بے زمین ۔۔۔ رشید امجد

بے زمین

( رشید امجد )

اب صورت یہ ہے کہ وہ موٹر سایئکل کے اگلے وہیل میں پھنسا ہوا ہے۔ ٹوٹی پوٹی سڑک پر موٹر سایئکل دوڑاتا چلا جا رہا ہے اور سوار کوئی نہیں۔

پہلا سوال تو یہ ہے کہ موٹر سایئکل سوار کہاں گیا ؟ کوئی تھا بھی کہ نہیں ؟

خود اس کی حالت یہ ہے کہ سپوکس اس کی آنکھوں، گالوں اور دماغ میں گھسی ہوئی ہیں۔ خیال کی رو کبھی چلتی ہے مگر سپوکس میں اَڑ کر رک جاتی ہے

کچھ دھندلاہٹیں، دبی دبی سی آوازیں، اور مٹتے بنتے نقش

موٹر سایئکل ہے کہ بغیر سوار کے ٹوٹی پھوٹی سڑک پر اچکتا، مڑتا تڑتا، بھاگا جا رہا ہے اور اگلے وہیل میں پھنسا وہ نہ باہر نکل سکتا ہے نہ اندر رہ سکتا ہے۔ باہر یوں نہیں کہ نکلنے کی طاقت نہیں، جسم چور چور اور سپوکوں میں پرویا ہوا ہے۔ ذرا سی حرکت کرتا ہے تو درد کی ٹیسیں پورے جسم پر پریڈ کرتی ہیں۔

اندر یوں نہین کہ آنکھیں پوری طرح بند بھی نہیں ہں، اس لیے سارا منظر دھندلا دھندلا سہی، بہر حال دکھائی تو دیتا ہے۔ نیند مکمل نہیں اس لیے آوازیں دبی دبی سہی، بہر حال سنائی تو دیتی ہیں اور یہ منظر اور آوازیں ایسی ہیں کہ چٹکیاں لیتی ہیں کہ باہر نکلو۔ اب یا تو وہ باہر نکل آئے مگر نکلنے کی طاقت نہیں، یا پھر اندر ہی دبکا رہے مگر یہ آوازیں اور منظر، اور موٹر سایئکل ہے کہ بغیر سوار کے ٹوٹی سڑک پر دوڑتا چلا جا رہا ہے۔

بہت دن پہلے اس نے ایک خواب دیکھا تھا کہ ایک ہرا بھرا میدان ہے، کناروں پر گھنے درخت، بیلیں اور پھولوں کے تختے، اوپر چمکتا سورج، اور چڑیوں کی چہکار، دفعتہ کسی طرف سے ایک گھڑ سوار میدان کے بیچوں بیچ آن نکلا۔ اس کے ہاتھ میں ایک لمبی درانتی تھی جس سے اس نے ہرے بھرے درختوں کو کاٹنا شروع کر دیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے گھنے درخت، بیلیں اور پھولوں کے تختے زمیں بوس ہو گئے۔ وہ بھی ایک گھنے درخت کے سائے میں کھڑا تھا، گھڑ سوار سیدھا اس کے پاس آیا اور لپک کر اسکے دونوں کان کاٹ لئے۔

پھر گھڑ سوار جدھر سے آیا تھا، گھوڑا دوڑاتا اسی سمت غائب ہو گیا۔ اس نے اپنے کٹے ہوئے کان اٹھائے اور بھاگم بھاگ گھر آیا۔ ماں نے اسے دیکھ کر چیخ ماری ۔۔۔ ” تمہارے کان کہاں گئے ؟ ‘اس نے ہاتھوں میں پکڑے کان آگے کر دیے اور جلدی جلدی ساری بات بتائی۔ ماں نے سن کر شکر کا کلمہ پڑھا اور بولی، ” مبارک ہو۔ اب تجھے جینے کا سلیقہ آ جائے گا۔ “

” مگر وہ تھا کوں ؟ ” اس نے حیرانی سے پوچھا

ماں نے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر ” شی ” کی، ” بس کسی کو بتانا نہیں۔ “

اس شام وہ باہر نکلا تو اسے پہلی بار محسوس ہوا کہ شہر میں بہت کے کان کٹے ہوئے ہیں۔ چند دن اجنبی اجنبی سے لگے اور پھر اسے یاد بھی نہیں رہا کہ اس کے کان نہیں ہیں۔

چند دن بعد اس نے پھر وہی خواب دیھا کہ ویسا ہی ہرا بھرا میدان ہے، کناروں پر گھنے درخت، بیلیں اور رنگ برنگے پھولوں کے تختے ۔۔۔۔ اور چمکتا سورج ، مگر اب کے چڑیوں کی چہکار نہیں۔ گھڑ سوار کسی طرف سے نمودار ہوتا ہے، میدان میں چاروں طرف گھوڑا دوڑاتا ہے، لمبی درانتی سے درختوں کو کاٹتا اس کے سامنے آن کھڑا ہوتا ہے اور پلک جھپکنے میں اس کی دونوں آنکھیں نکال دیتا ہے۔

وہ دوڑتا گھر آتا ہے۔ ماں اسی طرح مبارک دیتی ہے ۔۔۔ چند دن اجنبی اجنبی، پھر اسے احساس ہی نہین ہوتا کی آنکھیں نہیں ہیں۔ اب نہ کان ہیں نہ آنکھیں۔ مگر اسے کسی کمی کا احساس نہیں ہوتا۔

معلوم نہیں یہ صورت حال کب تک رہتی ہے لیکن اب دفعتا وہ محسوس کرتا ہے کہ اس کی آنکھیں بھی ہین اور کان بھی، تب وہ ایک موٹر سایئکل کی آواز سنتا ہے اور دیکھتا ہے کہ وہ اس کے اگلے وہیل میں پھنسا ہوا ہے۔ سپوکس اس کے سارے جسم ، چہرے اور دماغ میں پروئی ہوئی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور موٹر سایئکل بغیر سوار کے ٹوٹی پھوٹی سڑک پر دوڑتا چلا جا رہا ہے۔

کہاں۔ یہ وہ نہیں جانتا۔نکلنا چاہتا ہے ۔۔۔۔ مگر نکل نہیں سکتا۔۔۔۔۔ اس سارے منظر اور آوازوں سے بیگانہ ہونا چاہتا ہے۔ مگر ہو نہیں سکتا کہ آنکھیں صاف نہ سہی دھندلا دھندلا تو دیکھ سکتی ہیں اور کان صاف نہ سہی دبی دبی آواز تو سن سکتے ہیں۔ اور وہ بار بار خود سے پوچھتا ہے کہ ۔۔۔ یہ سب کیا ہے ۔۔۔ یہ سب کیا ہے ؟ خواب ہے تو یہ خواب ختم ہونے میں نہیں آتا اور اگر حقیقت ہے تو ۔۔۔۔۔۔۔ ؟

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: