بلراج ساہنی ۔۔۔ خوشونت سنگھ

Khushwant Singh was an Indian author, lawyer, diplomat, journalist and politician. His experience in the 1947 Partition of India inspired him to write Train to Pakistan in 1956, which became his most well-known novel

.بلراج ساہنی

( خوشونت سنگھ )

  

میں نے کئی جگہ یہ بات تحریر کی ہے اور محسوس بھی کی ہے کے مرد اپنی بیٹی سے زیادہ محبت کرتے ہیں۔ میرے دوست بلراج ساہنی کو بھی چند ماہ پہلے اپنی بیٹی شبنم کی موت کا صدمہ اٹھانا پڑا اس نے اس صدمے کو بظاہر بے جگری سے برداشت کیا مگر ٹیس بہرحال موجود رہی۔

شبنم ایک نہایت ہی خوبصورت بچی تھی زندگی اور مسکراہٹ سے بھرپور اس کی عجیب حرکتوں میں بھی ایک دلچسپ خوبی موجود تھی۔ اس کی شادی ہوئی لیکن یہ شادی بربادی ثابت ہوئی اور شبنم  کی زندگی سے مسکراہٹ غائب ہوگئ۔ بلراج بھی مسکرانا بھول گیا ۔آخری بار جب میری ان سے ملاقات ہوئی تو جو ہو والے گھر میں تھے۔ میں نے جب شبنم  کو یاد دلایا کہ اس کی زندہ دلی کے قصے تو پنجاب بھر میں مشہور تھے تو اس نے  صرف معذرت خواہانہ انداز میں سر ہلا دیا۔  جب کبھی ہم بلراج کے گھر جاتے تو شبنم ہمیں  کھانا اور بیئرسرو کرتی۔ بلراج کی تعریفی نگاہیں تو بس اپنی بیوی کی حرکات و سکنات کا احاطہ کرتیں۔

میں بلراج کو گزشتہ چالیس سال جانتا ہوں میں  کسی اور ایسے دوست کو نہیں جانتا جس نے اتنی محبت دی اور عوضانے میں کچھ بھی طلب نہ کیا میں نے کئی بار اس سے تیز و تند گفتگو کی لیکن اسے کبھی غصہ نہ آیا۔ نہ ہی جوابا اس نےکوئی فضول گفتگو کی ۔اس کی محبت نہ صرف دوستوں کے لیے بے انتہا تھی  بلکہ وطن کے لئے بھی وہ اسی احساس کا مالک تھا۔ وہ سکول ٹیچر کی حیثیت سے اس محبت کا اظہار کرنا چاہتا تھا لیکن بمل رائے  کی دو بیگھہ زمین میں رکشہ کھینچنے والے کا بھرپور کردار کرکے اس نے اس محبت کا اظہار کیا۔

میں نے بلراج کے مارکسی ہونے کو کبھی سنجیدگی سے نہ دیکھا غریب کا ساتھی اور اچھے کام کرنے والے کا معترف تھا۔ داس کیپیٹل اس نے اسی جذبے کے تحت مطالعہ کی تھی ترقی پسند نمائندوں کی انتخابی مہم میں حصہ لے کر اور قحط زدہ افرادکی مدد کرکے اپنے ضمیر کو مطمئن کرنے کی کوشش کی۔

 کم لوگ جانتے ہیں کہ بلراج، مارکس،اینگلزیا  لینن کی نسبت گرنتھ صاحب کا زیادہ مطالعہ کرتا تھا ۔ اسکے مطالعے کےکمرے میں گرنتھ صاحب کا بڑے سائز کا نسخہ ہمیشہ کھلا پڑا نظر آتا تھا اور اس نے اس کے اقتباسات  زبانی یاد کر رکھے تھے ۔ اپنی مستقل مزاجی کی مدد سے اس نے پنجابی لکھنا سیکھا اور اپنے مضامین گرمکھی رسم الخط میں ٹائپ کیے۔ بمبئی سے شائع ہونے والے پنجابی رسالے ” رنجیت ” کے لئے

وہ کالم لکھا کرتا تھا اور اس کے کالم بے حد عمدہ تھے۔

 بلراج کی تاریخ پیدائش اور تاریخ وفات اس کی زندگی کے تضادات کو ظاہر کرنے کے لیے کافی ہے۔وہ، یوم مئی ، مزدورون کے عالمی دن کو پیدا ہوا اور اس کی موت 13   اپریل کو خالصہ سکھ ازم کی سالگرہ کے دن ہوئی۔  اس کی آخری خواہش تھی کہ اس کی موت پر مذہبی رسومات نہ کی جائں۔ لینن کی تعلیمات اور سرخ جھنڈا اس کے پہلو میں رکھا جائے۔

کیا بلراج کیمیونسٹ تھا یا سکھ ؟؟

2 thoughts on “بلراج ساہنی ۔۔۔ خوشونت سنگھ

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: