لینن کا نظریہ جمالیات ۔۔۔ کروپسکایا


لینن کا نظریہِ جمالیات

( کروپسکایا )


“موسمِ خزاں کے آخر میں جب برف باری ابھی تک شروع نہیں ہوئی تھی۔ لیکن دریا پہلے سے منجمد تھے۔ ہم وہاں ندیوں پر بہت دور تک نکل جاتے تھے۔ ہر کنکر اور ہر چھوٹی سے چھوٹی مچھلی برف کی تہہ میں ایسے جیسے کوئی ساحرانہ بادشاہت ہو، صاف دکھائی دیتے تھے اور موسمِ زمستان میں،جب پارہ (-39 C ) کے درجہِ حرارت کی حد تک منجمد ہوجاتا تھا۔ دریا گہرائیوں تک منجمد تھے ۔پانی برف کی بالائی پرت پر بہہ رہا ہوتا تھا۔ کوئی انسان دو کلو میٹر تک برف پر پھسل سکتا تھا۔ اس کے پاؤں کے نیچے برف کی بالائی تہہ چٹخ رہی ہوتی تھی، ولیدیمیر الیچ لینن ان سب چیزوں کا زبردست دلدادہ تھا۔”
لینن نے حسن وجمال کے اسی معیار یعنی ترتیب و تنظیم اور نظم و نسق کو ہمیشہ زندگی کے ہر شعبے میں برقرار رکھنے کی کوشش کی۔ اس نے کمیونسٹ پارٹی کے لیے بھی اسی معیار کو ناگزیر قراردیا اور اسی بنیاد پر باشویک پارٹی قائم کی۔ اس نے منظم تنظیم کو اس پارٹی کی ریڑھ کی ہڈی سے تعبیر کیا۔
علاوہ بریں لینن حسنِ انسان سے بھی متاثر ہوتا تھا۔ چوں کہ حسن و محبت کا آپس میں تعلق چولی دامن کا تعلق ہوتا ہے۔۔اس لیے لینن نے جب کروپسکایا کو پہلی نظر میں دیکھا تو وہ اس کی زلفِ گرہ گیر کا اسیر ہوگیا۔ لینن اور کروپسکایا کی پہلی ملاقات نومبر کے ایک یخ بستہ روز ہوئی۔ جب الیگزینڈرانسکی کے باغات میں تا حدِ نظر طویل قامت درخت برف پوشی کی سفیدچادر کا منظر پیش کررہے تھے۔ کروپسکایا وہاں ٹہل رہی تھی۔ اس کی نظر سامنے پبلک لائبریری پرپڑی ۔ وہ ایک پر کشش نوجوان خاتون تھی۔ اس نے ایک فر کوٹ پہن رکھا تھا۔ اس نے ایک نوٹ بک کو اپنے فر کوٹ میں رکھی ہوئی تھی۔ اس نوٹ بک میں محنت کشوں کے سخت کوش اور جفاکش حالات کے بارے میں حقائق اور اعدادوشمار درج تھے۔ وہ ایک دفتر میں ملازم تھی اور بیک وقت نیوسکایاذاسٹیوا میں ایک شام کے اسکول میں ٹیچر بھی تھی۔ اس وقت ایک فیکٹری کا مزدور، جو اس کا شاگرد تھا، اس کے لیے ایک نوٹ بک لے کر آیاتھا، جس میں ایک پمفلٹ کے لیے بہت ہی عمدہ اور کارآمد معلومات اور اعداد و شمار درج تھے۔
لینن نے کروپسکایا سے سائبیریا میں دورانِ جلاوطنی باقاعدہ کلیسا میں عیسائی رسوم وروایات کے مطابق شادی کی اور اس بندھن کو زندگی بھر وفاداری بشرطِ استواری کے مصداق انتہائی خوب صورتی سے اور بطریقِ احسن نبھایا۔ لینن کی یہ خوب صورت دلہن بعد ازاں اپنے حسنِ کردار اور حسنِ جدوجہد اورجمالِ نظریات کی وجہ سے تمام روسی قوم کے لیے عروسہِ انقلاب کی حیثیت اختیار کر گئی،۔جس نے لینن اور دیگر بالشویکوں سے دوش بدوش مل کر اکتوبر 1917 کے باشویک انقلاب کے دوران ، اس سے پیشتر اور بعد بہت اہم انقلابی کردار ادا کیا۔ اسی لیے رابرٹ ایچ میک نیل نے اسے اپنی مشہورِ زمانہ کتاب “Bride of The Revolution: Kropskaya and Lenin ” عروسہِ انقلاب سے موسوم کیا ہے ۔ 
لینن کی انسانی حسن و جمال سے محبت انفرادی و ذاتی حدود سے بڑھ کر اس وقت اجتماعی اور آفاقی محبت میں تبدیل ہوگئی، جب اس نے سیاست کی وادیِ پرخار میں قدم رکھا تو اس نے اپنے ملک کے مفلس کسانوں اور مزدوروں کو غربت، استحصال، بیماری اور جہالت کے عالم میں دیکھا اور پایا۔ اسی بات نے اسے دنیا بھر کے محنت کشوں اور مظلوم اقوام کی طبقاتی وقومی جدوجہدسے مربوط کردیا۔ اس لیے تو لینن نے ان کو حسن و جمال کے دیوتا کی حیثیت دی ۔ انہیں سوشلسٹ انقلاب کا ہراول قرار دیا۔
لینن نے اپنے نظریہِ جمالیات کو جب اپنے سماج پر منطبق کیا تواس میں اسے حسن و جمال کی صفات تناسب، توافق،۔ترتیب و تنظیم وغیرہ کا فقدان دکھائی دیا۔ کیوں کہ روسی معاشرہ ایک طبقاتی معاشرہ تھا اور غلام داری سے لے کر معاصر صنعتی سرمایہ داری تک ہر معاشرہ بنیادی طور پر طبقاتی استحصال ، ظلم وتشدد پر۔قائم معاشرہ رہا ہے۔ چوں کہ ہرطبقاتی معاشرے کی بنیاد ظلم وتشدد اور استحصال پر ہوتی ہے۔ اس لیے اس میں افراتفری، انتشار اور عدمِِ مطابقت ہوتی ہے اور یہی وہ صفات ہیں، جو بدصورتی کے مظاہر وظواہر اور اشیاء کی صفات ہوتی ہیں۔۔لینن کے زمانے میں روس اور مغربی یورپ میں سرمایہ داری نظام رائج تھا،۔جس نے استحصال، بھوک، بیماری اور جہالت ایسی بدصورتیوں کے ساتھ ساتھ قدرتی وسائل کی لوٹ کھسوٹ،۔صنعتی آلودگی اور جنگ ایسی بدصورتیاں بھی متعارف کرائی تھیں۔
چوں کہ لینن کو بدصورتی کی ہر۔شکل و صورت سے سخت نفرت تھی اور حسن وجمال سے انتہا کی حد تک محبت تھی۔ اس لیے اس نے اس بدصورت استحصالی سماجی تشکیل کو تبدیل کرنے کے لیے کئی برسوں پر محیط طویل انقلابی جدوجہد کی۔ آخر کار اکتوبر 1917 ء میں اس کی طویل سیاسی اور انقلابی جدوجہد رنگ لائی اور اس نے اس بدصورت طبقاتی سماج کو بالشویک انقلاب کے ذریعے ایک خوب صورت سوشلسٹ سماجی تشکیل میں تبدیل کردیا۔ لہذا اس نے کمیونزم پر مبنی حسین وجمیل سماج کی داغ بیل ڈالی، جو ایک غیر طبقاتی اور غیر استحصالی سماج ہے، جس میں انسانی شخصیت کی ہمہ گیر ترقی کے امکانات موجودہوتے ہیں ۔ اس لیے یہ سماج ایک خوب صورت سماج ہوتا ہے، جس میں ہر شخص بقول مارکس رافیل ہوگا۔
لینن نے بالشویک انقلاب کے بعد سوویت سماجی تشکیل میں کمیونزم کی تعمیر کی ابتدا حسن وجمال سے کی۔اس نے ماسکو، پیٹرسبرگ اور دیگر شہروں میں انقلابیوں اور کمیونسٹ مفکرین کی عظیم فن کارانہ یادگاروں کی تنصیب کروائی، جو فن کاری اور مجسمہ سازی کے اعلیٰ نمونے ہیں۔
جیسا کہ سطورِ بالا میں بیان کیا گیا ہے کہ حسن کی تیسری قسم حسنِ فن ہے۔ فن ،جو نہ صرف حسن وجمال کے اظہار کی لطیف صورت ہے بلکہ حسن کو ازسرِ نو پیدا کرنے کی کاوش بھی ہے۔اس کی مختلف صورتیں اور اصناف ہیں، جو مصوری، سنگ تراشی، مجسمہ سازی، موسیقی، رقاصی، شاعری، ڈرامہ داستان، کہانی ناول ، انشائیہ اور افسانہ وغیرہ ہیں۔ حسن وجمال کے اظہار اور اسے ازسرِ نو پیدا کرنے کی یہ سب کی سب فنی وجمالیاتی صورتیں اور اصناف فنونِ لطیفہ کے زمرے میںآتی ہیں۔ فنونِ لطیفہ کی یہ سب صورتیں انسانی شعور کی اضافی طور پر خودمختار صورتیں ہیں اور یہ سب کی سب صورتیں جمالیات کی صورتیں ہیں۔
سائنس فلسفے اور دیگر علوم کی طرح جمالیات کا بھی ایک خاص علمیاتی معروض ہوتا ہے، جو جمالیاتی معروض کہلاتا ہے۔ فطرت جمالیات کا جمالیاتی موضوع ہے۔ سماجی تشکیل چوں کہ فطرت کا ایک حصہ ہے اور اس کو انسان بناتا ہے۔لہذا سماجی تشکیل میں انسان کی اہمیت سے انکار کرنا کسی طور پر بھی ممکن نہیں ہے۔ فطرت اور سماجی تشکیل بشمول انسان بھی جمالیات کا جمالیاتی معروض ہیں۔ انسان جہاں جمالیات کا جمالیاتی معروض ہے، وہاں وہ اس کا جمالیاتی موضوع بھی ہے۔
کیوں کہ انسان ان سب فنونِ لطیفہ کی اصناف اور صورتیں میں حسن وجمال کا اظہار اور اسے ازِ سرِ نو پیدا کرتا ہے اوریہی وہ موضوع ہے ، جوجمالیات کا دوسرا بڑا موضوع ہے ، جوحسنِ ِ فن کا مطالعہ کرتاہے۔ اس موضوع پر بہت کچھ لکھا گیا ہے اور اس کے بارے میں فلسفیوں اور نقادانِ فن کے مابین بہت بڑا مناقشہ اور تنازعہ پایا جاتا ہے۔ اس لیے فن کے بارے میں بہت ہی مختلف اور متضاد نظریات پائے جاتے ہیں۔ حسن کی فن کارانہ طور پر ازسرِ نو تشکیل کا مسئلہ انسانی پیداواری سرگرمی کے ساتھ مربوط ہے۔ تاریخ کے اوائلی ادوار میں جس طرح کائنات اور سماج کا مطالعہ ما بعد الطبیعاتی رہا ہے، بالکل اسی طرح اس مسئلے کی نوعیت کو بھی مابعدالطبیعاتی نظام سے مربوط کیا گیا۔ تخلیقِ فن و ادب کو الہامی سلسلہ تصور کرکے اس کی مادی بنیادوں اور اصولوں سے سراسر انکار کیا گیا، جو اس سلسلہِ عمل میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔
اس نظریے کے مطابق فن کار ایک مافوق الانسان اور ماورائے فطرت ہستی ہے،جس کادماغ خود کفیل ہوتا ہے۔ وہ خداداد صلاحیت کا مالک ہوتا ہے۔ اس کے ذہن میں زمان ومکان اور کائنات کے دیگر مظاہر وظواہر کے معقولات وہبی طور پر حسی تجربات سے پہلے موجود ہوتے ہیں۔ یہی وہ نظریاتی بنیاد ہے،۔جس پر عینیت پسند نظریہ ادراک و فن کی عمارت استوار ہے۔ عینیت پسندوں کے مطابق انسانی شعور کائنات کے تمام متنوع مظاہر و ظواہر کو پیدا کرتا ہے،جس کی نقالی فن کرتا ہے۔ کہ پیداواری سلسلہِ عمل میں انسانی ادراک اور فن کی نظریاتی بنیاد کی حیثیت کی حامل ہے۔ عینت پسند انسانی شعور کے ادراکات کو کسی مافوق الفطرت قوت کے اثرات کے ذریعے اس طرح بیان کرتے ہیں کہ گویا وہ کسی وہی یا الہام کا نتیجہ ہوں۔ اس طرح وہ ایک لاینحل فلسفیانہ الجھن میں گرفتار ہوجاتے ہیں کہ انسانی شعور کس طرح سے ٹھوس معروضی کائنات کو وجود میں لاسکتا ہے؟
اس نظریے کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ اس کے پیروکار کر فنی شہکار کو الہامی تصور کرتے ہیں، جو آناً فانا ًخلا یا آسمان سے فن کار کے ذہن میں نازل ہوتا ہے۔اس لحاظ سے ہر فن کار ملہم ہے، جس کے ذہن میں کوئی مافوق الفطرت قوت میوزز (Muses) (فن کی یونانی دیویاں)، فرشتہ، جن یا دیوی الہام کے ذریعے فن پارہ تخلیق کرواتی ہے۔یہ نظریہ تمام قدیم اقوام میں عام طور پر مروج تھا اور یہ عمانویل کانٹ،ہیگل ،کروچے اور والٹر پیٹر تک کسی نہ کسی صورت میں موجود رہا۔ یونان کے مشہور شاعر ہیسوڈ (700قبل مسیح) کا دعویٰ ہے کہ وہ میوزز کا براہِ راست تعلیم یافتہ ہے۔ اتھیکا اور فاشیا کے نغمہ نگارفیمیوز اور ڈیمیکوزکا بھی یہی خیال ہے۔ فیمیوز کہتا ہے:”میں ازخود تعلیم یافتہ ہوں کیوں کہ خدا نے میرے دل میں نغمے کے تمام طریقے بودیے ہیں۔”

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: