نصیحت ۔۔۔ چترا منگل

نصیحت

( چترا منگل )

ایک بچے کی گڑگڑاہٹ نے خاموشی  توڑ دی، “”صبح  سے بھوکا ہے میم صاب۔ ایک دس پیسہ پیٹ کے واسطے……  بال بچہ سکھی رہے گا……”” رسالے سے نظریں ہٹا کر اس بچے کو دیکھا۔ خاصا تندرست بچہ لگا وہ مجھے۔ عادتاً نصیحت ٹکا دی،

“”جاؤ، جاکر کہیں کام۔۔دھام کرو۔ اتنے بڑے ہوکر بھیک مانگتے شرم نہیں آتی؟””

کہہ کر میں نے ایک بار بس کی منتظر لمبی کیو کو دیکھا، پھر رسالے میں الجھ گئی۔ بھیک دینا میرے اصول کے خلاف ہے۔ تبھی یہ احساس ہوا کہ بچہ سچ مچ بھوکا ہے تو بجائے اسے پیسے دینے کے کھانے کے لئے کچھ خرید دیتی۔

“”آتی تو ہے میم ساہب! پن کون کام دیتا ہے ہم سڑک چھاپ کو؟””

اس نے میریے غصے کی پرواہ نہ کر ڈھٹائی سے کہا۔

“”کیوں نہیں دیں گے؟”” میں نے  پھر سوال کیا۔ “”ایمانداری اور محنت سے کام کرنے کا وعدہ کرو تو… کیوں  نہیں رکھے گا؟ گھریلو نوکروں کی کمی تو ہر گھر میں ہے…مگر،سچ تو یہ ہے کہ کام تم لوگ کرنا چاہو تب نہ! پھوکٹ کا کھانے کو ملتا ہے تو محنت کیوں کرو گے بھلا؟ جاؤ، تنگ مت کرو۔””

لڑکا تیز بھی تھا، اڑیل بھی، ٹلا نہیں، بولا، “”آپ کو نوکر کی ضرورت ہے؟””

“”ہاں، ہے تو…””

“”تو پھر… اپُن کو کام پر رکھ لو نا!……قسم سے! چوری چکاری کا اپنے کو عادت نئیں… اپُن جو  بولے گا، سب کرے گا۔ گھر کا ایک کونے میں پڑا رہے گا… منظور؟””

میں اس کے جواب سے پس و پیش میں پڑ گئی۔ پورے وقت کے لئے ایک نوکر کی مجھے سخت ضرورت تھی۔ دفتر اور گھر ساتھ ساتھ چل نہیں پا رہے تھے۔ کتنی بار کہا انہوں نے کہ ایک نوکر کیوں نہیں رکھ لیتیں، پر مشکل تو یہ تھی کہ کھا پی کر بھی نوکر سو روپئے سے کم تنخواہ نہیں مانگتا تھا۔ اور اتنی تنخواہ دینا میرے بس کی نہیں تھی۔ سوچا، یہ تو چھوٹا ہے، تابع میں بھی رہے گا اور کام بھی ڈھنگ کا سیکھ جائے گا۔ تنخواہ بھی زیادہ نہیں دینی پڑے گی۔

پوچھا “”تمہارے ماں باپ کدھر رہتے ہیں؟””

“”ماں اپنا بچپن میں مر گیا۔ باپ ہے، پن باپ نے تیسری شادی بنایا، وہ ادھر “بھارت نگر” کا جھونپڑ پٹی ہے نا، ادھریچ ریتا۔””

“”ٹھیک ہے۔ میں تمہیں رکھ لوں گی۔ اپنے گھر لے چلو۔ تمہارے ماں باپ سے طے کر لیتی ہوں کہ آج سے تم ہمارے گھر رہو  گے…””

“”ماں سے پوچھنا، میم صاب! اپن ریتا ہے۔ نکال دیا اس نے گھر سے…۔””

“”کیا مطلب؟””

“”بوت کھڑوس ہے وہ، اکھا دن بھوکا رکھتی تھی۔ کیا کرتا، اپن پڑوس کا بیکری سے پاو چوری کرکے لانے لگا۔ ایک دن ہاتھ آ گیا سیٹھ کے…اپُن کو بوت  مارا…دے دیا پولس کو… ماں  باپ بول دیا… میں اس کا بچہ نئیں۔ تھانے سے چھٹا تو ٹکٹ گھر کا سامنے حمالی کرنا شروع کیا…اپن…پر بلا  (لائسینس) منگتا نہ حمالی کرنے کا واسطے… ایک  دادا کے گھر میں ریتا میں۔ بھیک کا پئسا ووئچ لیتا۔ فقط صبح شام کھانے کو دیتا…اپن کو۔۔ ہمارا پر وسواس کرو…اپُن دغا نئیں کرے گا…رکھ  لو نہ میم ساب!…۔

اس کی اس تاریخ نے میری ہمت نچوڑ لی۔ گھر نہیں، گھاٹ نہیں، جس پر لفھنگوں کا ساتھ۔ گھر تھوڑے ہی لٹوانا ہے مجھے۔

“”دیکھو، سچ تو یہ ہے””، میں نے فوراً بات پلٹی، “”میرے پاس تو پہلے سے ہی ایک نوکر ہے، تمہیں رکھ کر کیا کروں گی، ہاں،یہ لو پانچ رپئے۔”” میں نے اسے “پرس” میں سے فوراً پانچ کا نوٹ نکال کر تھماتے ہوئے کہا

“”کچھ دھندا کر لینا…… پالش کا یا رومال وومال بیچنے کا…… موٹی چیزیں بہت سے بچے ٹرینوں میں بیچتے ہیں۔””

وہ اس کے رد عمل میں تمتما اٹھا۔ پانچ کا نوٹ میرے چہرے پر اچھال کر بولا،

“بھیک نہ دو میم صاب، بھیک! دس پیسہ… پانچ پیسہ…سیکھ کیوں دیتا ہے، و تم کھدیچ (خود ہی) ہمارا پر اِسواس  (وشواس بھروسہ) نئیں کر سکتا؟… نئیں مانگتا۔ رکھو اپنا پیسہ…””

اور وہ میری نصیحت کا کھوکھلا پن مجھ پر ہی پٹک کر سرررر سے بھیڑ میں غائب ہو گیا۔

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: