نیلی نوٹ بک قسط 16 ۔۔۔ انور سجاد

نیلی نوٹ بُک قسط 16

عمانویل کزا کیویچ

 مترجم: ڈاکٹر انور سجاد

عمانویل کزا کیویچ 1913 میں یوکرین میں پیدا ہوا ۔1932 میں اسکی نظموں کا پہلا مجموعہ ” ستارہ ” کے نام سے شائع ہوا جس نے اسے پوری دنیا سے متعارف کروایا۔ بعد ازاں اس کی لکھی کتابیں ، اودر کی بہار، دل دوست، اسٹیپ میں، چوک میں ایک گھر،  اور دن کی روشنی میں، منظر عام پر آیئں ۔ ” نیلی نوٹ بک ” اسکا آخری ناولٹ تھا۔ عمانویل کے ہم عصر، فیودر دوستووسکی کے مطابق کزا کیو ایچ ایک زبردست سیاح، شکاری، پارٹی کا روح رواں، فطرتا ہنس مکھ لیکن بہت ہی جرات مند سپاھی تھا۔

ڈاکٹر انور سجاد 1935 میں لاہور میں پیدا ہوئے۔ کنگ ایڈورڈ کالج سے ایم بی بی ایس کے بعد انہوں نے ڈی ٹی ایم اینڈ ایچ کا امتحان لندن سے پاس کیا۔ نور سجاد کی شخصیت پہلو دار ہے۔ وہ پیشے کے اعتبار سے میڈیکل ڈاکٹر ہیں۔ نظریاتی وابستگی انہیں سیاست تک لے آئی۔سٹیج اور ٹیلی ویژن کی قوت اظہار سے خوب واقف ہیں اور جدید اردو افسانے کا ایک معتبر نام ہیں۔ رقص کے بھی ماہر ہیں۔ انکی شخصیت کے تمام پہلو ان کی افسانہ نگاری میں کسی نہ کسی طور  ظاہر ہیں۔ رگ ِ سنگ، آج، استعارے، پہلی کہانیاں، چوراہا، خوشیوں کا باغ  ان کی نمایاں تخلیقات ہیں۔

نیلی نوٹ بک 16

اس سے ملنے بہت کم لوگ آتے تھے۔ ظاہر ہے کہ پیٹروگراڈ کے ساتھی نہیں چاہتے تھے کہ پولیس لینن کی بو بھی لے سکے۔ ہر فرد دوسرے تیسرے دن برگ آتا۔ ( برگ: الیگزانڈر واسیلیوچ شوتمان کا عرف تھا )۔ وہ بادامی رنگ کی داڑھی، ناک پر بغیر کمانی کی عینک چڑھائے اپنے پانامہ ہیٹ کی وجہ سے ایک شریف شہری دکھائی دیتا تھا۔ ان حالات میں نادہژدا، شوتمان کے اس حلیے کو بہت ہی مناسب سمجھتی تھی۔ ژوف اس سے بھی کم آتا۔کبھی کبھار کوئی کم گو عورت، بیوہ کے بہروپ میں دروازے سے داخل ہوتی اور ڈبل روٹی اور کپڑے چھوڑ جاتی۔

یہ آنے والے ہمیشہ رات کی تاریکی میں آتے اور صبح کی روشنی سے پہلے پہلے لوٹ جاتے۔

ایک مرتبہ شوتمان صبح سویرے ہی آگیا۔ نادہژدا بہت حیران ہوئی۔ وہ بہت جلدی میں تھا۔ اس نے پوچھا کہ جھونپڑی کے پاس کوئی مشتبہ شخص تو نہیں پایا گیا۔ نادہژدا کی یقین دہانی پر ، کہ نہیں، اس نے شام کے وقت دو ساتھیوں کی آمد کی اطلاع دی، ( مرکزی مجلس عاملہ کے ممبر ہیں۔ شوتمان نے سرگوشی کی )۔ پھر وہ جلد ہی سٹیشن کو واپس چل دیا۔

اور واقعی شام چھ بجے کے قریب دو آدمی اسکے دروازے پر آئے۔ چند لمحے تذبذب کے بعد انہوں نے دروازہ کھولا اور اندر آ گئے۔ وہ ان کے پاس چلی گئی۔ ان میں سے ایک چھوٹے قد کا تھا، ناتواں سا، ناک پر بغیر کمانی کی عینک الجھی ہوئی، سیاہ داڑھی، اداس آنکھیں۔ دوسرے کا چہرہ پتلا اور خشک سا تھا اور داڑھی نوکیلی۔

” کارپو وچ کا کیا حال ہے ؟ بغیر کمانی کی عینک والے نے گمبھیر آواز میں یوں پوچھا جیسے کسی بے حد بیمار قریبی دوست کی صحت کے بارے میں پوچھ رہا ہے۔

” ڈاکٹر کہتا ہے، اب بہتر ہے ” نادہژدا نے جوا دیا، ” میں ابھی آپ کو ان کے پاس بھجواتی ہوں ۔”

بغیر کمانی کی عینک والے نے اپنا تعارف آندرے کے طور پر کروایا۔ نوکیلی داڑھی والے نے بتایا کہ اس کا نام یوزف ہے۔ وہ دونوں بنچ پر بیٹھ کر سستاے لگے۔ باڑ کے قریب ہی اگی گل یاسمین کی جھاڑیوں کو آندرے نے خوابیدہ آنکھوں سے دیکھا۔

” دیکھو ” آندرے نے ان جھاڑیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پھیکی سی مسکراہٹ سے کہا

” ہاں ” یوزوف نے جواب دیا۔

” ہم بھول ہی گئے تھے کہ دنیا میں ایسی چیزیں بھی ہوتی ہیں ؟” آندرے نے سوالیہ انداز میں کہا

” ہاں ، واقعی۔ ” یوزوف بولا۔

نادہژدا نے خاموشی سے پھولوں بھری ایک ڈالی توڑ کر آندرے کو دے دی۔ اس نے ہاتھ میں پکڑی پھولوں کی ڈالی کی خوشبو سونگھتے ہوئے کہا، ” کیا ہمیں اندھیرا ہونے تک انتظار کرنا پڑے گا ؟ “

” نہیں۔ آپ ابھی جا سکتے ہیں۔ کشتی میں۔ مچھلی پکڑنے کا سامان ساتھ لے جایے تاکہ پتہ چلے آپ مچھلی کے شکار پر نکلے ہیں۔ “

وہ اپنے بیٹوں میں سے کسی کو بلانے چلی گئی۔ کوندراتی باغیچے میں بیٹھا مطالعے میں مشغول تھا۔ اس نے کتاب ماں کو تھما دی اور جھیل کے کنارے غسل گاہ کو چل دیا جس میں چپو اور مچھلی پکڑنے کا سامان چھپا رکھا تھا۔ وہ دونوں خاموشی سے اس کے پیچھے ہو لیے۔ احاطے کے آخر میں ایک چھوٹی سی کھاڑی تھی، بید مجنوں میں چھپی، کھونٹے سے بندھی کشتی پانی میں ہلکورے لے رہی تھی۔

کوندراتی نے دنبال کا پتوار اور آندرے نے چپو سنبھال لیے۔ کشتی چھوٹی کھاڑی پر تیرتی بڑی جھیل میں آ گئی۔ بہت بڑی جھیل جس کا دوسرا کنارہ فاصلوں میں گم تھا۔ یہاں لہریں کھلے سمندروں کی طرح مچلتی اچھلتی تھیں۔ یوزوف نے مچھلی پکڑنے کی کنڈی والی چھڑی فضا میں بلند کر رکھی تھی تاکہ دور سے اسے دیکھا جا سکے۔ آندرے بڑی قوت اور مہارت کے ساتھ اسے کھیتا رہا۔

راستے میں چھٹی کا دن منانے والوں کی کشتی سے ان کا سامنا ہو گیا۔ ایک خوبسورت سی لڑکی کشتی کے پچھلے حسے میں نیم دراز تھی، خوابوں میں گم، پتوں سے لدی ڈال پکڑے، پتی پتی جھیل میں پھینک رہی تھی۔ آندرے چپووں کے سہارے بیٹھ گیا اور کچھ عرصہ اس کشتی کو دیکھتا رہا جو اپنے پیچھے پانی پر چھوٹی چھوٹی پتیاں ، پانی کی سظھح پر ناچتی چھوڑ رہی تھیں۔ پھر اس نے استہزایئہ ،سکراہٹ سے چپو چلاتے ہوئے کہا، ” لوغ یوں ہیں جیسے دنیا میں کچھ ہو ہی نہیں رہا۔۔۔۔۔ جیسے دو سال، سال یا دس سال پہلے تھے ۔۔۔ ظالسظائی کا مشاہدہ بہت صحیح تھا  ۔۔۔۔ “

” ہو سکتا ہے وہ بھول جانا چاہتے ہوں۔ ” یوزوف نے کہا۔
کچھ دیر کے لیے ان دونوں پر خاموشی چھا گئی۔

” کتنی خاموشی ہے ” آندرے نے کہا، ” مجھے اتنی چپ کی عادت نہیں ناں، اس لیے لگتا ہے کہ بہرا ہو گیا ہوں۔ “

” تم چپو اچھے چلا لیتے ہو۔ ” یوزوف بولا

” میں نے جلاوطنی میں کشتی چلانا سیکھی تھی۔ تین سال پہلے جب مجھے روخانسک کے علاقے میں جلاوطن کر دیا گیا تھا تو میں نے وہاں ایک کشتی کرائے پر لی تھی۔ میرے علاوہ کسی کو یانیے میں کشتی ڈالنے کی جرات نہیں ہوتی تھی۔ میں اپنے پیشین گویئاں کرنے والے ساتھیوں پر ہنسا کرتا تھا، جو کہتے تھے کہ جھیل میں شارکیں دانت تیز کئے میری منتظر ہیں اور میں جانتا تھا کہ میں شارکوں کی مرغوب غذا نہیں ہوں۔ میں بہت کھردرا، کڑوا کسیلا ہوں، ان کے لیے نگلنا مشکل ہوں گا۔ ان دنوں مجھے شاعری بھی اچھی لگتی تھی۔ “

یوزوف کا پیلا، کمزور چہرہ اداس ہو گیا۔ وہ مسکرا دیا، پر چپ رہا

آندرے بھی خاموش ہو گیا۔ جوں جوں کنارہ قریب آ رہا تھا ، توں توں اسکی بے قراری بڑھتی جا رہی تھی۔ لینن کے ساتھ ملاقات کے لیے اس کے اضطراب کی ایک خاص وجہ تھی۔ اسکے کوٹ کی جیب میں اسکے اپنے مضمون ” محنت کشوں کی بین الا قوامی تحریک ” کی ایک نقل تھی۔ یہ مضمون اس نے اپنی جلا وطنی کے زمانے میں لکھا تھا۔ کئی ماہ سے اسکا جی چاہ رہا تھا کہ وہ یہ مضمون لینن کو دکھائے پر اسے ہمت نہ ہوتی تھی۔آج اسنے فیصلہ کیا تھا کہ وہ لینن سے ملنے جائے گا تو اپنا مضمون ساتھ لیتا جائے گا۔ اگر جرات سمیٹ سکا تو وہ مضمون لینن کو دے دے گا۔ شاید وہ اپنے فارغ وقت میں اس پر نظر ڈال لے۔آندرے نے خود ہی اپنی تعلیم و تربیت کی تھی۔ جلاوطنی میں اس نے جرمن اور فرانسیسی زبانیں خود ہی سیکھی تھیں۔ اس نے وہاں بہت پڑھائی کی تھی۔ اسکا جی مضامین لکھنے کو بہت چاہا کرتا تھا۔ لیکن ایک تو وقت کی کمی تھی دوسرے اسے اپنی صلاحیتوں پر اعتماد نہیں تھا۔ اسنے دل ہی دل میں اپنی اس ادبی کھجلی کا مذاق اڑایا۔ لینن کو مضمون دینے کو اس کا بہت جی چاہتا تھا لیکن جھجھک اور شرم مانع تھی۔

کوندراتی کشتی کو کنارے پر لے گیا۔ کشتی، پودوں کو چاقو کی طرح کاٹ کر کنارے سے جا لگی۔ وہاں ایک اور کشتی بندھی پانی پر ڈول رہی تھی۔

” ہم پہنچ گئے ناں ۔ ” آندرے نے پوچھا

وہ کنارے پر کود گئے اور تجسس سے گرد و پیش کا جائزہ لینے لگے۔ اس لمحے ایک تیرہ سالہ لڑکا جھاڑیوں سے بر آمد ہوا۔ اسنے بڑے غور سے نوواردوں کو دیکھا، پھر یک لغت جنگل کی طرف بھاگ گیا۔

” یہ کون تھا ؟ ” یوزوف نے احتیاظا پوچھ لیا۔

” یرا بھائی، ” کوندراتی نے مسکرا کر کہا۔ ” بھاگ کر لینن کو اطلاع دینے گیا ہے۔ وہ یہاں گشت کے فرائض انجام دیتا ہے۔ “

نیلی نوٹ بک قسط 17

نیلی نوٹ بک قسط 15

2 thoughts on “نیلی نوٹ بک قسط 16 ۔۔۔ انور سجاد

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: