مُنو بھائی چلے گئے ۔۔۔ شہناز پروین سحر

Shehnaz Parveen Sahar is a prominent, famous and senior poet and prose writer. Pathos is part of her poetry and is highly effective feature of her poems. Her writings amply speak about her experiences in life and stir up emotions of sympathy and sorrow.

 

منو بھائی چلے گئے

(شہناز پروین سحر )

اتاتا تتلی تتلی ، پھاپھا پھول پھول
کہیں پاس ہی سے گانے کی آواز آ رہی تھی ۔ میں منو بھائی کے آفس میں بیٹھی اپنا ہفتہ وار کالم ملاقات لکھ رہی تھی ۔
” منو بھائی جی ایہہ گانا تسی لخیا اے نا میں نے شرارت سے پوچھا ” واضح رہے کہ منو بھائی اپنی گفتگو میں کچھ ہکلاتے تھے 
” جے بیوقوفاں دے سر سنگھ ہندے تے توں ضرور بارہ سنگھی ہندی ” 
منو بھائی نے اپنی مخصوص مسکراہٹ کے بیچ اپنا پسندیدہ جواب دیا 
“اچھا منو بھائی جی ساڈی بھرجائی تہانوں کیہہ کہہ کہ بلاندی اے “منو بھائی” تے نئیں ناں ؟
” مرجانی کالم لکھ اپنا دیر ہو رئی اے “
میں پیدل چل کر ان کے دفتر پہنچتی تھی اورمنو بھائی کے لہجے اور باتوں کی وجہ سے تھکن نام کو بھی نہیں رہتی تھی منو بھائی چائے بسکٹ منگواتے تھے اورکام اور گفتگو دونوں جاری رہتے ۔
ایک دن کہنے لگے اج کوئی کام کرن تے جی نہیں کر ریا پر کالم تے لکھنا ای پینا اے ۔
” اج تہاڈا کالم میں لخ دیاں منوبھائی جی ” میں نے مذاق فرمایا ۔ آفس میں بیٹھے ہوئے سبھی لوگ میری بات سن کر ہنسنے لگے ۔
” ہسن دی کوئی گل نئیں ، اوہ لکھ سکدی اے”
منو بھائی نے کہا ۔۔۔ اتنی عزت افزائی میری آنکھیں بھیگ گئیں ۔ سب لوگ چپ ہو گئے لیکن ان کی محبت میرے دل میں کھُد گئی ۔۔ ایسا بھروسہ اور ایسی حوصلہ افزائی ۔۔۔ لوگوں کی گردن میں سریا آ جاتا ہے سلام کا جواب دینا توہین سمجھتے ہیں اور منو بھائی اتنا نام اتنی شہرت اور اتنا اپنا پن ۔۔۔ وہ تو دوسروں کا قد بڑھاتے تھے اب کی رہنمائی سے ہمت آتی تھی ان سے مل کر ہمیشہ لگتا تھا آپ اپنے کسی فیلمی کے فرد سے مل رہے ہیں
آج پتہ چلا وہ جو ہم سبھی کا اتنا اپنا تھا ہمیں چھوڑ کر چلا گیا ہے ۔ اتنی دور ، کیوں چلے گئے ہیں منو بھائی جی ؟؟؟ دل خون ہو رہا ہے میں ابھی تک اُس دنیا میں سانس لے رہی ہوں جہاں منو بھائی نے سانس لینا چھوڑ دیا ہے ۔
اُس دن ہمارا تنخواہ ملنے کا دن تھا اور بنک میں سوئی دھرنے کی بھی جگہ نہیں تھی ۔ ادھر منوبھائی کو اپنے کسی پی ٹی وی پروگرام کا چیک ملا تھا وہ پریشان حال بنک ہال کے صوفے پر ایک سائیڈ پر لگے بیٹھے تھے ۔ میں نے پوچھا 
” کیہ ہویا منو بھائی جی ایتھے کیوں بیٹھے او ۔ ” 
” اے بنک اے نا تے میں وی ایتھے پیسے ای لین آیا واں پر ایتھے تے کوئی حال ای نئیں “
تب میں نے ان کا چیک کیش کرایا ۔ بولے
“توں بہت کم دی کُڑی ایں توں نہ ہندی تے میں سارا دن ایتھے ای بیٹھا رہندا “
ٹی وی آتے جاتے تو بڑے بڑے افسران کو بالائے طاق رکھ ک میری خیریت ضرور پوچھنے آتے ۔۔ 
کیسے وہ کم اہم لوگوں کو اہم تر بنا دیا کرتے تھے ۔ زندگی میں کچھ نہ بن پانے دکھ جاتا رہتا ہے
اب ایک طویل مدت ہو گئی تھی اپنی زندگی کے عذابوں میں گھِری جانے کب سے منو بھائی سے مل نہیں سکی تھی ۔ اور کتنے دن سے وہ یاد بھی نہیں آئے تھے ۔۔ لیکن جب میری کتاب ” ایک اور آخری دن ” چھپی تو منو بھائی نے میری کتاب پر اپنا کالم لکھا ۔۔۔ اف کیسے لکھا ہو گا وہ تو بیمار تھے ممنونیت کے شدید احساس لیئے میں نے ان کو فون کیا ان کا شکریہ ادا کیا تو، بولے 
“جنا تیرا حق سی اونہا نئیں لکھ سکیا ۔۔۔”
” انج نہ آکھو منو بھائی جی تہاڈا ایہہ کالم میرے لئی سرمایہ اے نالے شکر اے کہ تسی میری زندگی وچ لکھیا اے اور میں پڑھ وی لیا ۔۔۔ تسی تے مرن دے بعد لکھدے ہندے او نا “
منو بھائی ہنسے 
” توں نئیں بدلی کدی ملن آئیں مینوں میں ایتھے ریواز گارڈن وچ ای آں پتہ اے نہ تینوں “
” جی میں ضرور آواں گی “
میں انہیں بتا ہی نہیں پائی کہ میں نہیں آ سکوں گی مجھ سے چلا نہیں جاتا میں اب اتنی بیماری کے بعد تھوڑا تھوڑا چلنا سیکھ رہی ہوں ۔ 
مجھے تو ابھی منو بھائی سے ملنے جانا تھا ۔۔ اور وہ چلے بھی گئے ۔۔۔ احمد ندیم قاسمی صاحب کے بعد یہ دوسرا بہت بڑا گھاؤ ہے میرے لیئے ۔ کیا اب زندگی یہی سب سہنے کے لیئے باقی بچی ہوئی ہے ۔

Advertisment

Be the first to comment

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.