نظم ۔۔۔ سمیرا قریشی

Sumera Qureshi belongs to Dadu, Sind and is a lecturer in English by profession.  She has become a known poet in the recent years. She expresses herself in poems  that combine words with bitter realities.

 

مجهے خدا سے محبت اور نظم کو محفوظ کرنا پڑا

( سمیرا قریشی)

میرے بستر پہ
سو سال کی تنہائی
اور
میری کرسی پہ 
سو سال کا جگراتا تھا
جب میں نے غلطی سے
غلط وقت بتاتی
گهڑی کی ٹک ٹک سے تنگ آکر
غلط محبت کر ڈالی
پھر ازالہ میں
محبت کے دوسرے تیسرے
پہاڑی سلسلے کو سر کرتی رہی
میں نے بیکار پڑے پتھر سے
محبت کا بت تراشا
ابھی میں اپنے اندر
بوسہ جنم دے ہی رہی تھی
کہ پتھر نے 
خدائی کا دعوا کر دیا 
مجھے محبت اور نظم کو
خود سے جنم دینے کے لیے
کئی صدیاں پہلے جنم لینا پڑا
محبت نظم اور
میرے جنم لینے پہ 
ساری کائنات دوبارہ تخلیق ہوئی
میں نے نظم میں 
سارے خدائوں کو قید
اور 
بوسوں کو آزاد کر دیا
مجھے خدا سے
محبت اور نظم کو 
محفوظ کرنے کے لیے
اپنی نظموں کو پہاڑوں میں دبانا پڑا
سنو
تم میری ہر پہلی محبت سے 
پہلے موجود تھے
اور 
پہاڑ پر میرے ساتھ تھے
محبت کی نظموں کے ٹکڑے جوڑتے
میں نے تمہیں پتهر سے نکال لیا تھا 
کہ 
تم میرے خدا نہیں
تم میرے ہو

Advertisment

Be the first to comment

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.