پیار کا پہلا خط ۔۔۔ شہناز پروین سحر

پیار کا پہلا خط ۔۔۔

(شہناز پروین سحر)

 ہر کسی کی زندگی میں ایک نہ ایک “پہلا خط” ضرور ہوتا ہے ۔۔ میں نے جب نیا نیا لکھنا شروع کیا تو ہر وقت خود کو آزمائش میں ڈالے رکھتی ۔۔
 امی ابو سے سنے گئے لفظ ، کسی نہ کسی آئے گئے سے سنی گئی بات ، ریڈیو ، گیت ، غرض کان میں پڑنے والی ہر آواز کے ہر لفظ کے بارے چونک جاتی ۔۔۔ 
اچھا تو کیا یہ لفظ ، لکھے بھی جا سکتے ہیں ۔۔۔ 
 اس کے بعد اپنے ابو جی سے فرمائش کرتی کہ یہ لفظ لکھنا سکھا دیں ۔ میں ان کو کیسے لکھوں اور جب مجھ سے املا شروع کروائی گئی تو ٹھیک یہی وہ دن تھے جب میں نے لکھنے کی دنیا میں اپنے پہلے پہلے قدم رکھے ۔۔ 
 دوسروں سے سنے ہوئے جملے دل ہی دل میں لکھ کر دیکھتی ، مجھے پتہ چل چکا تھا کہ لفظ صرف بولنے کے لیئے نہیں ہوتے ان کو لکھا بھی جاتا ہے ۔ اور سنبھالا بھی جاتا ہے ۔
اور ٹھیک یہی وہ دن تھے ، جب میں نے پہلا محبت نامہ لکھ مارا ۔۔
 ہوا یوں کہ میں محلے ایک گھرمیں اپنی سہیلی کے ساتھ جا کر کھیلا کرتی تھی ۔ وہ اور میں اکٹھے سکول جاتے تھے لیکن اس کی بڑی بہن کبھی سکول نہیں گئی تھی اس کو جب معلوم ہوا کہ مجھے لکھنا آ گیا ہے تو ایک دن وہ مجھے چپکے سے گھر کے ایک اندر والے کمرے میں لے گئی اور کہا کہ میرا ایک کام کر دو اس کے بدلے میں تمہیں برفی کھلاؤں گی ۔ 
“کیا کام ۔۔ ” میں نے پوچھا 
“ایک خط لکھوانا ہے تم سے ۔۔ “
“خط تو مجھے لکھنا نہیں آتا ” میں نے کہا ۔۔ ” کیسے لکھتے ہیں خط ؟؟؟ “
وہ بولی ” بس میں جوجو بولتی جاؤں تم وہ سب لکھتی جانا ۔۔۔ ” میں خوشی خوشی مان گئی کہا 
” چلو پھر اب جلدی سے لکھیں ۔۔ “
 اس نے کاغذ قلم سب دیا ۔۔۔ اور پھر وہ بڑی سحر انگیز دھیمی دھیمی میٹھی آواز میں ایک ایک لفظ بولتی چلی گئی ۔۔۔۔ لکھتے لکھتے حیرت سے رک کر میں اس کا منہہ تکنا شروع کر دیتی ۔۔۔
” یہ سب بولتے ہوئے کتنی پیاری لگ رہی ہو تم زینب باجی ۔۔ ” 
 میں نے دیکھا کہیں کہیں کچھ بولتے ہوئے اس کی آنکھیں بھیگ جاتیں تھیں ۔۔ یہ سارا بڑا خوابناک طلسمی سا منظر لگا ۔۔ زینب باجی نے اس خط کو خشبو بھی لگائی ۔۔ یہ سب کچھ میرے روز مرہ کے کھیل کود سے بہت الگ اور حیران کن سی بات تھی ۔۔ فارغ ہوتے ہی گھر بھاگی اور اپنی امی کو بتایا ۔۔
 ” امی وہ زینب باجی ہے نا ۔ بہت قابل ہے ۔ اللہ کتنا پیارا خط لکھوایا مجھ سے ، آپ ان کے گھر جا کردیکھیں تو سہی ، میں ابھی ابھی لکھ کر آئی ہوں ۔۔ انہوں اس خط کو خشبو بھی لگائی ہوئی ہے ۔۔۔ “
” کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟ ” 
امی کی مارے غصے کے آنکھیں ہی پھیل گئیں ۔۔ 
 ” کیا لکھا تھا تونے ۔۔ کیوں لکھا تھا ۔۔ اب کبھی لکھے گی ؟ ۔۔۔ ” ماں نے میری دھنائی شروع کر دی ۔۔
اس مار پیٹ کے بعد بھی انہیں چین نہیں آیا اور وہ مجھے لے کر زینب باجی کے گھر گئیں ۔۔ 
” کیوں ری زینب ، تجھے ہمت کیسے ہوئی ۔۔۔ اس قسم کا خط لکھوایا تونے میری بچی سے ۔۔۔ “
 زینب باجی میری امی کے سامنے ہاتھ وغیرہ جوڑنا شروع ہو گئیں ۔۔ غلطی ہو گئی خالا جی ۔ اب نہیں کروں گی ۔۔
” ماں کہاں ہے تیری ۔۔ ” 
” انہیں کچھ نہ بتانا اچھی خالا ، وہ مجھے مار ڈالیں گی ۔۔ ” 
“لا وہ خط مجھے دے ۔۔۔ ” 
 اور امی نے وہ خط ۔۔۔ وہی پیارا خشبو والا خط ان سے لیکر پرزے پرزے کر دیا ۔۔ مجھے بڑی شرمندگی ہوئی کیسی جنگلی اماں ہیں میری ۔۔۔ ان کی وجہ سے پیار کا وہ پہلا پہلا خط اپنے مقام پر پہنچنے کی بجائے اپنے انجام کو پہنچ چکا تھا ۔
 ادھر ہمارے گھرصفائی کرنے ایک جمعدارنی آتی تھی ۔۔ عمر کے اعتبار سے نہ تو اس کا شمار جوان لڑکیوں میں ہوتا تھا اور نہ ہی معصوم بچیوں میں ۔۔۔ جسم پر کچھ غیر ضروری سے گوشت کے پھولے ہوئے پارچات کی وجہ سے عجیب سی لگتی تھی ۔۔ 
 زینب باجی کے واقعے کے بعد اس نے مجھے روتے دیکھا تو وجہ پوچھی ۔۔۔ اور میں نے اپنی ماں کے ظلم کی پوری داستان اس کو سنا دی ۔۔
مجھے بہت غصہ آیا جب یہ سب سننے کے بعد وہ ہنسنا شروع ہو گئی ۔۔
کہنے لگی
” ایک خط مجھے بھی لکھ کے دو اب ۔ ” لیکن یہ بات بتانی نہیں ہے کسی کو۔
” امی کو بھی نہیں ؟ ” میں نے حیرت سے پوچھا ۔۔
” ان کو تو بالکل بھی نہیں ۔ “
” میں نہیں لکھوں گی ۔ خط لکھنے سے مار پڑتی ہے ۔۔ “
 پھر وہ جب بھی آتی موقع محل دیکھ کر میری منتیں شروع کر دیتی ۔۔ لیکن میں سمجھ گئی تھئ کہ خط لکھنا یہ کچھ گھٹیا حرکت ہی ہے ۔ 
میں نے کہا 
 ” اب اگر تم نے مجھے خط لکھنے کو کہا ، تو میں اپنی امی کو بتاؤں گی ” اوراسے صاف انکار کردیا ۔
 اب خط لکھنے کو میں ایک معیوب کام مان چکی تھی کہ اسی اثنا میں ایک دن ماں نے مجھ سے کہا کہ
” جا ذرا سامنے والی لاڈو کے گھرچلی جا ۔ اس کی نانی نے تجھ سے خط لکھوانا ہے ۔۔ “
” ہیں نانی نے ۔۔۔ ” میں ایک دم ٓ حیرت کے سمندر میں گر گئی ۔۔۔ 
” ایسی ہیں لاڈو کی نانی ۔۔ کیا خشبو والا خط ؟ ۔۔ “
میں نے پوچھا ۔۔۔
” خبردار ۔۔۔ ان کو یا کسی کو بھی بتایا کہ تونے خشبو والا خط لکھا تھا ۔ “
 لاڈو کی نانی نے مجھ سے اپنی بیٹی کو خط لکھوایا تو ان کا پورا گھر آ کر میرے ارد گرد بیٹھ گیا سب نے کہا میرا سلام لکھنا ۔۔۔ میرا بھی ۔۔۔ اور میرا بھی ، جب میں ان کے نوکروں کے سلام بھی لکھ چکی تو ان کے پنجرے میں بیٹھے مٹھو نے بھی اپنا سلام لکھنے کو کہا ۔۔ سب ہنس پڑے ۔ 
پھر اکثر مجھے لاڈو کی نانی کے خط لکھنے کے لیئے جانا پڑتا ۔۔
تب ایک دن میں نے سوچا۔۔۔۔ 
” میں خود کسی کو خط کیوں نہیں لکھتی ۔۔۔ “
” لیکن کسے ۔۔۔ ” 
کیا ڈاکیہ واقعی خط ٹھیک اسی شخص کے پاس لے جاتا ہے جسے وہ خط لکھا جاتا ہے ۔۔
 تب ڈاکیئے کی اہلیت کا امتحان لینے کے لیئے میں نے ایک خط خود ہی کو لکھا اور لال والے لیٹر بکس میں ڈال آئی ۔ پھر اگلے ہی دن ڈاکیہ وہ خط ہمارے گھر لے آیا ۔۔ 
” کس نے بھیجا ہے تجھے یہ خط ۔۔۔ ماں نے چمٹا اُٹھا لیا ۔۔۔ 
” میں نے خود ۔۔ ” انہیں یقین نہیں آیا 
” اللہ کی قسم امی میں نے خود لکھا ہے “
قسم پر بھی کہاں مان کر دیں ، وہ تو جب ابو نے میری بات کی تصدیق کی تو تب ماں کو یقین آیا ۔۔
ماں نے مجھے پیاربھی کیا لیکن میں ماں سے خفا تھی ، 
خطوط کے معاملے میں اتنی بدذوق ماں کسی کی نہیں ہو سکتی ۔۔ میں نے جل کر سوچا ۔۔۔ 
اور تبھی ایک خیال میرے دل میں آیا ۔۔۔۔ خود کو نہیں ۔۔ کسی اور کو خط لکھوں گی اس بار ۔۔۔
وہ کسی اور کون تھا بھلا ۔۔۔
نکے ہندیاں دا پیار
دلیپ کمار 
 یہ انڈین فلموں کے معروف ہیرو دلیپ کمار صاحب تھے جن کو میں نے اپنی جانب سے زندگی کا پہلا خط لکھا تھا ۔
میں نے اپنے ابو سے ایک دن سنا تھا کہ ان کا ایڈریس B 322 ، پالی ہل ،باندرہ ،بمبئی ، ہے ۔۔ اور میں نے ان کا ایڈریس یاد کر کے اپنی سکول کی ایک کتاب کی پشت پر لکھا اور سنبھال لیا ، بس ۔۔۔ اب مجھے خط لکھنا تھا دلیپ کمار صاحب کو ۔ 
 پھر یوں ہوا کہ دلیپ کمار صاحب کو خط لکھا ، اور بڑے پیار سے “بہت پیارے انکل” کہہ کر مخاطب کیا ، میں نے ان کو بتایا کہ ہم سب گھر والے آپ کی فلم دیکھتے ہیں آپ مجھے اور میرے ابو کو بہت پسند ہیں ، اس لیئے آپ مجھ سے ، اور میرے ابو سے ملنے پاکستان ضرور آئیں ، ہم آپ کا انتظار کریں گے ، میری امی نے آم کا مزیدار اچار بنایا ہوا ہے میں وہ اچار آپ کو بھی کھلاؤں گی ۔
 خط لکھ کرجواب کا کچھ دنوں تک شدت سے انتظار کیا لیکن پھربھول گئی کہ میں نے دلیپ کمار صاحب کو کوئی خط لکھا تھا ۔۔
 ایک دن سکول سے آئی تو سارے محلے میں شور مچا ہوا تھا کہ دلیپ کمار نے شہناز کو خط لکھا ۔ دیلپ کمار نے خط بھیجا ۔ ڈاکیئے نے دلیپ کمار کے خط کا ڈھنڈورا سارے محلے میں خوب اچھی طرح پیٹ دیا تھا ۔۔ 
 ہر کوئی مجھ سے یہی پوچھ رہا تھا کہ تم نے اپنے خط میں آخرایسا کیا لکھا تھا جو انہوں جواب بھی دے دیا ہے ۔۔
گھر والوں نے بھی یہی سوال کیا ۔ 
 میرے امی ابو بڑی اہمیت سے میری ایک ایک بات سن رہے تھے ۔۔ خط میرے سکول سے آنے سے پہلے ہی کھول لیا گیا تھا پھر میں ںے بھی وہ خط کھول کر دیکھا تو دلیپ کمار کی ایک خوبصورت تصویر ان کے دستخط کے ساتھ مسکرا رہی تھی ۔ خط انگریزی میں تھا اور ٹائپ شدہ تھا ۔ 
 لکھا تھا کہ میرے جیسے فینز ہی ان کے فن کی قدر و قیمت اور ان کا اثاثہ ہیں ۔۔ ٹائپ شدہ خط کے نیچے ان کے دستخط تھے۔ 
 سفید رنگ کا وہ گریس فل لفافہ عرصہ دراز تک میں نے سنبھال کررکھے رکھا ۔۔۔ لیکن پھر ایک خوفناک سیلاب میں گھر کا بہت سا قیمتی سامان برباد ہو گیا یہاں تک کہ میری شاعری کی بیاض اور وہ خط بھی ۔۔ 
 آج دلیپ کمار صاحب عمر کے اُس حصے میں ہیں کہ ان کو دیکھ کر خود بخود آنکھوں آنسو آجاتے ہیں ۔۔ وقت بڑی ظالم چیز ہے یہ نہیں دیکھتا کہ ایک شخص کو ایک زمانے نے کتنا چاہا اور کس کس نے چاہا ، وہ سبھی تاراج کو دیتا ہے ۔ کس نے چاہا کس کو جاہا ، وقت کو اس سے کوئی مطلب نہیں ۔
یہ سطور میں لکھ رہی ہوں اور کانوں میں کسی گیت کی گونج سسک رہی ہے
پھول کھلتے ہیں
لوگ ملتے ہیں 
پت جھڑ میں جو پھول مرجھا جاتے ہیں
وہ بہاروں کے آنے سے کھلتے نہیں
کچھ لوگ ، اک روز جو بچھڑ جاتے ہیں
وہ ہزاروں کے آنے سے ملتے نہیں
عمر بھر چاہے کوئی پکارا کرے ان کا نام
وہ پھر نہیں آتے ۔۔۔ 
وہ پھر
نہیں آتے 

Be the first to comment

Share your Thoughts: