دوپٹہ ٹھیک کرو ۔۔۔ شائستہ مومن

shaista-momin-story-dopatta-theek-karo

دوپٹہ ٹھیک کرو

(شائستہ مومن)

میں ننھے ہاتھوں میں سیپارہ تھامے، وجد کی کفیت میں، لہک لہک کر سبق دہرا رہی تھی۔ “دوپٹہ ٹھیک کرو ” قاری صاحب نے گھورتے ہوئے کرختگی سے کہا اور میں سبق بھول گئی۔

” امی امی صبا کے ساتھ کھیلنے جاوں ؟ ” دوپٹہ ٹھیک کرو”  امی نے میرے نا بالغ جسم کے ان حصوں پر اچھی طرح میرے قد سے بھی لمبا کپڑا لپیٹ دیا جو ابھی پحوٹے بھی نہ تھے۔ وہ نہ جانے کیا اور کس سے چھپانا چاہتی تھیں۔ بھائی چھت پر پتنگ اڑا رہا تھا آسمان پر دور اڑتی پتنگ دیکھ کر میرا بھی دل مچلا۔

” بھائی بھائی” میں نے اسکا دامن کھینچ کر کہ ” مجھے بھی پتنگ اڑانی ہے “

” دوپٹہ ٹھیک کرو ” اسنے ناگواری سے مجھے دیکھا اور پھر محو ہو گیا

اسکول میں آدھی چھٹی میں دوستوں سے پٹو باری کھیلتے میں نے چادر نما دوپٹہ کمر پر باندھ لیا تھا۔ اچانک مس قدسیہ قریب آیئں، ” اپنا دوپٹہ ٹھیک کیجئے۔۔” انکی سخت گیر نظروں کی ناگواری نے مجھے سہما دیا۔

رخصتی کے وقت میں بلک رہی تھی۔ بہنوں سے لپٹ کر رو رہی تھی۔ پیچھے سے کسی خالہ، پھوپھی کی آواز آئی، ” دوپٹہ ٹھیک کرو”۔۔۔ اور میں ہوش میں آگئی۔ بے شمار نظریں مجھ پر تھیں۔ میں نے اپنے آپ کو سنبھالا ۔ دوپٹہ ٹھیک کیا اور رخصت ہو گئی۔

میرا ہوا میں جھولتا دوپٹہ، موٹر سائکل کے پہیئے میں آگیا۔ ہم دونوں بری طرح سے گرے۔ میرے ہاتھ کہنیوں تک چھل گئے، خون بہہ رہا تھا، وہ بولا ” دوپٹہ ٹھیک کرو۔۔۔”

میں لیبر پین سے دوہری ہوئی جا رہی تھی، آنکھوں آگے اندھیرا چھا رہا تھا۔ درد میری کمر میں ڈرل کئے جا رہا تھا، میری ساس، دبی زبان میں بولی، “دوپٹہ ٹھیک کرو”

میڈم نجمہ نے مجھے اپنے کمرے میں بلایا تھا، شاید کوئی نئی ذمہ داری دینا ہو گی۔  ” یہ آپ آج کل کیا کیا پوسٹ کر رہی ہیں فیس بک پر ۔ آپ کو اپنی نہیں تو عورت ذات کی عزت تکریم کا خیال تو ہونا چاھئے۔ ضروری نہیں آپ جو سوچیں اسے لوگوں کو پڑھوایئں بھی۔ آینئدہ احتیاط کیجئے گا ایسی پوسٹ پر۔۔” ان کی بات ختم ہوئی اور میں حیران سی واپس مڑی تو بولیں، ” اور ہاں اپنا دوپٹہ درست کریں “

میں زندگی کی چار دہایئاں دیکھ چکی ہوں۔

یہ پٹا جو معاشرے نے میرے گلے میں ڈالا ہے، ہمیشہ مجھے آدھا کرتا آیا ہے۔ یہ پٹہ مجھے ہی سنبھالنا پڑتا ہے۔ میں مر رہی ہوں یا جی رہی ہوں، مجھے اسے ٹھیک کرنا ہی پڑتا ہے

Be the first to comment

Share your Thoughts: