املتاس کا پیلا پھول ۔۔۔ شاھین کاظمی

املتاس کا پیلا پھول

(شاھین کاظمی)

گناہ کے آسمانی اور زمینی فلسفے میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ زمین پر گناہ سزا کے ساتھ صدیوں سفر کرتا ہے۔ یہاں گناہ بخشے نہیں وراثت میں دئیے جاتے ہیں۔ دائرہ در دائرہ، نسل در نسل گناہ پھلتا پھولتا اور اپنی جڑیں گہری کرتا چلا جاتا ہے۔ گناہگار کو کراہنے کی اجازت ہوتی ہے نہ سوال کرنے کی۔ بس سر جھکائے جانوروں کی طرح اپنے اوپر لادا گیا بوجھ اٹھا کر چلتے جانا اور ایک دن بے دم ہو کر مٹی اوڑھ لینا مقدر بنا دیا جاتا ہے۔ ہمارا خاندان بھی کسی ایسے ہی ناکردہ گناہ کو صدیوں سے ڈھو رہا ہے اور شاید ڈھوتا چلا جاتا اگر میں بغاوت نہ کر دیتی۔
ہمالے سے اترتی دھند منظر میں سرمئی بے کیفی بو رہی تھی۔ سرد ہوا کی بے چین انگلیاں پرانی کھڑکیوں کے دیمک زدہ کواڑوں پر دستک دے رہی تھیں۔ ماں نے آخری بار مجھے دیکھا اور منہ پھیر لیا۔ بابا گھر کے پچھواڑے میں بنے چھوٹے سے مندر میں بیٹھا منہ ہی منہ میں کچھ بُدبُدا رہا تھا۔ ایک لمحے کو میرا یقین متزلزل ہوا۔ میں دلوں پر پیر رکھ کر آگے بڑھنے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔ لیکن صدیوں سے اوراما خاندان کے چہرے پر تھپی کالک میرے اندر حبس بڑھا رہی تھی۔ بابا کا جھکا ہوا سر اور معذرت خواہانہ لہجہ مجھے کاٹ دیتا تھا۔ اتنی صدیوں کے بعد بھی نفرت کی صلیب اُتنی بھی بھاری اور تکلیف دہ تھی۔ سو میں نے خاموشی سے اپنا لمبا تھیلا اٹھایا اور اُلٹے قدموں گھر سے نکل آئی۔
میری منزل کُھم تھی۔

گو ہواؤں میں رچا زہر اب سانسیں تنگ کرنے لگا تھا۔ مشرق سے اُمڈتے اندھیرے لہاسہ کی دہلیز پر چڑھ آئے تھیـ’’ چوئی نگا،، کی تھا پ پر اجتماعی مناجات طربیہ سے دعا اور پھر التجا میں ڈھل رہی تھیں۔ مہا لامہ نے مجھے مونسٹری میں پورے دل سے خوش آمدید کہا۔ دل میں کہیں اند ر چبھن کا احساس ہوا۔ لیکن یہ سچ ہے کہ سچ بولنے کے لئے بھی موافق موسم درکار ہوتے ہیں ورنہ سچ کے مرنے کا ڈر رہتا ہے۔ اور مجھے اس موافق موسم کو کھوجنے کے لئے صدیوں کی دھند کو الٹنا پلٹنا تھا۔ سو میں خاموشی سے مجاھدے کی کڑی منازل طے کرنے لگی۔
 مجھے یاد ہے بابا بتاتے تھے کہ جب مجھے سیرنگ کے ٹھیک دو سو سال بعد اُسی بندر والے سال میں اُس ناکردہ گناہ کے بھاری بھرکم بوجھ کے ساتھ دنیامیں دھکیلا گیا تو میری ماں نے مجھے اپنانے سے انکار کردیا۔ مگر مجھے دھتکار کے ساتھ جینا منظور نہ تھا۔ میں ہوش سنبھالتے ہی اپنی الگ راہ چُنی۔ یہ میرا دوسرا جرم تھا۔ پھر اِن جرائم میں اضافہ ہوتا گیا۔
’’ جھوگانگ مندر،،میں مناجات اُسی التجائیہ لہجے میں جاری تھیں۔ لاؤتزے کی دھرتی سے طلوع ہوتے خوف کے سورج کا پرکاش پوتالہ کے کلس میں نمایاں ہونے لگا تھا۔ جھیلوں پر جمی برف میں خون کی سرخی گھلی تو ہجرت کا ’’ کارڈنگ،، پھونکا جانے لگا۔ اس کی ہر ہوک تبت کے گلی کوچوں میں اُداسی اور ویرانی بوتی گئی۔ لہاسہ کے ساتھ ساتھ آمدو اور کُھم بھی ویران ہونے لگے۔ہر آنکھ کرما پا پر لگی ہوئی تھی۔ لیکن اس کے پاس بھی کہنے کو کچھ نہیں تھا۔
 کرماپا نیگما قبیلے میں دلائی لامہ کے بعد سب سے معزز مانا جاتا تھا۔ قبیلے کے لئے قربانیوں اور تیاگ نے اسے نہ صرف نیگما بلکہ ستاکیہ، پگیو اور باقی قبائل میں بھگوان کے درجے پر فائز کر دیا تھا۔ لوگ جانتے تھے اس کا نیلے جاددانی آسمان سے خاص رابطہ ہے۔ لیکن اس کی بجھی آنکھیں اور گنگ زبان خوف کو گہرا کر رہی تھی۔
’’ وقت اپنے آپ کو دہراتا ہے۔ لمحے دان کے طالب ہوتے ہیں اگر کشکول خالی رہ جائے تو وقت دامن سے جھٹک دیتا ہے اورہم جھٹک دیئے گئے،، مہا لامہ کی آواز میں نقاہت تھی۔
 کرماپا کی نظر یںمجھ پر گڑی ہوئی تھیں۔ اور میں وقت کے پنوں پرلکھا غداری کا فیصلہ پڑھنے میں لگی ہوئی تھی۔ سیرنگ اور بوڑھے لامہ کی کہانی پرانی ضرور تھی لیکن ہر ایک کو ازبر تھی۔ وہ صدیوں پہلے قبیلے کی بہت ہی مقدس دستاویزات لے کر جیوانی سے نکلے تھے۔ دستاویزات میں دلائی لامہ کے آئیندہ آنے والے جانشین کی نشانیاں اور اس کے نام خط کے علاوہ اور بھی کاغذات تھے جو ابدی رازوں کے امین تھے۔ سیرنگ اوراما جو اس وقت کے مہا پروہت کی اکلوتی بیٹی تھی۔اس کی کمال پھرتی اور بہادری کی بنا پر اس قافلے کی کمان سونپی گئی۔ لیکن قافلہ کبھی لہاسہ نہ پہنچ سکا۔ کوئی نہیں جانتا ان کے ساتھ کیا ہوا۔ نیگما قبیلہ اپنا دلائی لامہ چننے کا حق کھو بیٹھا۔ لوگوں نے بے جھجھک سیرنگ پر غداری کی تہمت دھری اور مہا پروہت کو غیر محسوس طریقے سے مونسٹری سے الگ کر دیا گیا۔ اختیارات محدود ہوتے گئے یہاں تک کہ ایک دن مونسٹری کے دروازے اس پر بند کر دئیے گئے۔ لیکن وہ باہر جانے کی بجائے اندرونی صحن کی طرف گیااور ایک مردہ درخت کے سوکھے تنے کے ساتھ ٹیک لگا کر آسن جمایا اور دنیا تیاگ دی۔ اس کی موت اوراما خاندان میں لڑکیوں کی موت تھی۔انھیں زندہ درگور کیا جانے لگا۔ وہ اوراما کا شبھ نام تیاگ کر جھوٹی شناخت کی چادر میں بقا کی جنگ لڑتے رہے لیکن ایک لڑکی کے ہاتھوں خاندانی عزت و وقار کے لٹ جانے کا دکھ انھیں جھلساتا رہا۔
جب مہا لامہ نے اپنے جانشین کو لکھے خط میں اس زیاں اور آنے والے وقت میں اس کے نتائج کا ذکر کیا تو یہ کہانی ایک بار پھر سے زندہ ہو گئی۔ قبیلے کی مقد س دستاویزات کا کھو جانا وقت کے دائرے کا نامکمل رہ جانا تھا۔

’’ مجھے ڈر ہے جب وہ نامکمل دائرہ موجودہ لمحوں کے سامنے آئے گا تو طوفان اُٹھا دے گا یہی مقدر ہے،،
’’ اگر یہی مقد ر ہے تو مقدر بدلا جا سکتا ہے مقدر بدلا جائے گا۔ یہ میر ا’’مہاآنی،، کا وعدہ ہے،، میرے لہجے میں کچھ تھا مہالامہ نے مجھے دیکھا اور سر جھکا کر حجرے کی طرف بڑھ گیا۔ اس کے بوڑھے جھریوں بھرے چہرے پر فکر و رنج اور خاموشی تحریر تھی۔ میری مناجات بڑھنے لگیں۔ میں چاہ کر بھی اس احساس کو جھٹک نہیں پائی تھی۔ آخر تھی تو میں بھی اوراما خاندان کی بیٹی۔ کیا ہوا جو جھوٹ کی چادر نے میری اصلیت کو ڈھانپ لیا تھا۔کیا اوراما نہ لکھنے سے حقیقت بدل جاتی؟
 گو میں وقت میں نقب لگا چکی تھی۔ ایک اوراما کا ’’ مہا آنی،، بن جانا کسی معجزے سے کم نہ تھا۔ کہاں تو صدیو ں سے مونسٹری کے بند دروازوں کو حسرت سے تکتے مٹی اوڑھنے والے میرے بزرگ اور کہاں اوّل دن سے ٹھکرا دی جانے والی میں۔۔۔۔ تاشی اوراما۔۔۔۔ جس نے نہ صرف ان دروازوں کو کھولنے کی جرات کی تھی بلکہ وہاں اپنی جگہ بنانے میں بھی کامیاب ہو گئی تھی۔ اس کے باوجود ایک پُرخار راہ میری منتظر تھی۔ 
 ایک دن مہا لامہ کا کہا سچ ہوا۔ ادھورا دائرہ موجودہ لمحوں کے سامنے آیا تو ماضی کے عتاب بھی ساتھ اٹھا لایا۔ پیکنگ اور لہاسہ کے درمیان صدیوں سے جاری جھگڑا بڑھا اور پوتالہ کے بلند بُرج پر پانچ پیلے ستاروں والا سرخ جھنڈا گاڑ دیا گیا۔ زندگی مشکل ہونے لگی۔ قربانی اور مناجات کے خصوصی دور ہوئے روٹھے ہوئے امن کو آواز دی گئی مگر سب بے سود تھا
’’ ہم اپنے خون میں رچے گناہ کے احسا س کو
اس مقد س آگ میں بھسم کرتے ہیں
اے روحوں کو پاک کرنے والے
اپنی آسمانی سلطنت کے در کھول
کہ مناجات کو سندِ قبولیت عطا ہو
اے ازل سے زندہ وہنے والے
ہمارے کشکول میں سانسوں کی بھیک ڈال
ہمارے بازوؤں میں اتنی طاقت ہے کہ دشمن کا سینہ چیر سکیں
نیزے کی انی اور تلوار میں اپنی روح کی شکتی رکھ
لہاسہ کو تیری ضرورت ہے،،
 سینے مٹی کی ہانڈیوں میں پکتے شوربے کی مانند اُبل رہے تھے آنکھوں میں تھکن بھر نے لگی۔۔۔۔۔۔ روحیں کلس رہی تھیں لیکن جاودانی آسمان کا نقارہ خاموش ہی رہا۔ شاید وقت آن پہنچا تھا۔۔۔۔۔ رخت ِ سفر تیار کیا جائے۔۔۔۔۔۔۔کبھی کبھی تو وقت اتنی بھی مہلت نہیں دیتا۔ اچانک نقارے پر چوٹ پڑتی ہے اور کوچ کا حکم دے دیا جاتا ہے۔ میں نے تھکی تھکی نظروں سے اس قدیمی تبتی درسگاہ کو دیکھا۔ صندل کی پرانی لکڑی کی مہک آج بھی تازہ تھی۔۔۔۔۔۔ شاید یہ گروہ رنپوچھے اور راجکماری مندرہ کی محبت کا اعجاز تھا۔۔۔ وہ مندرہ جو گرو کی محبت میں خود کو بھلا بیٹھی تھی۔۔۔۔۔ اندھے کنویں میں قید کاٹتی مندرہ کے دل سے محبت کا الاؤ کبھی سرد نہ ہو سکا۔۔۔۔یہیں کہیں سیرنگ بھی وقت کی سفاکی کی بھینٹ چڑھ کر بدنامیوں میں دفن کر دی گئی تھی۔۔۔۔۔ کسی نے سچ کھوجنے کی کوشش ہی نہیں۔۔۔۔۔ آخر کیوں؟ مہا پروہت بھی جان ہار کر سمجھا حساب برابر ہو گیا۔۔۔۔۔۔ لیکن مجھ جیسی جانے کتنی لڑکیاں سانسوں کی ٹوٹتی مالا کو جوڑنے کی ناکام کوشش میں پیوندِ زمین ہوتی رہیں۔۔۔۔۔۔۔ میرے اندر خلا بڑھ رہا تھا۔۔۔۔۔ در و دیوار سے بوند بوند ٹپکتی شانتی بھنگ ہونے لگی۔ سرد ہوا نے دھیرے سے میرے رخسار چھوئے تو آنسو جیسے گالوں پر جمنے سے لگے۔۔۔۔۔۔ پچھمی ہوا میں ایک نامانوس سی مہک تھی۔۔۔۔ میری بے قراری سوا ہوگئی۔
 وقت کب تھما ہے جو اب تھم جاتا۔قافلوں کے قافلے بدھا کی جنم بھومی کی طرف بڑھنے لگے۔۔۔۔ خالی ہوتے گھروں نے چینی فوجیوں کو چونکا دیا پہرے مزید سخت کردئیے گئے۔
’’ اب کیا ہو گا؟ کیا ایک بار پھر وقت کا دائرہ ادھورہ رہنے والا ہے؟،، اس طویل برفانی گپھا میں چھپے مہا لامہ اور اس کے ساتھیوں کے چہرے پر ایک ہی سوال تھا۔ یہ نیگما قبیلے کی مقدس دستاویزات اور بوڑھے کرماپا کو خاموشی سے ہندوستان کی طرف لے کر نکلنے والا آخری قافلہ تھا۔ اور میں۔۔۔۔۔۔ تاشی اوراما۔۔۔۔۔ اس قافلے کی سالار۔۔۔۔۔۔ شاید وقت ایک بار پھر سے اپنے آپ کو دھرا رہا تھا۔۔۔۔ خوف میرے اندر کنڈلی مار کر بیٹھ گیا۔۔۔۔۔ کیا مقدر بدلا جائے گا یا؟۔۔۔۔۔۔ مجھے آگے کچھ نہیں سوچنا تھا۔۔۔۔۔ سو خاموشی سے حفاظتی اقدامات کا جائزہ لیا۔۔۔ بوڑھا کرماپا اپنی پالکی میںبظاہر آسودگی سے لیٹا ہوا تھا لیکن میں جانتی تھی اس کے اندر جھکڑ چل رہے ہونگے۔
 دور پہاڑوں کی اُوٹ سے چاند طوع ہوا تو مقدس آگ کے گرد مناجات کا دور شروع کر دیا گیا جو دھیرے دھیرے بھنبھناہٹ سے بلند آہنگ میں ڈھل گیا۔ اچانک مجھے اپنے کندھے پر دباؤ کا احساس ہوا۔ وہ نیلے سلک کے قدیمی انداز کے چھوپے میں ملبوس کو ئی لڑکی تھی جس کا چہرہ سفید نقاب میں چھپا ہوا تھا۔
 ’’ سپاہی کسی وقت بھی یہاں پہنچنے والے ہیں تم سب کو لے کر اُس راستے سے نکل جاؤ،، وہ دھانے کی مخالف سمت اشارہ کرتے ہوئے سرگوشی میں بولی
’’ تم کون ہو؟،، میرا ہاتھ بے اختیار اپنے پہلو میںلٹکے تیز دھار خنجرکی طرف بڑھا
’’ سوال جواب کا وقت نہیں ہے میں نہیں چاہتی تم بھی وہی غلطی کرو جو میں نے کی تھی۔ مجھ پر بھروسہ رکھو،، اس کی آواز میں ایک عجیب دلنواز سی چاشنی تھی
’’ مگر اس طرف غار بند ہے،، 
’’مجھ پر بھروسہ رکھو،، اس کے ہاتھ کا دباؤ بڑھ گیا تھا
میں ایک دم ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی مناجات کرتے کرتے جانے کب آنکھ لگ گئی تھی سردی سے میرے بدن میں عجیب سی کپکپی تھی
’’ مہا گرو ہمیں اسی وقت کوچ کرنا ہوگا،، میری آواز میں بوکھلاہٹ تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’ تاشی اوراما تمہیں اپنی شناخت چھپانے کی ضرورت نہیں کم از کم اب تو بالکل بھی نہیں،،
 ہماچل پردیش کے خوبصورت شہر منالی کی تیز رنگوں سے مزّین تبتی مونسٹری میں گیان دیتے دیتے مہالامہ نے اچانک مجھے مخاطب کیا تو مونسٹری کا سکون جیسے یکایک درہم برہم ہوگیا۔ 
’’ آپ؟،، میں اپنا پورا نام سن کر سُن ہو گئی تھی
’’ ہاں سیرنگ کی بے گناہی کی طرح مجھے تمہاری شناخت کا بھی پہلے دن سے علم تھا۔۔۔۔۔۔۔ آج سے دس سال قبل اس برفانی گپھا میں دیا جانے والا پیغام۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مہالامہ لمحہ بھر کو رکا
’’ میں جانتا ہوں وہ سیرنگ اوراما تھی،،
اس کا لہجہ ہموار تھا۔
اس رات اس برفانی گپھا میں جلتی آگ پر برف ڈال کر جب میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ غار کے بند دھانے کی طرف بڑھی تو ذہن میں ہزاروں وسوسے ہونے کے باوجود سب خاموشی سے میرے ساتھ ہولئے۔۔۔۔۔۔ میں وقت کی چال پر ششدر تھی۔۔۔۔۔ کرماپا کی پالکی کندھوں پر اٹھائے ہم تیزی سے گپھا کے اندھیروںمیں جانے کب تک سفر کرتے رہے۔ 
’’ یہاں سے دائیں طرف نکل جاؤ آگے راستہ ہموار ہے،، اچانک وہی مٹھاس بھری سرگوشی میری سماعت سے ٹکرائی اور کسی نے جیسے ہاتھ پکڑ کر گھپ اندھیرے میں مجھے دائیں طرف دھکیل دیا۔
 وقت شکاری ہے۔۔۔۔ ایک شاطر شکاری۔۔۔۔ پل بھر میں بے بس کر دیتا ہے۔۔۔۔۔۔ یہ بے بسی کبھی کبھی یگوں تک پھیل جاتی ہے۔۔۔۔ لیکن ایک بات طے ہے وقت کا عنکبوت ہمارے اردگرد جو جالا بُنتا ہے اسے ہمیں خود ہی کاٹنا پڑتا ہے۔۔۔۔ ورنہ دم گھٹتا رہتا ہے۔۔۔۔ عذاب اترتے رہتے ہیں۔۔۔ در و دیوار سے بوند بوند اترتی شانتی بھنگ ہوتی رہتی ہے۔۔۔۔۔ میں نے آج اس شاطر شکاری کو پچھاڑ دیا تھا۔
دائرہ مکمل ہو گیا تھا۔ہمالے سے اترتی دھند صحن میں محو رقص تھی۔۔۔۔ لکڑی کے ستونوں پر چڑھی سوکھی بیلوں میں پھوٹتے گلابی شگوفے نئے موسموں کی نوید دے رہے تھے۔۔۔۔ ڈولما دیوی کی مورتی کے سامنے دھری چاندنی کی کٹوریوں میں پانی بھرتے ہوئے میں سوچ رہی تھی کیا وہ واقعی سیرنگ تھی؟ کہ یکایک سر د ہوا کا ایک جھونکا میرے بدن سے ٹکرایا اور مونسٹری کے پُر سکون ماحول میں اچانک ہی ایک نامانوس سی مہک جاگ اُٹھی-
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کرماپا۔۔۔۔ دلائی لامہ کا نائب
کارڈنگ، چوئی نگا۔۔۔۔ تبتی مقدس آلاتِ موسیقی
آنی۔۔ فیمل مونک
پوتالہ۔۔۔۔ لہاسہ کا مشہو ر قدیم ونٹر پیلس
جھوگانگ مندر۔۔ بدھ مندر لہاسہ
لاؤتزے۔۔۔ چین میں تاؤ ازم کا بانی
 چھوپا۔۔۔ روائیتی تبتی لباس

 

Advertisment

Be the first to comment

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.