غزل ۔۔۔ شہناز پروین سحر

غزل 

شہناز پروین سحر

ڈوب کر اُبھرنے میں دیر کتنی لگتی ہے
رات کے گذرنے میں دیر کتنی لگتی ہے

چوؑڑیوں چنریوں کے رنگ کتنے بھاتے ہیں
رنگ کے اترنے میں دیر کتنی لگتی ہے

ماں کے پیٹ میں بچہ روم روم بڑھتا ہے
آدمی کو مرنے میں دیر کتنی لگتی ہے

گھر کو گھر بنانے میں عمربیت جاتی ہے
پھر مکان گرنے میں دیر کتنی لگتی ہے

انگلیوں کی پوروں میں کرچیاں اترتی ہیں
کانچ کے بکھرنے میں دیر کتنی لگتی ہے

عمرکیسےڈھلتی ہےموت کیسے پلتی ہے
چار دن گذرنے میں دیر کتنی لگتی ہے

شاخ کی ہتھیلی پر پھول مسکراتا ہے
پھول کے بکھرنے میں دیر کتنی لگتی ہے

دوستی کے رشتے پر جب سوال اٹھتا ہے
دوست کو مُکرنے میں دیر کتنی لگتی ہے

عمر بھر کے ساتھی جب راستے بدلتے ہیں
عمر کو گذرنے میں دیر کتنی لگتی ہے

مصلحت کے پردے کی عمر کتنی ہوتی ہے
یہ نقاب اترنے میں دیر کتنی لگتی ہے

ایک سر کی چادر ہو اور پاؤں میں چپل
اپنے سج سنورنے میں دیر کتنی لگتی ہے

 

2 Comments

Share your Thoughts: