فرار ۔۔۔ سمرسٹ ماہم

William Somerset Maugham , better known as W. Somerset Maugham, was a British playwright, novelist and short story writer. He was among the most popular writers of his era and reputedly the highest-paid author during the 1930s.

فرار

( سمرسٹ ماہم)

مجھے ہمیشہ سے یہ یقین ہے کہ کوئی عورت ایک دفعہ یہ تہیہ کر لے کہ وہ فلاں شخص سے شادی کرے گی تو اس شخص کے لیے بچاوٗ کا کوئی راستہ نہیں رہتا سوائے اس کے کہ وہ اچانک بغیر کسی اطلاع کے بھاگ جائے ۔ ویسے بچاوٗ کا یہ راستہ بھی کبھی کبھار بند ہوجاتا ہے ۔ کیونکہ یہ کوئی آفاقی قانون تو ہے نہیں ۔

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ میرے ایک دوست نے جب اس نہ ٹلنے والی عظیم بدقسمتی کو اپنے اوپر منڈلاتے دیکھا تو وہ ایک رات چپکے سے بحری جہاز میں سوار ہوگیا ۔ وہ اس عظیم خطرے کی وجہ سے اتنا پریشان تھا کہ اس کا کل سامان صرف اور صرف ٹوتھ برش پر مشتمل تھا ۔ ایک سال تک دنیا کی سیاحت سے لطف اندوز ہونے کے بعد اس نے سوچا: عورتیں بدل جایا کرتی ہیں اور ان بارہ مہینوں میں وہ مجھے بھول چکی ہوگی ۔

اس غلط فہمی کے پیشِ نظر اور اپنے آپ کو محفوظ خیال کرتے ہوئے وہ اسی بندرگاہ پر دوبارہ اُتر پڑا ۔ مگر شومئی قسمت کہ وہ کوتاہ قد عورت جس سے وہ ڈر کر بھاگا تھا وہی سب سے پہلے اس کے سامنے آئی ۔ وہ بڑے جوش و خروش کے ساتھ اپنا رومال ہلا ہلا کر اسے خوش آمدید کہہ رہی تھی ۔

میرے علم میں البتہ ایک ایسی مثال بھی ہے جس نے ان حالات میں بھی اپنی جان بچا لی تھی ۔ اس کا نام راجر چارنگ تھا ۔ جوانی کے آثار ختم ہو رہے تھے کہ اسے رتھ بارلو سے محبت ہوگئی لیکن خوش قسمتی سے وہ اتنا تجربہ کار ضرور تھا کہ اپنا بچاوٗ کر سکتاتھا ۔ پھر بھی قسمت ضرورت سے زیادہ مہربان تھی کیونکہ کوئی بھی مرد جس کی طرف وہ ملتفت ہوجاتی وہ اپنی مدافعت نہیں کرسکتا تھا ۔ یہی وجہ تھی جس نے راجر کی عقلمندی ، دوراندیشی اور دنیاوی تجربہ سب کچھ چھین لیا ۔ وہ بلئیرڈ کی بے جان گیند کی طرح پاکٹ میں چلا گیا تھا ۔ میرا خیال ہے کہ اس کی یہ محبت ہمدردی کے جذبات سے پیدا ہوئی تھی ۔ مسز بارلو اگرچہ دو دفعہ بیوہ ہو چکی تھی مگر اس کی آنکھیں ابھی بھی ہیجان انگیز اور دل موہ لینے والی تھیں ۔ اس کی پلکوں کی اوٹ سے ہمیشہ آنسو جھانکتے رہتے تھے ۔ ایسا لگتا تھا جیسے وہ بیچاری بہت ہی غمزدہ ہے ۔

راجر نے مجھے بتایا تھا کہ مسز بارلو کس طرح دنیا والوں کی بدسلوکی کا شکار ہوئی اور کیسے ہر ایک نے اسے تنگ کیا ۔ بقول شخصے وہ بلاشبہ ان چند بدقسمت افراد میں سے تھی جن کے ساتھ اتفاقاً بھی بھلائی نہیں ہوتی ۔ اس نے اگر شادی کی تو خاوند سے مار کھائی ، ایجنٹ رکھا تو اس نے دھوکہ دیا ، باورچی رکھا تو اس کے ساتھ ساتھ خود پینے کی عادی ہو گئی اور اگر کتا پالا تو وہ بھی مر گیا ۔ جب راجر نے مجھے یہ بتایا کہ اس نے رتھ کو اپنے ساتھ شادی پر رضامند کر لیا ہے تو میں نے اسے پیشگی مبارکباد دے ڈالی اور ان کی ازدواجی زندگی خوشی اور سکون سے گذرنے کے لیے دعاگو بھی ہوا ۔ اس نے مجھ سے کہا: “تم بھی اس کے لیے ایک اچھے دوست ثابت ہوگے ، مگر وہ تم سے ڈرتی بھی بہت ہے ، اس کا خیال ہے کہ تم بے حس ہو ، پتہ نہیں وہ ایسا کیوں سوچتی ہے ، حالانکہ میرا خیال ہے کہ تم اسے پسند کرتے ہو۔۔۔۔ ایسا نہیں ہے کیا؟ “
“ہاں ، بہت زیادہ۔” میں نے جواب دیا ۔ 
“بیچاری نے بڑی تکلیف دہ زندگی گذاری ہے ۔” وہ بولا ۔ 
“ہاں۔ ” میں نے کہا ۔ میں اس سے کم کہہ بھی کیا سکتا تھا ۔ میں یہ جانتا تھا کہ وہ ایک فضول اور سازشی سی عورت ہے ۔ مگر مجھے یہ بھی یقین تھا کہ وہ اسی طرح بے حس ہے جس طرح انسان کے ناخن ہوتے ہیں ۔ ہم نے اپنی پہلی ملاقات میں برج کھیلی تھی اور جب وہ میری پارٹنر تھی تو اس نے دو دفعہ میرے بہترین پتے اُڑا لیے تھے ۔ میں نے پھر بھی اس سے بہتر سلوک ہی روا رکھا ۔ حالانکہ اگر کسی کی آنکھوں میں آنسو آنا چاہیئے تھے تو وہ میری ہوتیں نہ کہ اس کی ۔ شام تک وہ میرے آگے کافی رقم ہار چکی تھی ۔ اس نے کہا کہ وہ اس ہاری رقم چیک کی صورت میں مجھے بھیج دے گی۔ میں تب سے اس چیک کا منتظر ہوں ۔

راجر نے اس کا تعارف اپنے دیگر دوستوں سے بھی کروایا ، اسے قیمتی ہیرے اور جواہرات خرید کر دیئے ۔ اسے یہاں ، وہاں ، غرضیکہ ہر جگہ لیے لیے پھرا ۔ ان کی شادی بھی مستقبل قریب میں طے پاگئی ۔ راجر بہت خوش تھا ۔ اس کا خیال تھا کہ وہ ایک بیوہ سے شادی کر کے نیک کام کر رہا ہے ۔ سونے پر سہاگہ یہ بات بھی تھی کہ اس سے اس کی اپنی دلی خواہش کی بھی تکمیل ہو رہی تھی ۔ یہ ایک غیر معمولی کیفیت تھی ۔ جسے صرف وہی محسوس کر سکتا تھا ۔ البتہ میرے خیال میں وہ کچھ ضرورت سے زیادہ ہی خوش تھا ۔

اچانک یہ ہوا کہ وہ محبت کے اس اتھاہ سمندر سے باہر آ پڑا ۔ اس کی وجہ کیا تھی یہ میری سمجھ سے باہر ہے ۔ یہ تو ہو نہیں سکتا کہ وہ اس کی باتوں سے اکتا گیا ہو کیونکہ وہ باتیں تو کرتی ہی نہیں تھی ۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ اس کی ہمدرد اور مہربان آنکھوں نے روجر کے مضرابِ دل کو چھیڑنا بند کردیا ہو ۔ بہرحال راجر کی آنکھیں کھل چکی تھیں اور وہ پہلے کی طرح تند خو ہو چکا تھا ۔ اسے اس بات کا پوری طرح احساس ہو گیا تھا کہ رتھ بارلو نے اس کے ساتھ شادی کرنے کا تہیہ کر لیا ہے ۔ جواباً اس نے بھی بڑی سنجیدہ قسم کی قسم کھائی کہ وہ کسی قیمت پر بھی یہ شادی نہیں کرے گا ۔ وہ ہوش و حواس میں آچکا تھا اور صاف طور پر اپنی ہی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا کہ وہ کس قسم کی عورت ہے؟ مگر پھر بھی اس نے رتھ سے یہ نہیں کہا کہ وہ اس کی جان چھوڑ دے ۔ اس کی وجہ وہ جانتا تھا کہ رتھ اپنے چہرے پر غم و اندوہ کے تاثرات لا کر اپنے مخصوص مسکین لہجے میں چکنی چپڑی باتیں کر کے اس کی ہمدردی کو دوبارہ زندہ کر سکتی ہے ۔ علاوہ ازیں کسی مرد کے لیے عورت کو اس طرح چھوڑ دینا کون سی اچھی بات ہے ۔

راجر اپنے آپ میں ہی رہا اور اس نے نہ تو اپنی بول چال سے اور نہ ہی کسی قسم کے روئیے سے ظاہر ہو نے دیا کہ اس کے جذبات بدل چکے ہیں ۔ وہ اس کی تمام خواہشات کو خوشی خوشی پورا کرتا رہا ، اسے ریستورانوں میں لے جا کر کھانا کھلواتا، تفریح کے لیے لے جاتا ، اسے حسب دستور پھول بھیجتا اور نرمی و خوش مزاجی سے پیش آتا رہا ۔ 
انہوں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ جتنی جلدی ممکن ہوسکے وہ شادی کر لیں گے ۔ بس پسند کا مکان ملنے کی دیر تھی ۔ لیکن مصیبت یہ تھی کہ مکان کے معاملے میں ان دونوں کا معیار ایک دوسرے سے مختلف تھا ۔ انہوں نے مکان کی تلاش شروع کر دی ۔ کئی دلالوں سے کہا جنہوں نے کئی مکانات دکھائے ۔ رتھ بارلو بھی ساتھ تھی ۔ مگر وائے قسمت کہ انہیں پسند کا مکان نہ مل سکا ۔ روجر نے مزید کچھ ایجنٹوں سے رابطہ کیا ۔ وہ ان کے دکھائے مکانوں میں بھی جب داخل ہوتے ، گھوم پِھر کر سب دیکھتے ، مکان کی بنیادوں سے لے کر چھت پر ہوئی پچی کاری تک کو کڑے معیار پر پرکھتے لیکن مکان کبھی یا تو بہت بڑے نکلتے یا پھر بہت چھوٹے ، کبھی شہر کے مرکزی حصے سے بہت دور ہوتے یا بہت نزدیک ، بہت مہنگے ہوتے یا پھر بہت سستے ، اور کئیوں میں تو مرمت کا کام بہت زیادہ ہوتا ۔ اگر یہ سب کچھ نہ ہوتا تو ہوا کی کمی بیشی کا مسئلہ پیدا ہو جاتا یا کم زیادہ روشنی آڑے آ جاتی ، غرضیکہ راجر ہمیشہ کوئی نہ کوئی ایسی بات دریافت کر ہی لیتا کہ وہ گھر کو نا پسندیدہ قرار دے سکے ۔ البتہ وہ ظاہر ایسے کرتا جیسے وہ اپنی پیاری رتھ کو ہر لحاظ سے مکمل گھر میں رکھنا چاہتا ہے اور ایسا گھر صرف کوششِ پیہم سے ہی مل سکتا ہے ۔ جب بھی کوئی گھر ناپسند کیا جاتا تو وہ ایسے ظاہر کرتا جیسے اسے ایسا کرنے میں خوشی محسوس نہیں ہو رہی ۔ اور وہ چاہتا ہے کہ یہ مشق جلد اختتام کو پہنچے ۔

مکان کی تلاش جوئے شیر لانے کے مترادف ثابت ہو رہی تھی ۔ یہاں تک کہ رتھ بارلو نے تو تھک کر دل ہی چھوڑ دیا تھا ۔ روجر نے اس کی منت سماجت کی ، اس کی ہمت بندھائی ، صبر کی تلقین کی اور یقین دلایا کہ ان کی پسند کا گھر کہیں نہ کہیں تو ضرور موجود ہوگا جسے وہ تلاش کر ہی لیں گے بشرطیکہ مستقل مزاج رہیں ۔

انہوں نے سینکڑوں مکان دیکھے ، ہزاروں سیڑھیاں چڑھے اُترے ، لاتعداد باورچی خانوں کا معائنہ کیا اور سونے کے کمرے دیکھے ۔ رتھ اس تھکا دینے والے سلسلے سے تنگ آگئی اور آخر کہہ ہی بیٹھی : 
” روجر! اگر تم نے جلد ہی کوئی مکان تلاش نہ کیا تو مجھے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنا پڑے گی کیونکہ تمہارے اس طریقِ کار سے ہماری شادی تو اگلے کئی سال تک تو نہ ہو پائے گی ۔ ” 
راجر نے جواباً کہا: ” خدارا ایسا مت کہو ۔ کچھ تو میرے احساسات کا خیال کرو ۔ میں ایک بار پھر تمہاری منت کرتا ہوں کہ صبر سے کام لو ۔ مجھے کچھ دیر پہلے ہی ساٹھ نئے مکانوں کی فہرستیں ان ایجنٹوں سے ملی ہیں جن سے میں نے کل ہی بات کی تھی ۔ انہیں ایک دفعہ دیکھ لینے میں کیا حرج ہے؟”

ان نئی فہرستوں نے رتھ بارلو کے تلاش کے جذبے کو ایک دفعہ اور اُبھارا ۔ وہ مکان پر مکان دیکھتے رہے لیکن دو سال گذرنے کے باوجود روجر کو کوئی پسند نہ آسکا ۔ رتھ بجھ سی گئی اور کئی دفعہ تو اس کے رویئے سے نفرت بھی جھلکنے لگی ۔ اس کی خوبصورت آنکھوں میں نرمی اور مہربانی پر خفگی چڑھی دکھائی دینے لگی ۔

مسز بارلو میں تحمل کا جذبہ گو بہت زیادہ تھا مگر برداشت کی بھی ایک حد ہوتی ہے ۔ آخرکار اس سے رہا نہ گیا اور تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق بے چاری کو منہ پھاڑ کر کہنا ہی پڑا : 
” تم مجھ سے شادی کرنا چاہتے ہو یا نہیں؟” اس کی آواز غیر معمولی طور پر سخت تھی ۔ مگر راجر نے اس کا کوئی زیادہ اثر نہ لیا اور بولا: 
” نہ چاہنے کی تو کوئی وجہ ہی نہیں ، جونہی ہمیں مکان ملا ، ہم شادی کر لیں گے ۔ مجھے ابھی ابھی ایک ایسے مکان کے متعلق اطلاع ملی ہے جو ہمارے مطلب کا ہوسکتا ہے ۔” 
“مجھ میں اب مزید مکان دیکھنے کی ہمت نہیں ہے ۔” بارلو نے کہا ۔ 
“مجھے بھی خدشہ تھا کہ تم تھک گئی ہو ۔” روجر نے جواب دیا ۔
رتھ بارلو منہ بسور کر باہر نکل گئی اور روجر سے ملنا جلنا ترک کر دیا ۔ اب روجر کو اسے پھول بجینے اور کسی کے ہاتھوں اس کی خیریت دریافت کر لینے پر ہی قناعت کرنا پڑتی ۔

وہ روزانہ اسے اطلاع کرواتا کہ اس نے ایک اور مکان کے متعلق سنا ہے ۔ ایک ہفتہ یونہی گذرگیا ۔ ایک روز اسے رتھ بارلو کا خط ملا:

” روجر! مجھے یقین نہیں کہ تمہیں مجھ سے محبت ہوگی ۔ مجھے ایک ایسا شخص مل گیا ہے جو مجھے حفاظت اور آرام سے رکھنے کا دلی خواہشمند ہے اس لیے میں اس سے آج شادی کر رہی ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ( رتھ بارلو ) “

روجر نے فوراً ایک خاص ایلچی کے ہاتھ جوابی خط بھیجا:
” رتھ ۔۔۔۔!
یہ اطلاع میرے لیے انتہائی پریشان کن ہے ۔۔۔۔۔ یہ ایک ایسا کاری زخم ہے جو کبھی مندمل نہیں ہو گا ۔ 
مگر میری پیاری ! تمہاری خوشی ہی تو میرا اولین مقصد ہے ۔ اسی لیے میں ان سات نئے مکانات کے کاغذات بھیج رہا ہوں جو مجھے آج صبح ہی ڈاک سے ملے ہیں ۔ 
مجھے واثق امید ہے کہ ان میں سے کوئی ایک مکان آپ دونوں کی پسند کا ضرور نکل آئے گا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

Advertisment

Be the first to comment

Share your Thoughts: