کاکروچ کی کتھا ۔۔۔ طلعت زہرا

کاکروچ کی کتھا

(طلعت زہرا)

میں ایک کونے میں دبکا بیٹھا ہوں لیکن یہ ڈراونے پہاڑ نما دیو اور آنکھوں کو خیرہ کرتی روشنی مجھے زندہ درگور کرنے کے لئے کافی ہے۔ میرے نازک اینٹینا جن کو میں بار بار صاف کر رہا ہوں کہ میں کہیں کسی ممکنہ خطرے سے بے خبر نہ رہ جاوں لیکن یہ سب بے سود ہے۔ ہر لمحہ موت کا دھڑکا اور یوں خالی پیٹ اس کونے میں کتنے دن گزار سکوں گا۔ موت تو بر حق ہے لیکن یہ سب کیا ہو رہا ہے لوگوں کے جھنڈ کے جھنڈ ، جگمگاتی دوکانیں، شو کیسوں میں لاکھوں ڈالر کی اشیاء، ایک دن میں کھربوں کی اشیا ء ضرورت، نہیں نہیں، غیر ضروری اشیاء کا تبادلہ، فیکٹری سے دوکان، دوکان سے مکان اور اگلے چند دن میں مکان سے باہر کوڑے والے کے انتظار میں یہ اشیاء ۔۔۔ اس سب ضیاع کا کون ذمہ دار ہے ؟ فیکٹریوں کے مالک یا خریدار جو بھیڑ بکریوں کی طرح اپنے سٹیٹس سمبل کے لئے یہ سب کرتے ہیں۔ اف ۔۔۔۔ وہ دن جب میں بھی صبح کا گیا رات گئے گھر لوٹتا تھادفتر سے تھکا ہارا،  ان سب اشیاء سے مجھے ملنے کا وقت ہی کہاں تھا۔ اس حالت کو پہنچنے سے پہلے آخری رات جب میں نے اپنے والد کو اپنی تنخواہ دی تھی، میں کس اطمینان سے سویا تھا۔ کیوں یہ سب سائے بھاگ رہے ہیں، کل کرسمس ہے ، گھر سجایئں گے، تحائف کے تبادلے ہوں گے، کھانے کی دعوتیں، موسیقی کی محفلیں ہوں گی اور پرسوں ۔۔۔۔ وہی مالک وہی مزدور،سارا سال محنت، عمارات کی تعمیر، شہر کے شہر بسائے جایئں گے، کھیت کھلیان کا دھندا، معمولی اجرت پر تمام دنیا کی تعمیر کا کام کرتے ہم خود ہی نقب زن اور ہم خود ہی نقیبچی۔ یہ دھڑ دھڑ کا شور کیسا ہے۔ اوہ، لگتا ہے میرے پیچھے کوئی دروازہ کھلا ہے۔یہ تو قسمت ہی کھل گئی۔ باہر جانے کا راستہ ہے۔ میں رینگتا ہوا دیوار کے ساتھ ساتھ چپک کر ، مبادا کسی کے پاوں تلے کچلا جاوں، اس شور سے دور ہوتا چلا گیا۔

” میں وعدہ کرتا ہوں کہ الیکشن جیتنے کے فورا بعد میں آپ سب کی مشکلات حل کر دوں گا۔ کوئی غریب نہیں رہے گا، بجلی پانی آٹا چینی، ہر سہولت مہیا کی جائے گی۔ بس آپ سب کے تعاون کی ضرورت ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔” میں بار بار اس درخت کی کھال میں سونے کی کوشش کر رہا ہوں مگر یہ فقیرانہ صدایئں  مجھے سونے نہیں دیتیں۔ اے قدرت تیرا نظارہ کتنا حسین ہے۔ نیلا کشادہ آسمان، مٹیالی زمین، لہراتی گنگناتی ڈالیاں، ہریالیاں، کھیتوں میں سونے کی بالیاں، اور سرسراتی ہوا کی لوریاں، ان سب میں یہ بھیانک گداگر۔۔۔ ہاں ہاں کوئی غریب نہیں رہےگا، کیونکر رہے گا۔۔کیونکر رہے گا۔ ضروریات کو سہولیات بتا رہے ہو اور ان ضروریات کے بم پہلے ہی غریبوں پر پھاڑ چکے ہو۔ بس اب ایسے ہی گذارا کرو۔ ” سفید لومڑی مردہ باد ” کے نعرے نیں میرا تجسس بڑھا دیا۔ میں نے چھال سے منہ نکال کر جھانکا۔ سامنے ایک سٹیج پر بڑا سا عقاب کے دھڑ اور سانپ کے سر والا عفریت زور و شور سے تقریر کر رہا تھا۔ سامنے بیشمار گدھوں کے سر نظر آئے جن سے وہ مخاطب تھا اور شاید وہی ڈھینچوں ڈھینچوں کر رہے تھے۔ بیچ بیچ میں مجھے کہیں رنگین بھیس بدلی لومڑیاں بھی دکھائی دیں۔جو گاہے بگاہے عقاب کو اشارے سے کچھ کہہ رہی تھیں۔ تقریر ختم ہوئی تو گدھوں کے جدھر سینگ سمائے یہ جا وہ جا۔ عقاب نما عفریت کے گرد لومڑیاں اکٹھی ہو گیئں اور اسکے آگے بہت سے مرے ہوئے گدھے، انڈے اور دیگر اشیاء ڈال کر چلتی بنیں۔ میں نے شکر کیا اور سونے کی کوشش کی لیکن یہ بات میرے ذہن سے محو نہ ہو سکی کہ آخر لومڑیاں اپنے ہی خلاف “سفید لومڑی مردہ باد ” کے نعرے کیوں لگوا رہی تھیں۔ جب میں کالج میں پڑھتا تھا تو اکثر فلسفے اور نفسیات پر بات ہو جایا کرتی تھی۔ مجھے وہ ریورس سایئکولو جی والی تھیوری یاد آ گئی جو گدھوں کو مزید “گدھا” بنانے میں معاون ہوتی ہے۔ویسے بھی یہ نعرہ عقاب کی اصلیت چھپانے کے لئے مدد گار تھا۔ اف یہ گدھے۔۔۔میرے زخمی پاوں میں اب بھی درد باقی تھا۔ میں لنگڑاتا ہوا ایک گھر میں جا گھسا کہ وہاں کسی کونے کھدرے میں جا سو رہوں گا۔اتفاق سے دروازہ کھلا تھا۔ میں پائدان سے بچتا بچاتا صوفے کی اوٹ لیتا، پنیر کی خوشبو کی سمت چل پڑا۔ باورچی خانے میں کوڑے دان کا ڈھکن ادھ کھلا رہ گیا تھا۔ اس میں کھانے کی بے شمار چیزیں پڑی تھین جو یقیننا بچوں نے آدھی ادھوری کھا کر پھینک دی تھیں۔ میں نے دوزخ کی آگ کو ٹھنڈا کیا اور مزے سے دراز کے نچلے حصے میں لیٹ گیا۔ اچانک کمرے میں وہ لوگ داخل ہوئے۔ وہ آہستہ آہستہ باتیں کر رہے تھے۔ انہوں نے فریج کھولا، لڑکے نیں ٹھنڈے پانی کی بوتل کو منہ لگایا۔لڑکی نے جلدی جلدی ایک بڑے ڈبے میں انواع و اقسام کے کھانے سجانے شروع کر دیئے۔ کچھ روٹیاں کپڑے میں باندھیں اور کہنے لگی “جلدی چلو۔ مالک اٹھ گئے تو بہت برا ہوگا، بچے بھی بھوک سے بلک رہے ہیں، رو رو کر برا حال ہے” لڑکے نے خالی بوتل بھر کر فریج میں رکھی اور دونوں دبے پاوں نکل گئے۔ میں نے کوڑے دان میں نقب لگائی، نوکر نیں مالک کے باورچی خانے میں۔مالک فیکڑی کے راستے نقب زنی کرتے ہیں۔ ٹیکس چراتے ہیں اور فیکٹریاں حکومتوں میں اور حکومت۔۔۔۔وہ تو بس ٹیکس عائد کرتی ہے۔ ایک سلسلہ نقب زنی ہے اور بچے بھوک سے رو رہے ہیں۔ ۔۔۔ کس کس کے ؟ منہ اندھیرے میں نے اپنا منہ صاف کیا، منہ ہی سے اپنے اینٹینا صاف کئے اور لیٹ گیا۔ اوندھا لیٹے لیٹے میں بھول گیا تھا کہ سیدھا لیٹنے میں کیا مزہ ہے۔ اگر میں کبھی الٹ بھی جاوں تو کام کرنے والے مزدوروں کی طرح ساری عمر الٹا ہی پڑا رہوں۔ مجھے اپنا بستر بہت یاد آیا۔ سر شام ٹی وی کے شور نے مجھے متوجہ کیا۔ یہاں تبصرے چل رہے تھے۔

” ویت نام پہ نیپام بم اور ایجنٹ اورنج کی نوعیت دوسری جنگ عظیم میں نازی کی بر بریت سے سوا نہیں تھی۔ افغانستان میں القاعدہ اور طالبان کا خاتمہ کرتے کرتے افغانستان اور پاکستان کا خاتمہ ہو رہا ہے۔ عراق میں صدام کی حکومت کو گرانے کا مقصد خلیجی جنگ کو ختم کرنا تھا یا عراقی عوام کو یا کچھ اور ۔۔۔۔ لیبیا اور پھر شام اور مصر، “

کائنات، قدرت یا زندگی کن سلسلوں کے نام ہیں۔ ؟ طرح طرح کے سلسلے۔ میرا زخم گہرا ہوتا گیا۔ تکلیف کی شدت سے چلا نہ جاتا، کیا ہیرو شیما اور ناگا ساکی کے بعد اب ۔۔۔۔۔۔ میری ٹانگ کے زخم سے اب مواد رسنا شروع ہو گیا ہے۔ ۔۔۔۔ وہ کڑوڑوں جاپانی جو یورینیم کے مضر اچرات سے معذور، لنگڑے اندھے اور بہرے پیدا ہوئے، عراق اور ویت نام، —- جہاں ایک نسل درمیان میں سے غائب ہو گئی۔۔۔۔۔،،، یا کر دی گئی، ۔۔۔۔۔۔ اف میری ٹانگ۔ کیا میری نوع بھی ؟اب یاد نہیں کہ کس وقت کی خبروں کے دوران افزودگی کا ماہر، بد شکل سا ایک سائنسدان فخر سے بتا رہا تھا کہ اسکی نئی تحقیق کی بنیاد فرانز کافکا کی ایک کہانی بنی۔ بھیڑیئے کی طرح دانت نکوستے ہوئے اس نے فخر سے یہ اطلاع بھی دی کہ اس بار کاکروچ بھی ۔۔۔۔۔۔ ابھی آنکھ لگی ہی تھی کہ امی کی آواز آئی ” علی بیٹے اٹھ بھی جاو۔ آج کیا دفتر نہیں جانا “

میں نے چاہا کہ کافکا کی طرح سکرٹ میں پناہ لوں، لیکن آپا یونیورسٹی جا چکی تھیں۔

Advertisment

Be the first to comment

Share your Thoughts: