بدلاو ۔۔۔ شین زاد

Sheen Zad is a young short story writer. He is a poet as well. His short stories are well knitted with a style and discuss the problems and sufferings of a common man

بدلائو

(شین زاد )

بدلاؤ فطرت کی سرشت میں شامل ہے آہستہ ، بتدریج اور آگے کی سمت لیکن جب انسان فطرت سے چھیڑ چھاڑ کرتا ہے تو بدلاؤ کی رفتار اور سمت بدل جاتی ہے اور اگر یہ چھیڑ چھاڑ خود انسان کی ذات میں ہو تو پھر کیا ہوتا ہے؟
پھر وہ ہوتا ہے جس کا انسان گمان بھی نہیں کرسکتا۔
اس دن سرمد نے جب فصاحت پر ٹوٹ پڑنے کی کوشش کی تو فصاحت نے اسے بری طرح جھنجوڑ ڈالا نہیں یہ تم کیا کر رہے ہو؟ کیا ہو گیا ہے تمہیں؟ پیچھے ہٹو۔
فصاحت نے اسے خود سے دور ہٹایا توسرمد نے فرط ِ جذبات میں بے تکان بولنا شروع کر دیا یار فصاحت ﮐﭽﮫ ﺩﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﻋﺠﯿﺐ ﮐﯿﻔﯿﺖ ﻃﺎﺭﯼ ﺭﮨﻨﮯ ﻟﮕﯽ ﮨﮯ ﺍﯾﺴﺎ ﻟﮕﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﮨﮯ ﺟﯿﺴﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺮﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﻋﻮﺭﺕ ﮨﻮﮞ ﭘﻮﺭﺍ ﺟﺴﻢ ﺍینٹھنے ﻟﮕﺎ ﮨﮯ ﮔﮭﻨﭩﻮﮞ ﺁﺋﯿﻨﮯ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮐﮭﮍﺍ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﻮﮞ لیکن ﺁﺋﯿﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﯾﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﺘﮧ ﮨﺮ ﻭﻗﺖ ﺟﯽ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﺎﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯿﻨﭽﮯ ﺭﮐﮭﮯ ﮐﺴﯽ ﻣﺮﺩ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺗﻮ ﻃﺒﯿﻌﺖ ﻣﯿﮟ ﻋﺠﯿﺐ ﺳﯽ ﺳﺮﺷﺎﺭﯼ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﻟﮍﮐﯿﺎﮞ ﺯﮨﺮ ﻟﮕﻨﮯ ﻟﮕﯽ ﮨﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺒﮭﯽ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺣﺎﻟﺖ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮐﯿﺎ ﺑﺘﺎﺅﮞ ﺟﯽ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﺑﺮﮨﻨﮧ ﺑﺪﻥ ﮨﻮ ﮐﺮ ﻧﻮﮐﯿﻠﮯ ﭘﺘﮭﺮﻭﮞ ﭘﺮ ﻟﯿﭧ ﺟﺎﺅﮞ ﺍﻭﺭ ﮔﮭﻨﭩﻮﮞ ﮐﺮﻭﭨﯿﮟ ﺑﺪﻟﺘﺎ ﺭﮨﻮﮞ ایسا لگتا ہے یہ میرا بدن نہیں تپتا ہوا سرخ سریا ہے جس پر ہتھوڑے کی شدید ضربیں ماری جائیں کہ یہ تپش یہ اینٹھن کسی طور ختم ہو یہ سب کہتے ہوئے سرمد کی عجیب حالت تھی ایسا لگتا تھا کہ حقیقت میں ضربیں لگوانے پر کمر بستہ ہے فصاحت نے اس کی بات سنی تو فوراً اسے مشورہ دے ڈالا
ﯾﺎﺭ , ﺗﻮ ﮐﺴﯽ ﻟﮍﮐﯽ ﺳﮯ ﺩﻭﺳﺘﯽ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ۔
ﻧﮩﯿﮟ ﯾﺎﺭ ﻟﮍﮐﯽ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮍﮐﯽ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﮮ ﮔﯽ؟ ﺗﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﺴﯽ ﻣﺮﺩ ﮐﺎ ﺑﺘﺎ ﮐﺴﯽ ﺍﯾﺴﮯ ﻣﺮﺩ ﮐﺎ ﺟﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﺗﻮﮌﮮ, ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺮﺯﮮ ﭘﺮﺯﮮ ﮐﺮ ﺩﮮ, ﻣﯿﺮﺍ ﮐﭽﻮﻣﺮ بنائے, ﻣﺠﮭﮯ توڑے، توڑ کے ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺟﻮﮌﮮ اور پھر توڑے ۔
اس رات فصاحت اپنے بستر پر لیٹا سرمد کی دست درازی کے بارے سوچنے لگا اس نے سرمد کی کیفیت کے بارے سوچا اور پھر اپنی کیفیت کے بارے جس سے وہ مہینے بھر سے گزر رہا تھا اور اب جسے برداشت کرنا اس کے بس میں نہیں رہا تھا جس کی شروعات مہینہ بھر پہلے ہوئی تھی جب اس کی نئی کرائے دار نے کچھ سامان ادھر ادھر رکھنے کے لیے اسے اوپر بلایا تھا اور جب وہ اس کا سامان اٹھا کر ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں گیا تو وہ اس کے پیچھے آگئی اور اسے دبوچ لیا جب وہ اسکا لمس لے رہی تھی بس اس وقت فصاحت کے دل میں ایک شدید اور عجیب خواہش پیدا ہوئی…….
فصاحت کا لمس لیتے ہوئے اس کا احساس جاننے کی خواہش اس کا احساس جھیلنے کی خواہش عورت بننے کی خواہش اس دن یہ سوال اس کے دل میں سانپ بن کر بیٹھ گیا کہ کیا عورت اور مرد کے احساس میں فرق ہوتا ہے؟
اور اس سوال کا جواب پانے کی خواہش نے اسے نیم پاگل کر ڈالا یہاں تک کہ وہ عورت بننے کے لیے آمادہ ہو گیا
اسے اپنا آپ کسی غار میں محسوس ہونے لگا یا کسی کال کوٹھری میں جہاں نہ روشنی تھی اور نہ ہوا ایک مُردنی تھی جو اس پر طاری تھی عورت کے قرب میں اس کے لیے اب کوئی لطف نہیں رہا تھا صبح سے شام اور شام سے صبح اس کے دل میں بیٹھا سانپ اسے ڈستا رہتا تھا اور یہ خیال زہر بن کر اس کی رگوں میں دوڑنے لگا تھا کہ وہ عورت بنے اور اس کیفیت کو خود جھیلے خود محسوس کرے جو ایک مرد کے لمس سے ایک عورت جھیلتی اور محسوس کرتی ہے وہ اس ہیجانی کیفیت میں یوں پھنسا تھا جیسے ایک مکھی مکڑی کے جال میں پھنسی ہو پھڑپھڑاتی تڑپتی اور دھیرے دھیرے مرتی ہوئی..

یار میں نے ایک ڈاکٹر سے رابطہ کیا ہے اس کا نمبر مجھے ایک ویب سائٹ سے ملا ہے جو آپریشن کر کے جنس بدل دیتا ہے اس نے اگلی شام سرمد کواپنی کیفیت کے بارے بتاتے ہوئے کہا تو سرمد حیرانی سے قریب چیخ ہی اٹھا کیاااااا توسنجیدہ ہے جنس بدلنے کے لیے؟
ہاں اس میں حرج ہی کیا ہے؟؟
فصاحت جب سرمد سے یہ سب کہہ رہا تھا تو اس کی آنکھوں میں عجیب چمک تھی ایسی چمک جیسے جنت میں داخل ہونے کا پروانہ اسے مل گیا ہو
کوئی دن گزرے تھے کہ وہ ڈاکٹر سے ملنے کراچی سے لاہور آ گیا کلینک یتیم خانہ کے علاقے میں واقعہ تھا جہاں تک پہنچنے کے لیے اسے بڑی دشواری کا سامنا کرنا پڑا تھا اس پرانے محلے کے ایک بوسیدہ مکان کے سامنے جب وہ پہنچا جس کا پتہ ڈاکٹر نے فون پر دیا تھا تو اس کا دل بیٹھنے لگا لیکن جب دماغ جاگتی آنکھوں خواب بننے لگے تو دل کی کون سنتا ہے اس نے آگے بڑھ کر دروازے پر لگی لوہے کی زنجیر سے دستک دی تو اندر سے ایک مردانہ آواز ابھری کون ہے؟ اندر آ جاؤ….
فصاحت نے دروازے کا پٹ دھکیلا اور اندر داخل ہو گیا یہ ایک آٹھ دس کمروں کا پرانا حویلی نما گھر تھا جس کے مین دروازے کے سامنے بڑا صحن تھا جس کے چار جانب کمرے بنے ہوئے تھے جن میں سے اکثر دروازے بند تھے صحن میں ایک طرف ایک میز رکھی تھی جس کے پیچھے قریب ساٹھ سال کا ادھیڑ عمر شخص بیٹھا تھا جس کی ناک پر موٹے عدسوں کی عینک دھری تھی جس کی ایک ٹانگ ٹوٹی ہوئی تھی جسے اس نے ڈوری سے باندھ رکھا تھا اس نے فصاحت کی طرف دیکھتے ہوئے اس سے پوچھا جی فرمائیں تو فصاحت جو عمارت کے معائنے میں منہمک تھا متوجہ ہوا جی میری ملاقات طے ہے ڈاکٹر نذیر سے
آپ کا نام ؟
فصاحت
کچھ دیر بعد فصاحت ڈاکٹر کے سامنے بیٹھا تھا اور ڈاکٹر اسے بتا رہا تھا کہ تین بار چیر پھاڑ کرنی پڑے گی مگر کچھ اس کی شدید خواہش نے اسے اندھا کر دیا اور کچھ ڈاکٹر نے اسے شیشے میں یوں اتارا کہ وہ فوراً آپریشن کے لیے تیار ہوگیا
ڈاکٹر کے کہنے پر کہ اسے نو سے گیارہ مہینے تک زیر ِ نگرانی رہنا پڑے گا وہ بھائی کو کچھ بھی بتائے بنا لاہور منتقل ہو گیا ویسے بھی اسکا بھائی سے تعلق بس واجبی تھا باپ لاکھوں کی جائداد چھوڑ کر مرا تھا جسے بڑے بھائی نے باپ کے مرنے کے بعد ہی برابر تقسیم کر دیا تھا اور اب وہ اپنی زندگی میں خوش تھا اور یہ اپنی زندگی میں مگن-
آپریشن سے چند ماہ پہلے سے ہی اسے مختلف طریقوں سے ہارمونز دیئے جانے لگے تھے اور یہ سلسلہ آپریشن ہو جانے کے بعد بھی کچھ عرصہ جاری رہا
. جس دن پہلا آپریشن تھا وہ تھوڑا ڈرا ہوا تھا کلینک اٹینڈنٹ نے ایک فارم اس کے سامنے لاکر رکھا اور کہا اسے پڑھ کر اس پر دستخط کر دو اس نے اٹینڈنٹ سے کہا یہ کیا ہے؟
یہ تمہارا اجازت نامہ ہے کہ تم اپنی مرضی سے جنس تبدیل کروا رہے ہو اور تم پر کسی کا کوئی دباؤ نہیں ہے
فصاحت نے اپنا خوف چھپانے کے لیے چہک کر کہا یہ تو کوئی مسئلہ ہی نہیں مگر اس کے چہکنے سے مصنوعی پن صاف ظاہر تھا..
اس نے دستخط کر کے فارم واپس کر دیا تو اٹینڈنٹ دوبارہ مخاطب ہوا ایک بار جنس تبدیل ہو جانے کے بعد آپ اپنی پرانی جنس پر واپس کبھی نہیں جا سکیں گے اور آپ کو اپنی باقی تمام عمر نئی جنس کے ساتھ گزارنی پڑے گی اٹینڈنٹ یہ کہہ کر چلا گیا-اس وقت فصاحت خوف اور خوشی کی ملی جلی کیفیت محسوس کر رہا تھا اک خواب تھا جو حقیقت بننے جا رہا تھا وہ سوچنے لگاجلد وہ دن آنے والا ہے جب وہ بھی ایک عورت ہو گا ایک عورت کی طرح مرد کے لمس سے لطف اندوز ہو گا اور ہر وہ کیفیت خود جیے گا جو ایک عورت جیتی ہے..
اس کے بعد اسے آپریشن تھیٹر بھیج دیا گیا غیر قانونی طور پر اس قسم کے اپریشن کرنے کے لیے بنائے گئے اس کلینک کا آپریشن تھیٹر بھی عجیب تھا بس ایک چھوٹا کمرہ تھا جس کے درمیان میں ایک اسٹریچر رکھی تھی سائیڈ پر ایک میز پر جراحی کا سامان دھرا تھا اسٹریچر کے عین اوپر دو بڑے سیور بلب روشن تھے ایک طرف دیوار کے ساتھ ہاتھ دھونے کے لیے سِنک نصب تھا ابھی وہ اسٹریچر پر لیٹا ہی تھا کے دو نرسیں اندر داخل ہوئیں ایک جراحی کا سامان ترتیب دینے لگی اور دوسری نے اسے ایک پیشنٹ گاؤن دیا اور کہا یہ پہن لو وہ گاؤن بدل کر آیا اور اسٹریچر پر لیٹ گیا اس کے بعد نرس نے اسے ایک انجیکشن دیا جس سے وہ بے ہوش ہو گیا اسے جب ہوش آیا تو آپریشن ہو چکا تھا…. اور اب وہ مرد نہیں رہا تھا.
دوسرا آپریشن زیادہ دشوار, طویل اور تکلیف دہ تھا اس اپریشن کے بعد پہلے دو دن اور راتیں تو اس کی ناف سے نیچے پورے دھڑ کی جگہ جیسے درد نے لے لی تھی ایسا درد جس کی کوئی انتہا نہیں تھی دوسری رات جب نرس اسے کھانا اور دوا دینے آئی تو اس نے نرس سے پوچھا کیا عورت بننا اتنا ہی تکلیف دہ ہے نرس نے اس کے درد کی شدت سے زرد پڑتے چہرے کی طرف اک نظر دیکھا اور کہا_
“شاید اس سے بھی زیادہ” ….
نرس کے جواب نے درد کی شدید لہر اس کی ریڑھ کی ہڈی میں پیدا کر دی
اس نے آنکھیں زور سے بھینچیں اور سر تکیے پر ٹکا دیا–
نرس نے کھانا سائیڈ میز پر رکھا اسے ہارمونز کے دو انجیکشن دیے اور چلی گئی…. تیسرے آپریشن تک اس کے سینے ,پیٹ اور چہرے کے بال پوری طرح جھڑ چکے تھے جو یقیناً ہارمونز کی کرامات تھیں تین آپریشنز اور ہارمونز کی متواتر خوراکوں نے اسے بظاہر عورت بنا دیا تھا نویں مہینے اسے بستر سے اٹھنے اور چلنے پھرنے کی اجازت مل گئی تھی مگر ابھی مزید ایک مہینہ یا اس سے اوپر کچھ دن اسے ڈاکٹر کے زیر ِ نگرانی رہنا تھا اب جو ہارمونز اسے دیے جا رہے تھے ان سے اس کی آواز میں بدلاؤ آنے لگا تھا اور اس کا سینہ اب ایک مرد کا نہیں بلکہ عورت کا سینہ دکھنے لگا تھا اس کی چال میں ہلکی سی لچک آتی جا رہی تھی اور پھر وہ دن آیا جب اسے گھر جانے اور آئنہ دیکھنے کی اجازت مل گئی-نرس نے اس کا نام علیزے رکھ دیا تھا جو خود اسے بھی بہت پسند آیا تھا اور اس نئے روپ کے ساتھ اس نے یہی نام اپنانے کا فیصلہ کر لیا تھا-
کلینک سے فارغ ہو کر اس نے کراچی بھائی کے گھر جانے کے بجائے اسلام آباد والے گھر میں سکونت اختیار کرنے کا فیصلہ کیا وہ فِی الفور بھائی بھابی کا سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا اس نے پہلی بار خواتین کا لباس زیب ِتن کیا جو اس نے ایک نرس کی مدد سے حاصل کیا تھا تو اس کے احساسات عجیب تھے اور جب اس نے پہلی بار اپنا سراپا قد آدم آئینے میں دیکھا تو اسے خود یقین نہیں آیا آئینے میں اس کے سامنے ایک بھرپور جوان لڑکی کھڑی تھی جس کا حسن کسی کا بھی ایمان چھین لینے کے لیے کافی تھا۔
کلینک سے اسے پیدل مین سڑک تک آنا تھا جہاں سے اسے ٹیکسی لے کر ایئر پورٹ جانا تھا آتے ہوئے تو اسے کلینک تک پہنچنے میں اس لیے دشواری ہوئی تھی کہ وہ ان گلیوں سے واقف نہیں تھا اور اسے کئی لوگوں سے پوچھنا پڑا تھا لیکن آج واپس جاتے ہوئے تو ایسا لگتا تھا جیسے وہ ان تنگ گلیوں سے نہیں بلکہ پل صراط سے گزر رہا ہو کسی بھی نُکر کسی بھی چوبارے یا بالکنی پر کھڑا کسی بھی عمر کا کوئی شخص ایسا نہیں تھا جس نے اس کے حسن کے بہتے چشمے سے اپنی آنکھوں کو وضو نہ کروایا ہو اسے ایک ایک نگاہ تیر کی طرح اپنے جسم میں ترازو ہوتی محسوس ہو رہی تھی اور اس وقت تو حد ہی ہو گئی جب ایک تنگ گلی سے گزرتے ہوئے پیچھے سے آتا ایک لڑکا اس کے کولہے پر ہاتھ پھیر کر تیزی سے اس کے پاس سے گزر گیا اس کا خون کھول رہا تھا اس کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں اس کے اعصاب شل ہو رہے تھے اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے ایک تو لوگوں کی نگاہیں اور اوپر سے یہ حرکت وہ اس لڑکے کو پکڑنا چاہتا تھا اسے سبق سکھانا چاہتا تھا لیکن نرس کی کہی اس بات نے اسے روک دیا کہ اب تم عورت ہو تمہیں بہت کچھ برداشت کرنا پڑے گا کیوں کہ یہ مرد کا معاشرہ ہے اور مردوں کے معاشرے میں عورت کی آزادی اور برابری بھی مردوں کا دکھاوا ہے بس –
لاہور سے اسلام آباد پہنچنے تک وہ قریب نیم پاگل ہو چکا تھا یہ عورت ہونے اور عورت بننے کی کشمکش تھی دنیا کے لیے وہ عورت “تھا” جب کہ حقیقت میں تو وہ عورت “بنا” تھا پورے راستے وہ خود کو یہ احساس دلانے کی کوشش کرتا رہا تھا کہ وہ علیزے ہے ایک حسین جوان لڑکی گزرے چند گھنٹوں میں ہی اسے یہ احساس ہونے لگا تھا کہ جیسے وہ رسی پر سوکھنے کے لیے ٹنگا کپڑا ہے جس پر رسی اپنا زور لگا رہی ہے اور ہوا اپنا اور اس کھینچا تانی میں نہ وہ مکمل رسی کا بن پارہا ہے اور نہ ہوا کا علیزے اور فصاحت کی مڈ بھیڑ میں اس کا کیا بننے والا ہے وہ اس سے بے خبر تھا لیکن اس کشمکش نے اسے اندر سے قریب پورا پورا ادھیڑ ڈالا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
اسلام آباد پہنچ کر اس نے خود کو گھر میں قید کر لیا اسے لوگوں کی نگاہوں سے وحشت ہونے لگی تھی اس لیے وہ گھر سے باہر نہیں نکل رہا تھا کچھ دن یوں ہی گزر گئے لیکن اب گھر میں بند ہو کر بھی چین نہیں آ رہا علیزے باہر جانا چاہتی ہے گھومنا پھرنا چاہتی ہے لوگوں سے ملنا چاہتی ہے لیکن فصاحت ؟ وہ تو پوری دنیا سے بھڑ جانے کے لیے تیار کھڑا ہے علیزے اور فصاحت کی جنگ میں جیت آخر علیزے کی ہوئی اس نے سوچا کیوں نہ سرمد کو کال کی جائے کیوں نہ اسے اسلام آباد ہی بلا لیا جائے اس نے سرمد کو فون کیا کال ملتے ہی ایک خاتون کی آواز سرمد کی سماعت سے ٹکرائی تو وہ چونک گیا علیزے نے سرمد کو مختصراً احوال سنایا اور اسلام آباد آنے کی دعوت دی سرمد کا اشتیاق بھی اس سے ملنے کے لیے بڑھ رہا تھا اس نے فوراً اسلام آباد آنے کی حامی بھر لی اور اگلے روز ہی اسلام آباد پہنچ گیا
علیزے خود اسے لینے ایئرپورٹ گئی پہلی نظر میں تو سرمد نے اسے پہچانا ہی نہیں ایک خوبصورت حسین لڑکی اس کے نام کا کارڈ ہاتھ میں تھامے کھڑی تھی نکلتا ہوا قد دبلی کمر بال شانوں تک کٹے ہوئے ہلکا میک اپ کیے ہوئے نسوانی حسن سے بھرپور ابھرا ہوا سینہ فصاحت جو نرم و نازک اور گورا چٹا واقع ہوا تھا جنس بدلنے کے بعد خاص نسوانی کشش اس کے جسم اور چہرے پر در آئی تھی لڑکی کے نام سے بھی بدکنے والا سرمد اس کشش میں خود کو جکڑا ہوا محسوس کرنے لگا تھا دوسری طرف علیزے جسے لڑکی بننے کے بعد سرمد میں کشش محسوس ہونی چاہیے تھی اس نے اپنے محسوسات میں کوئی تبدیلی محسوس نہیں کی یہ نئی اور عجیب صورت ِ حال تھی جس سے اس کا سامنا ہو رہا تھا جسے اس نے خود کو یہ تسلی دے کر جھٹک دیا کہ شاید یہ سب نیا نیا ہے اس لیے اسے بدلاؤ محسوس نہیں ہو رہا دونوں راستے بھر باتیں کرتے رہے سرمد نے اسے بتایا کہ اسے ایک بوائے فرینڈ مل گیا ہے اور دونوں اس نئے پر لطف تعلق سے بہت خوش ہیں اور جلد گھر بسانے والے ہیں جس پر فصاحت تھوڑا حیران ہوا پر اگلے ہی لمحے یہ سوچ اس کے دماغ میں پیدا ہوئی کہ جب وہ جنس بدل سکتا ہے تو دو مرد گھر بھی بسا سکتے ہیں اس میں اتنی بھی حیرانی کی بات نہیں گھر پہنچ کر انہوں نے کھانا کھایا اور دونوں ٹی وی لاؤنج میں آ بیٹھے ادھر ادھر کی باتیں کرتے کرتے اچانک سرمد اپنی جگہ سے اٹھا اورعلیزے کے برابر آ کر بیٹھ گیا سرمد نے خود میں اچانک اور شدید بدلاؤ محسوس کیا وہ اس تبدیلی سے حیران بھی تھا اور قدرے شش و پنج میں بھی اس نے سوچا یہ جو بھی ہے لیکن ہے بہت پر کیف و پر لطف یہ سوچتے ہوئے اس نے علیزے کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا۔۔
دوسری طرف علیزے جو عورت بننے اور مرد کا لمس محسوس کرنے کی شدید خواہش کے تابع بظاہر عورت بن چکی تھی ایسی کیفیت سے گزر رہی تھی جسے محسوس کرنے اور بیان کرنے کے لیے کسی کو بھی خود اسی کیفیت سے گزرنا بہت ضروری ہے دکھنے میں ایک مکمل عورت اور احساسات و جزبات میں ایک بھرپور مرد جو عورت کے لمس سے آشنا ہے لیکن کسی مرد کے لمس میں اس کے لیے کوئی کشش نہیں
سرمد دھیرے دھیرے آگے بڑھ رہا تھا لیکن علیزے جسے اس لمحے خود سپردگی کے دریا میں موجزن ہونا چاہیے تھا شدید تذبذب کا شکار تھی
جب سرمد نے اس کا چہرا اپنے ہاتھوں میں لیا تو وہ عجب سی کشمکش میں مبتلا تھی وہ یہ فیصلہ نہیں کر پا رہی تھی کہ وہ علیزے ہے یا فصاحت اور جب سرمد اس پر جھکا تو علیزے کے بدن میں قید فصاحت پوری شدت سے پنجرا توڑ کر باہر نکل آیا اس نے ایک زوردار لات سرمد کے سینے پر ماری اور اٹھ کر کمرے کی طرف دوڑا.

Advertisment

Be the first to comment

Share your Thoughts: