اس ایک موم کے گھر پر تمازتیں تھیں بہت ۔۔۔۔ شہناز پروین سحر

Shehnaz Parveen Sahar is one of the prominent, famous and senior poets. Pathos is part of her poetry and is highly effective feature of her poems. This quality amply speaks about her experiences in life and stirs up emotions of sympathy and sorrow.

غزل

( شہناز پرین سحر )

اگرچہ آیئنوں جیسی حقیقتیں تھیں بہت

ہمیں کو راہ بھٹکنے کی عادتیں تھیں بہت

وفا پسند تھا لیکن وفا شعار نہ تھا

وہ کچھ بھی تھا ہمیں اس سے محبتیں تھیں بہت

کبھی وہ لوٹ بھی آیا تو کیا ملے گا اسے

وجود ِ خاک کو درپیش ہجرتیں تھیں بہت

بس ایک مٹھی ستاروں کی مجھ کو دے دیتا

اندھیرے گھر کو سجانے کی حسرتیں تھیں بہت

مرا چراغ بجھانے کو آفتاب آیا

اس ایک موم کے گھر پر تمازتیں تھیں بہت

اب آج یوں ہے کہ وہ یاد تک نہیں آتا

کبھی وہ دن تھے کہ اس کی ضرورتیں تھیں بہت

ذرا سا فاصلہ رکھتے تو ہم سنبھل جاتے

جدایئوں کا سبب بھی تو قربتیں تھیں بہت

یہ کیا کہ چاند کی مشعل بھی بجھنے والی ہے

ابھی تو تیرہ شبی میں مسافتیں تھیں بہت

تمہارا گیت  سحر  چیخ بن گیا آخر

سمے کی تال پہ بے جوڑ سنگتیں تھیں بہت

Advertisment

Share your Thoughts: