راشد جاوید احمد — سنسان گلی

سنسان گلی

سنسان گلی

راشد جاوید احمد

سنسان گلی

بے خواب دریچے

خاموش پیڑ

اندر شور

آسمان سے پرے

خالی پن کی سیاہی

سرسراتی ، وجود میں گھستی

ہر چیز ، منہہ کے بل

سورج ،جوہڑ میں

چاند کسی گڑھے میں

اپنے اندر پناہ لینے کی کوشش

دیمک زدہ زینه

بوجھہ سمبھالنے سے قاصر

ہوش مجروح، حواس منتشر

سنسان گلی

بے خواب دریچے

میں اور میرا حجرہ

کیوں سزا دے رکھی ہے

رات بیت جاتی ہے

تم نہیں آتے

Advertisment

1 Comment

  1. سنسان گلی ایک پُر اثر نظم ھے ۔۔ نظموں کے سلسلے کو بھڑایا جائے تا کہ کہانی کی طرح راشد صاحب کا نثری نظم مین بھی بھر پور حصہ ھو ۔۔

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.