غزل ۔۔۔ فرح خاں

غزل

( فرح خاں )

فصیلِ جان پہ سائے ہیں زرد بیلوں کے
یہ کیسے ابر سے چھائے ہیں زرد بیلوں کے

تمہاری آنکھوں پہ خوشبو اتر چکی لیکن
ہمیں تو خواب تک آئے ہیں زرد بیلوں کے

وہ سرخ پھول کتابوں میں دیکھ روتا رہا
جسے بھی قصے سنائے ہیں زرد بیلوں کے

خبر نہیں بھی ہوا کو تو باغ جانتا ہے
جو میں نے رنج اٹھائے ہیں زرد بیلوں کے

کچھ اس لیے بھی مری سانس رک رہی ہے فرح 
کسی نے زخم دکھائے ہیں زرد بیلوں کے

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: