سُرخ گلابوں کے موسم میں ۔۔۔ راشد جاوید احمد

سرخ گلابوں کے موسم میں

( راشد جاوید احمد )

وہ گذشتہ کئی روز سے سینے میں شدید تکلیف اور جکڑن کی بنا پر اسپتال کے بستر پر پڑی ہے۔ میں نے بہت کوشش کی کہ مجھے چند روز کی چھٹی مل جائے اور میں اس کی دیکھ بھال کر سکوں لیکن ایسا ہو نہ سکا۔ بیٹی کو سکول لانے، لیجانے کے علاوہ اسپتال کا چکر لگانے میں دن کا کافی حصہ خرچ ہو جاتا اور جس دکان پر میں کام کرتا ہوں اس کا مالک چہرے پر انسانی ہمدردی کا لیبل لگائے ،میری غیر حاضری اور ورکنگ آرز کے دوران غائب ہونے پر مجھے دل ہی دل میں کوستا ہے۔ اسے ذاتی طور پر جامنی رنگ کے آرکڈ اور زرد گلاب بہت پسند ہیں اور شاید اسی وجہ سے اسکے چہرے پر زرد نیلاہٹ چھائی رہتی ہے

فیکٹری سے گولڈن ہینڈ شیک کے بعد ملنے والی رقم سے اپنا کوئی کاروبار چلانے میں ناکامی اور رقم ضائع ہونے کے بعد مجھے اسکے پاس کام کرتے کوئی تین برس سے اوپر ہی ہوگئے ہیں۔ میرے کام اور محنت سے مالک خوش تو ہے لیکن کسی بھی قسم کی سہولت دینے میں وہ اتنا ہی خصیص ہے جتناکہ کسی گاہک کو رعایت دینے میں۔

ویسے تو لوگ سارا سال ہی، شادیوں، تیمارداریوں اور حاجیوں کے لیے فلارسٹ سے پھول یا پھولوں کے گلدستے خریدتے ہی رہتے ہیں لیکن سرخ گلابوں کے  اس مقررہ دن سے کچھ روز پہلے ان کی پھولوں سے محبت کچھ اس زور سے جاگتی ہے کہ میرے علاوہ میرے دو ساتھی کار کن بھی طلب و رسد کی چکی میں پس جاتے ہیں۔ اس ایک دن مالک کی کمائی اسکی  دو ماہ کی آمدنی سے زیادہ بنتی ہے۔ اس دن لوگوں کی ایک بھیڑ دکان پر آتی ہے جن میں ہمارے کچھ مخصوص گاہک، مستقل گاہک اور کبھی کبھار آنے والے خریدار ہوتے ہیں لیکن نوجوان لڑکے لڑکیوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے۔ مالک نے پرانے گاہکوں کے نام ، پتے اور فون نمبر ایک الگ رجسٹر میں درج کر رکھے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ایک دو روز پہلے آرڈر بک کراوتے ہیں اور اس بات کی گارنٹی لیتے ہیں کہ پھولوں کا گلدستہ انکے بتائے پتے پر روز مقررہ پہنچایا جائے گا۔ کچھ خواتین گاہک بھی ہیں جو اپنے گلدستوں کو ایک سرپرائز کی صورت میں پہنچانے کی تمنا کرتی ہیں۔ جوان لڑکے لڑکیاں تو زیادہ تر موقعے پر ہی سرخ گلاب خریدتے اور ایک دوسرے کوتھما دیتے ہیں۔ ایک دو روز پہلے  بُک کئے گئے آرڈرز کو ، مالک،  حکم کی طرح مانتا ہے اور اس میں کسی قسم کی سستی یا ڈھیل کی گنجائش نہیں ہوتی۔

پچھلے تین چار روز سے وہ پھول جمع کر رہا ہے اور ہم انہیں اسطرح سے محفوظ کرتے ہیں کہ جب بھی گاہک کو پیش کریں تو لگے کہ ابھی باغ سے تازہ تازہ توڑ کر لائے ہیں۔ نہ ان کی خوشبو ماند پڑنے دیتے ہیں نہ شکل بگڑنے دیتے ہیں۔

میں نے بیٹی کو آج سکول سے چھٹی کروائی ۔ اسے اسکی خالہ کے ہاں چھوڑ کر بھاگم بھاگ اسپتال گیا۔ ڈاکٹروں سے تازہ ترین صورت حال دریافت کی، بیوی کو ڈھائی بول تسلی کے دیے، دن میں ایک بار پھر چکر لگانے کا کہہ کر موٹر سایئکل پوری رفتار سے بھگاتے ہوئے، ہلکی پھوار، جو موٹر سایئکل کی رفتارمیں کافی  تیز لگتی ہے، کا مقابلہ کرتے ہوئے میں وقت مقررہ سے کوئی دس منٹ کی تاخیر سے دکان پر پہنچ گیا۔ دونوں لڑکے بڑی بڑی بالٹیوں میں پھول ڈالے ان کو الگ الگ کر رہے تھے۔ جونہی میں دکان میں داخل ہوا تو اسی لمحے مالک پھولوں سے بھری ایک وین کے ساتھ وہاں پہنچا۔ اچھا ہوا اسے میرے دیر سے آنے کی خبر نہیں ہوئی ورنہ صبح صبح اسکا موڈ خراب ہوتا تو سارا دن چہرے کی زردی مائل نیلاہٹ مین غصۓ کا کالا رنگ بھی نظر آتا رہتا۔۔ ہمیں کام میں جٹے دیکھ کر اسے تسلی ہوئی۔ میں اپنے حصے کی پھولوں کی بالٹیاں سامنے رکھے ان میں سے گل ذخیرہ، سوسن، چنبیلی، گل ِ یاس، سرخ لوٹس، جنگلی سنبل، کیمیلیا اور چھوٹے قد کے گل ِ قاصدی الگ کرنے لگ گیا۔ مالک نے وین سے سرخ، تازہ خون کے رنگ ایسے،  سرخ گلاب اتروائے اور بچوں کی سی نگہداشت اور پیار سے انہیں دکان میں سجانے لگ گیا۔ ہلکی پھوار اب تیز بارش میں تبدیل ہونے لگی تھی۔ ہم تینوں نے بارش کی اس تیزی پر فکر مندی سے ایک دوسرے کی جانب دیکھا کہ اسی تیز بارش میں تمام گلدستوں کو گاہکوں کے بتائے پتوں پرتو ہم نے پہنچانا تھا اور یہ کام کسی بھی صورت میں کل تو دور کی بات، بعد از شام، پر بھی نہیں ڈالا جا سکتا تھا کہ سرخ گلابوں کا سال میں ایک ہی دن ہوتا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے تو لوگ اس میں کم دلچسپی لیتے تھے لیکن اب یہ باقاعدہ ایک تہوار کی صورت اختیار کر چکا تھا ۔

دو تین گھنٹوں کی محنت کے بعد اور مالک کی مسلسل فکر مند ،چیختی چلاتی ہدایات کے دوران ہم نے وہ تمام گلدستے تیار کر لئے جنہیں ان کی منزل تک پہنچانا تھا۔ ان کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ ایک حصہ میرے اوردوسرا  میرے ساتھی کارکن کے حوالے تھا۔ ترسیل کا کام ہم دونوں کو ہی کرنا تھا کہ تیسرے ساتھی کو مالک کے ساتھ دکان پر ہی رہنا تھا تاکہ   شادیوں کا سیزن ہونے کی وجہ سے گاڑی سجوانے والے گاہکوں کا کام کر سکے۔

ہم نے اپنا اپنا روٹ ظے کیا، موٹر سایئکل کے پیچھے جہازی سائز کے صندوق باندھے اور ان میں گلدستے بہت احتیاط کے ساتھ رکھ کر روانہ ہونے کو تیار ہوگئے۔

پہلا گلدستہ جو مجھے پہنچانا تھا ایک شوہر کی طرف سے اسکی بیوی کے لئے تھا، یہ نہیں کہ وہ الگ الگ رہ رہے تھے ، بس اسے شوہر کی ذہنی اپچ کہہ لیں یا بیوی کے لیے پیارکا اظہار یا نام نمود، لیکن میں سوچ رہا تھا کہ کیا بیوی پھولوں کا یہ خوبصورت گلدستہ دیکھ کر شوہر کی محبت کا یقین کرلے گی یا ہو سکتا ہے وہ سوچے کہ اس کے شوہر کو یہ صلاح اسکے دفتر والی ساتھی نے دی ہے۔ میں نے دوسری با ت کو زیادہ قرین قیاس سمجھا اور مجھے اس پر ہنسی بھی آ گئی اور میں نے چشم تصور سے اس بیوی کو بھی اس بات پر مسکراتے دیکھا۔  

یہاں سے فارغ ہو کر میں ایک اور خاتون کے پتے پر پہنچا۔ چوکیدار نے اندر اطلاع دی تو وہ خود باہر آ گئی۔ وہ بیس بایئس برس کی ایک خوبصورت لڑکی تھی۔ وہ مجھے اس قدر خوبصورت لگی کہ میرا جی چاہا کہ ایک گلدستہ میں اسے اپنی جانب سے بھی دے دوں لیکن میرے پاس تو پورا پورا مال تھا۔ مالک نے ایک سرخ گلاب بھی زائد نہیں دیا تھا۔ اور نہ ہی میری قوت خرید کبھی ایسا گلدستہ خرینے کی رہی تھی۔ خیر لڑکی نے جب ایک درجن سے زائد سرخ پھولوں کا گلدستہ وصول کیا تو اس کی آنکھوں میں بیک وقت حیرانی اورچمک قابل دید تھی۔ یہ مجھے کوئی تازہ تازہ محبت کی واردات لگی۔ لڑکی نے جب گلدستہ بھیجنے والے کا نام پڑھا تو اسکے چہرے کے سفید رنگ میں سرخ پھولوں کا رنگ بھی شامل ہو گیا اور اس نے ہلکی سی آواز میں کہا، ” پاگل ” اور دوسرے ہی لمحے مجھے شکریہ کہہ کر پھولوں سمیت اندر چلی گئی۔  اسی سڑک کے دوسرے کونے میں فلیٹوں میں ،میں نے ایک اور لڑکی کو گلدستہ پہنچایا اور وہاں بھی حیرانی اور خوشی کا رد عمل ظاہر ہوا۔

اب مجھے ایک گلدستہ ایک کئی منزلہ اونچی عمارت کی تیسری منزل تک پہنچانا تھا۔ یہ غالبا کوئی دفتر تھا اور گلدستہ  کسی صاحب کے لیے تھا۔ عمارت کی لفٹ   خراب تھی اور میں سیڑھیوں کی تلاش میں تھا کہ اسی دفتر کا چپڑاسی مجھے سیڑھیوں کی طرف لے گیا۔ میرے ہاتھ میں گلدستہ دیکھتے ہی اس نے کہا کہ یہ گلدستہ فلاں بی بی نے ہمارے پاپولر صاحب کے لیے بھیجا ہو گا۔ ” پاپولر ” ؟ میں نے حیرانی سے استفسار کیا تو اس نے بتایا کہ، ” ہمارے صاحب اپنے دوستوں میں اتنے مقبول ہیں کہ دفتر والوں نے ان کا نام پاپولر صاحب رکھ چھوڑا ے۔” چپڑاسی نے مزید یہ بھی بتایا کہ، ” بی بی شادی سے پہلے تک اسی دفتر میں کام کرتی تھیں اور ہمارے صاحب کی بہت گاڑھی دوست تھیں اوراب وہ ہر سال آج کے دن گلدستہ ضرور بھیجتی ہیں۔” پھر اس نے ایک آنکھ بھینچ کر رازداری سے مسکراتے ہوئے کہا، ” ایک بات بتاوں تمہیں ۔۔۔  صاحب یہ گلدستہ گھر لے جانے کی بجائے مجھے ہی دے جاتے ہیں۔۔۔۔۔ سمجھا کرو نا۔۔۔۔۔” میں نے بڑے زور سے سوچا کہ اس چپڑاسی کی جگہ میں ہوتا تو اس گلدستے کو رات اسپتال ہی لے جاتا۔ خیر، صاحب نے مسکرا کر گلدستہ وصول کیا اور میرا شکریہ ادا کیا۔

 سارا دن میں مختلف لوگوں کو سرخ گلابوں کے گلدستے پہنچاتا رہا اور کہیں سے حیرانی، کہیں سے غصہ اور کہیں سے مایوسی کے سے رد عمل دیکھنے کو ملتے رہے۔ ہاں البتہ جہاں کہیں میں نے کسی بڑے بوڑھے کو گلدستہ وصول کرایا تو ان سب کا ایک ہی رد عمل تھا، ” بے وقوف بچے، بھلا خود ہی لے آتے تو ملاقات بھی ہو جاتی۔۔۔۔”

موٹر سایئکل چلا چلا کر، دروازوں کی گھنٹیاں بجا بجا کر میں تھک چکا تھا ۔ بارش کہیں تیز، کہیں ہلکی لیکن مسلسل ہوتی رہی۔ کہیں کیچڑ کہیں پانی اور بادلوں کی وجہ سے شام بھی وقت سے پہلے نازل ہوتی نظر آنے لگی۔ ایک جگہ رک کر میں نے چائے کی پیالی پی اور اپنے صندوق کا جائزہ لیا تو صرف ایک گلدستہ باقی تھا اور اس گھر کا پتہ کافی دور کا تھا۔ لیکن آج کے دن میں کسی کو بھی مایوس نہیں کر سکتا تھا۔ چائے پی کر میں اس منزل کی طرف روانہ ہوا۔ بارش کی پرواہ کئے بغیر، جگہ جگہ ہلمٹ اتار کر، صاف کر کے دوبارہ سر پہ جماتے میں آخر کار اس گھر کے نزدیک تھا کہ آگے سڑک پر پانی کی وجہ سے ٹریفک جام تھا۔ میں نے ادھر ادھر سے نکلنے کی کوشش کی لیکن ہر بندے نے دوسرے سے آگے نکلنے کی قسم کھا رکھی تھی اور لگتا تھا کہ راستہ صاف ہونے میں بہت وقت لگے گا۔ میں نے دل ہی دل میں حساب لگا یا کہ اگر میں موٹر سایئکل سڑک کنارے اس کھوکھے پر کھڑی کر دوں تو پیدل جا کر گلدستہ دینے میں بہت کم وقت لگے گا اور یوں اتنا وقت مل جائے گا کہ میں اسپتال کا ایک چکر لگا سکوں۔ چنانچہ میں نے کھوکھے والے سے درخواست کی کہ صرف دس منٹ تک بایئک کھڑی کرنے کی اجازت دے دے۔ اسنے میری بات مان لی اور میں سڑک پر کھڑے پانی میں قدم جماتا اس گھر کے دروازے تک پہنچ ہی گیا۔ پچھلے برس بھی میں یہاں گلدستہ دے کے گیا تھا اور مجھے یاد آ گیا کہ پچاس پچپن کی اس خاتون نے زیر لب کہا تھا، ” آخر کتنے برس اور “۔

میں نے دروازے پر لگی گھنٹی بجائی اور سوچنے لگا کہ میں دیر سے پہنچنے کی معافی بھی طلب کروں گا اور بتا دوں گا کہ بارش اور پانی کی وجہ سے پہنچتے پہنچتے شام ذراگہری ہو گئی ہے۔ کچھ دیر کے بعد میں نے دوبارہ گھنٹی بجائی تو درمیانی عمر کے ایک شخس نے دروازہ کھولا۔ میں نے خاتون کا نام لیا اور مڑ کر صندوق میں سے سرخ پھولوں کا بڑا سا گلدستہ نکالا تو اس شخس نے بتایا کہ اس کی اماں، جن کے لیے گلدستہ آیا تھا، پچھلے ماہ انتقال کر گئی ہیں۔ یہ کہہ کر اس نے دروازہ بند کر دیا۔ معا مجھے مالک کی بات یاد آ گئی۔ اس خاتون کا شوہر ، فلارسٹ کی دکان والے بازار ہی میں ایک بڑے سٹور کا مالک تھا اور پانچ سال پہلے پھیپھڑوں میں پانی پڑنے کی بیماری سے انتقال کر گیا تھا۔ مالک سے اسکی گہری دوستی تھی اور مرنے سے پہلے  اس نے مالک کو کچھ پیسے بھی دیے تھے اوریہ وعدہ لیا تھا کہ وہ اسکی طرف سے سرخ گلابوں کا ایک گلدستہ اس خاتون کو تا حیات ہر سال بھیجا کرے گا۔ مجھے خاتون کی پچھلے برس کی کہی بات ” آخر کتنے برس اور” اب سمجھ میں آئی۔ میرے دل پر ایک گھونسہ سا پڑا۔ میں بہت دکھی سا ہو گیا۔ یہ میری آخری ڈیلیوری تھی اور اب میں فارغ تھا۔ اسپتال یہاں سے قریب ہی تھا۔ میں کھوکھے کی طرف جاتا یہ سوچ رہا تھا کہ میں یہ گلدستہ چپکے سے اسپتال لے جاوں۔ میری بیوی خوش ہو جائے گی۔ میری توکبھی اتنی بھی سکت نہیں رہی کہ اسے آج کے دن سرخ گلابوں کا گلدستہ دے سکوں حالانکہ فلارسٹ کے ہاں کام کرتے یہ میرا تیسرا سال تھا۔ پھر مجھے خیال آیا کہ اگر میں یہ گلدستہ اسپتال لے جاتا ہوں تو امانت میں خیانت ہو جائے گی  ۔ اور یہ کہ  گلدستہ بھیجنے والا اور وصول کرنے والا، دونوں ہی دنیا میں نہیں ہیں،اس قسم کا گلدستہ کسی اور کو دینا، خاص طور پر اپنی بیوی کو دینا ۔۔۔۔ نہیں نہیں ۔۔۔۔ یہ کچھ ٹھیک نہیں لگتا۔ اسی سوچ بچار میں میں نے بایئک پکڑی۔ مالک کو فون کر کے صورت حال بتائی اور یہ بھی کہا کہ اب میں اسپتال جا رہا ہوں لیکن مالک کا کہنا تھا کہ پھول فورا دکان پر واپس لاو، رات بھر تمہارے گھر میں پڑے رہے تو ناس ہو جایں گے۔ فلارسٹ کی دکان، سمجھ لیں کہ جہاں میں تھا وہاں سے شہر کے دوسرے کونے پرتھی۔ مرتا کیا نہ کرتا، گلدستہ لے کر دکان پر پہنچا ، مالک کے حوالے کیا  جسے اسنے میری للچائی نظروں کو بھانپ کرمحفوظ جگہ پر رکھ دیا۔  میں بہت کچھ سوچ رہا تھا۔ بالآخر میں نے  ہمت کی اور بہت ہی ملتجی لہجے میں گلدستہ مانگ ہی لیا کہ میں اسے اسپتال لے جاوں۔ میری بات سن کر مالک کو شاید میری ذہنی حالت پر کچھ شبہ سا ہوا پھر قدرے ہچکچاہٹ سے اس نے اس میں سے ایک سرخ گلاب نکال کر مجھے یوں دیا جیسے بھیک دی ہو۔۔۔۔ صرف ایک گلاب ۔۔۔ میں یہ لوں یا نہ لوں، ابھی فیصلہ نہیں کر پایا تھا کہ میرے ہمسائے کا فون آ گیا۔ میری بیوی اسپتال سے ڈسچارج ہو کر گھر پہنچ چکی تھی اور کہہ رہی تھی  کہ میں  بیٹی کو اس کی خالہ کے ہاں سے لے کر اب گھر ہی پہنچوں۔

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: