبلاتے کیڑے اس کے گوشت میں اتر رہے تھے۔
”یا اللہ!کوئی ہے ،کوئی میری مدد کرو“ وہ بدن سے کیڑے جھٹکتے ہوئے بے بسی سے چلا اٹھی،
اچانک وہ ننھا سا وجود چیھتڑوں میں تبدیل ہو گیا، پھٹی پھٹی نظروں سے دیکھتے ہوئے اِس نے الٹے قدموں پیچھے ہٹنا شروع کر دیا،اِس کے چہرے پر شدید خوف اور وحشت کے آثار تھے، سرخ سرخ خون کے لوتھڑے اور گوشت جابجا بکھرا ہوا تھا، وہ گرنے کے انداز میں زمیں پر بیٹھ گئی ، اِس کے منہ سے ہلکی سی چیخ نکلی اور پھروہ چیختی چلی گئی،
چند دنوں بعد جب وہ ہسپتال سے واپس آئی تو اندر سے بالکل خالی تھی، ایک ڈستی ہوئی خاموشی تھی جو اس کا بدن چاٹ رہی تھی، وہ جانتی تھی وہ کس کرب سے گذری ہے،
کڈنی ٹرے میں پڑا ہوا سیاہ خون کا لوتھڑا، بے خیالی میں اس کے ہاتھ ٹرے سے جا ٹکرائے پوروں میں موت کی ٹھنڈک سرائیت کرنے لگی،آنکھ لوتھڑے میں خال وخد تلاش رہی تھی،
”یہ ادھورے پن کا درد رگوں میںکون اتار دیتا ہے ؟ آنکھوں کے گوشے بھیگنے لگے۔
نچے ہوئے بدن پر خال و خد تلاشنا کتنا مشکل ہوتاہے؟ تم نے کبھی خوابوں کے لاشے دیکھے ہیں؟ قبروں کی مجاوری کب آسان ہوتی ہے؟اپنے ہی کندھے پر اپنا مردہ بدن ڈھونا جانتے ہو کیسا ہوتا ہے؟ تعفن روح میں اُتر جاتا ہے، لیکن کندھے پر لٹکی لاش عمر بھر ڈھونی پڑتی ہے“اس کی سوچوں کے سلسلے دراز ہونے لگے
” مجھے معاف کر دو، میں نے یہ کبھی نہیںب چاہا تھا“وہ راشد تھا،”پلیز“اس نے ہاتھ جوڑ دیئے۔
”کبھی نہیں، مں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی“ وہ چلا اُٹھی، اسے اپنی دوسری دفعہ خالی رہ جانے والی کوکھ کا بہت دکھ تھا۔
”جاﺅ یہاں سے اور مجھے اکیلاچھوڑ دو“۔ اس نے منہ دیوار کی طرف کر لیا، راشد خاموشی سے کمرے سے نکل گیا۔
”تمہارے جھوٹے الفاظ میر ے درد کی تلافی کر سکتے ہیں؟“گرم ابلتے ہوئے سانسوں نے اندر کاٹنا شروع کر دیا تھا۔
کچھ عرصہ آرام سے گذرا، راشد نے اس کا بہت خیال رکھا، اسے لگا وہ بدل گیا ہے، لیکن جلد ہی وہ اپنی پرانی روش پر لوٹ آیااور نہ چاہتے ہوئے بھی وہ، نہ جانے کب اور کیسے اس دلدل میں دھنستی چلی گئی،اِسے بھی اِس کھیل میں اب مزہ آنے لگا تھا، کتوں کی طرح ہانتپے اور رال ٹپکاتے مرد اسے بہت بھاتے، وہ اپنی کھردری انگلیو ں سے جب اِس کا مرمریں بدن چھوتے تو رگ وپے میںش دوڑتی سنسنی اِسے مدہوش کر دیتی، اسے کام نکلوانے کا گُرآگیا تھا،مہین ساڑھی اور مختصر بلاز سے جھانکتا اس کا کومل بدن، لَو دیتے گال،بھرے بھرے شیریں لب،اور قاتلانہ ادائیں، اگلا بن پئے بہکنے لگتا، دیوی سنگھاسن سے اُترکر پجاری کے قدموں میں آن بیٹھتی تھی۔
”تو یہ ہے تمہاری اوقات“آئینے کے دوسری طرف کھڑی عورت اس کا منہ چڑانے لگی۔
”کیوں روز آ جاتی ہو میرے زخم کھرچنے کے لئے“کب پیچھا چھوڑو گی میر ا؟ آخر مر کیوں نہیںجاتی ہو تم ؟اس نے پرفیوم کی شیشی اٹھا کر آئےنے پر دے ماری۔
”مر کیوں نہیں جاتی میں“وہ سسک اٹھی۔
”دن رات جرعہ جرعہ متعفن بدنوں کے پیمانوں میںبٹتی ہوئی ، مر کیوں نہیں جاتی میں؟“ تکرار ڈسنے لگی تھی۔
پانچ ہزار گز پر بنے ہوئے بنگلے میں کونسی راحت تھی جو موجود نہیں تھی،راشد بہت خوش تھا، کاروباری حلقوں میں اس کی اپنی ایک ساکھ تھی، اس کا بزنس کئی براعظموں تک پھیل گیا تھا، اس کے بارے میں مشہور تھا کہ مٹی بھی اس کے لمس سے سونا ہو جاتی ہے،تب سلمیٰ نے پہلی بار اسے راشد کے آفس میں دیکھا، ان دونوں کے درمیا ن کیا تھا وہ پل بھر میں سمجھ گئی، وہ بے انتہاخوبصورت تھی، اتنی کہ دیکھنے والوں کی سانسیں رکنے لگتیں۔
”کون ہے یہ“ اِس کی آواز میں شک گھلا ہوا تھا۔
”تم پوچھ کر کیا کرو گی“راشد ہنسا۔
”میں تمہاری بیوی ہوں۔“
”بڑی جلدی خیال آ گیا“۔
”طعنے مت دو یہ راہ تمہاری ہی دکھائی ہوئی ہے“۔
”بکواس بند کرو،میں نے تمہیں دھندا کرنے کو نہیں کہا تھا“راشد پھٹ پڑا۔
”تمہارے کہنے پر تمہارے کتوں کے پہلو گرم کروں تو جائز اور میں خود کسی کے ساتھ وقت گذاروں تو وہ دھندا“سلمی نے ہاتھ میں پکڑا ہوا جوس اس کے منہ پر اچھال دیا۔
”اصل میں تمہارا مسئلہ پتہ کیاہے“سلمی کی آواز بہت سرد تھی۔
”تم ایک خود پرست انسان ہو، تمہیں لگتا ہے کہ ساری دنیا کو تمہارے اشاروں پر چلنا چاہئے، اسی لئے مجھے تم سے نفرت ہے، بے انتہا نفرت“۔
”آخ تھو“ اس نے نفرت سے زمین پر تھوک دیا۔
”تم سے زیادہ قابل رحم مخلوق اور کوئی نہیں“۔
”عورت کے ایک اشارے پر اپنا سارا طنطنہ ، اپنا سارا وقار پل بھر میں ہار کے اس قدموں میں لوٹتے پھرو گے اور بات کرتے ہو مردانگی کی“۔اس کے منہ سے بے اختیار گندی گالی نکل گئی۔
پھر ایک دن اس نے راشد کی دوسری شادی کی خبر سنی ، اِسے اِس خبر کا انتظار تھا، وہ جانتی تھی جلد یا بدیر ایسا ہونے والا ہے۔
”قدسی صاحب آپ تو ہمیں بھول ہی گئے“وہ بہت لگاوٹ سے بولی۔
”زہے نصیب، آپ یہاں آفس میں؟ آپ نے کیوں زحمت کی، ہمیں کہہ دیا ہوتا“۔
”آپ آئیں یا ہم بات تو ایک ہی ہے، اور پھر ہمیں بہت ذاتی نوعیت کا کام تھا“وہ جانتی تھی گرسنہ نگاہوں کی تشنگی کب بجھائی جاتی ہے۔
”یہ جگہ آپ کے شایان شان نہیں ہے“قدسی صاحب چہرہ صاف کرتے ہوئے بولے۔
”اور ہمارا کام؟“
”آپ کا پہلے کوئی کام رہا ہے؟“قدسی صاحب ہانپ رہے تھے۔
”تن گھنٹے میں کاغذات آپ کو مل جائیں گے“۔
”صاحب آئیں تو گیٹ مت کھولنا“رات گئے واپسی پر اس نے واچ مین کو ہدایت دی۔
’نفیس سب ٹھیک ہے نا؟ اس نے درواز کھول کر آہستگی سے اندر جھانکا۔
جی بیگم صاحبہ بے بی سو گئی ہیں، آج بہت ضد کی“آیا روہانسی ہو رہی تھی۔
”ہاں آج مجھے کچھ زیادہ دیر ہو گئی، ٹھیک ہے تم بھی آرام کرو میں دیکھ لوں گی“۔
گاڑی ایک جھٹکے سے رک گئی تھی، عجب سی جگہ تھی، چاروں طرف گھنا جنگل اور تیزی سے بڑھتی ہوئی دھنداور اندھیر ا،اس نے بو نٹ کھول کر دیکھا، لیکن اسے پتہ تھا وہ کچھ نہ کر سکے گی، اس نے گاڑی بند کی اور سڑک کے ساتھ ساتھ چلنے لگی، فضا میںتیر تی خنکی یک دم بڑھ گئی تھی اس کا بدن کپکپانے لگا۔
”ماما“وہ چونک پڑی،وہی گلابی پھولا ہوا فراک پہنے نتاشا اس بڑے سے درخت کی اوٹ میں کھڑی تھی۔وہ چکرا کر رہ گئی۔
”تم یہاں کیسے آئیں“؟ اِس نے اسے کندھوں سے پکڑ کر جھنجھوڑ ڈالا۔
”ماما آپ درد کر رہی ہیں“نتاشا کی آنکھوں میں نمی تھی۔
”اوہ! سوری“ اس نے اپنے ہاتھ ہٹا لئے، وہ ابھی تک سمجھنے سے قاصر تھی کہ نتاشا یہاں آئی کیسے۔
”مجھے پتہ تھا میری ماما آئیںگی، دیکھو“نتاشا نہ جانے کس سے مخاطب تھی۔
اِسے بچوں کا شور سنائی دیا ،بہت سے بچے نتاشا کے اردگرد کھڑے تھے۔
”تمہاری ماما اچھی نہیں ہیں“باریک سے آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی، وہ چھوٹی سی بچی تھی جو درخت کی پھننگ پر لٹکی ہوئی تھی۔
”اور تمہیں پتہ ہے تم جھوٹی ہو، نتاشا اس کی طرف مڑی، دیکھا یہ کتنی سڑوہے“نتاشا ہنسی تو سب بچے ہنسنے لگے۔
وہ بچی درخت سے کود کر ایک دم اس کے سامنے آ گئی۔
”تم یہاں کیوںآئی ہو، جاﺅ یہاں سے۔“
”یہاں کسی بچے کی ممی نہیں آتی،جاﺅ“۔
”نتاشا تمہیں یہاں نہیں آنا چاہئیے تھا“ ہو ان عجیب و غریب بچوں کو دیکھ کر بولی۔
”تم نے مجھے یہاں بھیجا ہے“نتاشا کے نقوش ایک دم بگڑے اور وہ اچھل کر اس کندھوں پر سوار ہو گئی اور اس کا چہرہ نوچنا شروع کر دیا ،باقی بچے بھی اس پر جھپٹ پڑے، ان کے ننھے ننھے ہاتھوں کے نوکیلے ناخن اسے چھیل رہے تھے،وہ بری طرح چیخ رہی تھی،نتاشا کا پھولا ہوا گلابی فراک لہو رنگ ہو گیا تھا۔
اِس سے پہلے کہ وہ کچھ کرتی اچانک کسی سائے نے اس کا ہاتھ تھام لیا،”آﺅ مر ے ساتھ،یہ سب ایسے ہی ہیں“۔
گھنے درختوں کے درمیان بھاگتے بھاگتے اسے لگا دھند اور یخ بستگی بھی اس کے ساتھ ساتھ بھاگ رہی ہے، اندھئر ا پھر سے گہرا ہونے لگا تھا، اس کے قدم ایک دم رک گئے، زمین جیسے ختم ہو گئی تھی، سائے نے چہرے پر پڑی سیاہ چادر ہٹا دی، چہرے کی ادھڑی ہوئی کھال سے ٹپکتا ہوا بدبودار مواد، سوجے ہوئے ہونٹوں کے درمیان عجب لپلپاتی ہوئی زبان ،اندر کو دھنسی ہوئی گہری سرخ آنکھیں،اور سیاہ رنگت، سلمیٰ دہشت سے چیخ اُٹھی، سائے نے ایک دم اسے دبوچا اور اپنے سامنے کرلیا، اس کی سرخ آنکھوں سے نکلتی تیز روشنی دل دہلا رہی تھی۔
”بہت سمجھایا تھا تمہیں میں نے“سائے کی آواز میں گہرا تاسف ، دکھ، غصہ اور بے بسی تھی۔
”یہ آواز“سلمیٰ چونک گئی۔
”لیکن تم نے میری بات نہیں مانی ، ایسا تو ہونا ہی تھا“
اچانک سائے نے اسے چھاپ لیا اور ہر سرمو سے اس کے اندر سمانے لگا، اس کے بدن میں جیسے زلزلہ آ گیا، تکلف کی شدت سے پھٹی ہوئی آنکھیں، رکتی ہوئی سانس اور بدن پر بڑھتاہوا بے تحاشا دباﺅ،بری طرح چلاتے ہوئے اس نے سائے کو پیچھے ہٹانے کی کوشش کی ،لیکن ناکام رہی،سایہ اس کے اندراترتا جا رہا تھا۔
تاریک ہوتے ہوئے ذہن کے ساتھ سلمیٰ کو یاد آگیا، وہ اس کی اپنی آواز تھی۔
” ڈاکٹر میں اُسے دیکھنا چاہتا ہوں“راشد کی آواز جذبات سے عاری تھی۔
”آئےں میرے ساتھ“ ڈاکٹر اُسے لے کر وارڈ کی طرف بڑھنے لگا۔
وہ پچھلے چار سال سے اِس ہسپتال میں بے حس و حرکت پڑی ہوئی تھی، نتاشا کے اسکول سے واپسی پر گاڑی کے حادثے نے جہاں نتاشا کی زندگی کا چراغ گل کیا وہیں اُسے بھی کومامیں دھکیل دیا تھا، اس کی ابترحالت کے پیشِ نظر، ایک لمبی گفتگو کے بعدراشد نے ڈاکٹرز کو وینٹیلیٹرز اتارنے کی اجازت دے دی، اس نے آخری بار اِس کے ہونٹ چھوئے اور جانے کے لئے پلٹا۔
”لوزر“سلمیٰ کی بے سا ختہ ہنسی کی باز گشت اس کے کانوں سے ٹکرائی، کرونس اپنے ہی بچے کھانے کے جرم میں آج بالکل تنہا رہ گیا تھا۔

 

Advertisment

Be the first to comment

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.