نظم ۔۔۔ سمیرا قریشی

sumera-qureshi-poetry-agar-tum-jangalon

نظم

(سمیرا قریشی)

 

اگر

تم جنگلوں کی طرف جائو

تو ڈھونڈنا وہ درخت

جن پہ کندہ ہوں بہت سے نام

جس نام کا چاہو

مجھے درخت بنا کر 

مجھ سے ٹیک لگا کر سو جانا 

قمیض کا کالر بدل کر پہننے سے 

قمیض کی زندگی بڑھ جاتی ہے 

نیا کالر ہمیں لے جائے گا 

پرانے خواب میں

جب ہم نے ایک دوسرے کے ساتھ 

ٹیک لگا کر دھوپ سینکی تھی

جب ہم نے 

ایک دوسرے کے کالر پہ بیٹھے

جگنو کی روشنی میں 

ایک دوسرے کے اندر دیکھا تھا

 

Advertisment

Be the first to comment

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.