پتی ورتا ۔۔۔ شاہین کاظمی

پتی ورتا

( شاہین کاظمی )
 

میری ماں عجیب سی تھی آدھی سے زیادہ زندگی رسوئی میں گزار کر پتی ورتا ہونے کا ثبوت دیتے دیتے ایک اِس نے خاموشی سی آنکھیں موند لیں روز کھانا پروس کر وہ اپنے پتی کی چہرے پر اُگنے والے تاثرات میں محبت کا کوئی بھولا بھٹکا پرکاش کھوجنے کی کوشش کرتی لیکن وہاں جامد سناٹے کے سِوا کچھ نہ پا کر خاموشی سے برتن سمیٹ کر کھُرے میں گھِسنے بیٹھ جاتی اور باپو اپنا پوّا بغل میں دبائے اندھیرے میں جاگتی گلیوں کا رخ کرتا۔ میں گو بہت چھوٹی تھی لیکن باپو کے تیور اور ماں کے آنسو دونوں نظر آتے میں نے اتنی چھوٹی عمر میں ہی تہیہ کر لیا تھا کہ مجھے ماں جیسی نہیں بننا لیکن پھر ایک دن ماں اپنے ہاتھ کا سارا ذائقہ مجھے سونپ کر خود چتا پر جا سوئی اور نہ چاہنے کے باوجود جس دن میں نے پہلی بار موہن کو کھانا پروسا تو مجھے لگا وہ کھانے کے ساتھ انگلیاں بھی کاٹ کھائے گا کھا نا کھا کر اُس نے ایک اُچٹتی نظر مجھ پر ڈالی

’’ تیرے ہاتھوں میں غضب کا سودا ہے’‘

اُس کا ہاتھ میری کمر پر رینگ آیا

’’کیا اِس کا بھی مجھ سے صرف بھوک کا رشتہ ہی’‘

مجھے بے اختیار ماں یاد آ گئی ستائش اور چاہے جانے کی تمنا میں گھلتی ہوئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رسوئی میں ہلکان ہوتی ہوئی

مجھے موہن سے نفرت نہیں تو محبت بھی نہیں تھی عجیب ٹھس سا آدمی تھا کھانے اور پیسے کے علاوہ اُس کا کوئی اور شوق نہ تھا نوٹوں کو دیکھتے ہوئے اُس کی آنکھوں میں اُتر آنے والی چمک سے مجھے شدید چڑ تھی لیکن اس کے باوجود میں اُس کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتی تھیں نے نہ چاہتے ہوئے بھی رسوئی سے رشتہ جوڑ لیا سسرال بھر میرے کھانوں کی تعریف کرتا۔ فرمائش کر کے کھانے بنوائے جاتے اور جی بھر کر سراہا جاتا لیکن مجال ہے موہن کے منہ سے تعریف کے نام پر کبھی کوئی ایک شبد بھی پھوٹا ہو، میں تو شاید اُس کی دوکان میں پڑے کپڑے کے تھان سے زیادہ اہمیت نہ رکھتی تھی لیکن نہیں کپڑے کے تھان بھی اُس کی نظر میں اہم تھے میں تو بس نرک جھونکنے کا سامان تھی چاہے تن کا ہو یا من کا۔

دھرتی سوکھے کی زد میں ہو تو مٹی چٹخنے لگتی ہے سب کھنڈر ہونے لگتا ہے۔۔ میں بھی ایک بانجھ دھرتی تھی جسے سوکھا مار گیا تھا۔۔۔ دراڑوں میں جانے کونسےا ٓسیب اُتر آئے تھے کہ میری آتما بلبلا کر بین کرنے لگتی۔ ایسے میں میرا جی چاہتا موہن کا خون پی جاؤں کبھی ماں کو کوسنے پر اُتر آتی جس نے بنا دیکھے بھالے اپنے سے پندرہ سال بڑے موہن کے پلے باندھ دیا تھا وہ اِس کے بڑے سے گھر اور پیسے کی ریل پیل پر ریجھ گئی تھی۔

ماں مجھے اکثر کہا کرتی کہ میں ناشکری ہوں گلہ میری زبان کی نوک پر دھرا رہتا ہے

’’کیا میں واقعی نا شکری ہوں ؟’‘

’’جو ملا نہیں اس پر شکر کیسا؟’‘

لیکن ماں کو میری یہ منطق سمجھ نہیں آتی تھی۔ وہ ہر حال میں مجھے اپنے جیسا دیکھنا چاہتی تھی گھٹ گھٹ کر جیتے ہوئے لیکن مجھے برزخ کی یہ زندگی منظور نہ تھی

اُس دن دیور جی کو بنی سنوری دیورانی کے پیچھے بھاگتے دیکھ کر میں دروازے کی اوٹ میں ہو گئی اوپر جاتی سیڑھیوں پر دونوں ہاتھ ٹکائے دیور جی اس کے چہرے پر جھکے ہوئے تھے دیورانی کے چہرے پر محبت اور ممتا کا انوکھا تال میل دیکھ کر وہ مجھے کسی اور ہی دنیا کی مخلوق لگی کہیں اندر نارسائی کا گہرا کرب سانپ کی طرح پھنکارنے لگا سونی کوکھ جلنے لگی تھی۔ اس دن پہلی بار مجھے موہن سے نفرت محسوس ہوئی۔ لیکن وہ تو شروع سے ہی ایسا تھا بے حس اور خود غرض۔۔۔۔۔ اسے غرض تھی تو بھی محض اپنی بھوک سے میں بھی۔

’’رادھیکا کھانا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رادھیکا رات بھیگ گئی ہے اب آ بھی جاؤ’‘

سن سن کر اوبھ گئی تھی میں اسے کیوں نظر نہیں آتی تھی؟ کبھی کبھی میرا من کرتا اسے کسی دن جھنجھوڑ کر پوچھوں

’’آخر میں تمہیں کیوں نظر نہیں آتی’‘

لیکن میں جانتی تھی پتھر سے ٹکرائیں تو اپنا ہی ما تھا پھوٹتا ہے سو یہی ہوا

’’ ڈرامے کم دیکھا کرو’‘

اُس کی آواز میں تلخی تھی

’’ کاروبار بھی تو دیکھنا ہوتا ہے اور پھر ہماری کون سا نئی نئی شادی ہے یہ چونچلے نئے نویلوں پر اچھے لگتے ہیں’‘

’’ نئے نویلے ہونے پر تم نے کونسا پہاڑ سَر کر لیا تھا’‘

میں کڑواہٹ نہ چھپا سکی

’’تم جانتی ہو مجھے زبان چلاتی عورتیں نہیں پسند’‘

وہ جھنجھلا گیا

میں بہت کچھ کہنا چاہتی تھی لیکن یہ بھی خبر تھی وہ کبھی میری بات نہیں سمجھے گا

’’کیا میں کچھ زیادہ کا مطالبہ کر رہی تھی؟’‘

اندر سوکھا بڑھا تو مٹی بھُرنے لگی تیز ہواؤں کا شور ڈرانے لگا تھا۔۔۔۔۔ اس گرداب میں میرے پاؤں اکھڑ نے لگے اپنی بے مائے گی اور بانجھ پن کا احساس بڑھ گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ساتھ ہی رسوئی میں گزرتا وقت اور موہن کی نفرت بھی وہ اب بھی ویسا ہی تھا۔۔۔۔۔ کٹھور، بے حس اور وہی اس کا تیزی سے بے ہنگم بڑھتا ہوا جسم

میں نے دیسی گھی میں تر بتر حلوے کی پلیٹ اُس کی طرف بڑھائی تو وہ سیدھا ہو کر بیٹھ گیا

’’تم بنا لاتی ہو اور میں نہ نہیں کر سکتا جب کہ ڈاکٹروں نے سختی سے چکنا منع کیا ہے وہ کیا کہتے ہیں خون میں گھی زیادہ ہو گیا ہے نا’‘

اس نے ہلکا سا منہ بنایا اور پلیٹ پکڑ لی

’’ڈاکٹروں کا کیا ہے اپنی دوکان بھی تو چلانی ہے انھیں’‘ میں اُس کے ساتھ لگ کر بیٹھ گئی اور سوچ رہی تھی صبح دودھ والے سے مزید پانچ کلو شدھ گھی منگوا ہی لوں۔۔

٭٭٭

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: