وقت کو وقت ملے اگر ۔۔۔ صوبیہ امبر

Sobia Amber, mastered in English Language from Sialkot and started writing stories for children. Her stories are based on social issues. She is a good poet as well.

نظم

 

(صوبیہ امبر )


وقت کو وقت ملے اگر
میری دہلیز پرکچھ خواب دھرے ہیں
وہ جو موسموں کی شدت سے
یا تو گھبرا گئے ہیں یا مرجھا گئے ہیں
وہ جو خواب اس آس پر روز جیے
روز مرتے ہیں
کہ
وقت کا کوئی مکمل لمحہ
کسی کن فیکون کے طلسم کی طرح
انہیں مکمل کر دے گا
وقت کو وقت ملے اگر
میری دہلیز پر بھکاری بنے خوابوں کو
اک نظر دیکھ لے
اور پھر ان کے نصیب کا فیصلہ فیصلہ کرلے
کہ لمحوں کی گرانی میں
یہ خواب مر جائیں گے
یا پھر کسی معجزے کے ہاتھوں
جیں گے اور امر ہو جائیں گے۔

 

Be the first to comment

Share your Thoughts: