کچی نیند میں ۔۔۔ شہناز پروین سحر


کچی نیند میں

( شہناز پروین سحر )


اک مورت سانسیں لیتی ہے 
وہ جیتی ہے اور جاگتی ہے
جب لمس کیا ، معلوم ہوا
اپنا ہی چہرہ مہرہ ہے ،
اپنی ہی بانہیں ،
اور یہ اپنے خالی ہاتھ
پھر یکدم اک احساس ہوا
سب کچھ مٹی ہی ہو نا ہے
جو آج ہے کل سب کھو نا ہے
میں کب سے اس بسرام میں ہوں
اس دھرتی پر ۔۔۔۔۔۔۔
اور
اس دھرتی کے نیچے بھی
اب کونسی طاقت کھینچے گی
افلاک کی پھیلی وسعت میں 
کھونے کی تمنا جاگ اُٹھی
ان دیکھے پنکھ ملیں گے کب
ان دیکھے پنکھ ۔۔۔۔۔۔۔
دم ِ آخر پرواز ہیں جو
شاید ۔ ہستی کا راز ہیں وہ
کیسا انجان سفر ہو گا
جب بادل بیچ گذر ہوگا 
بارش کی سکھی سے ملنا ہے
اک اجلے پھول میں کھلنا ہے
شاید میں دور کا تارہ ہوں 
یا شاید دھول کے پھولوں کا
اِک خاموش اشارہ ہوں
کچھ جاگ رہی کچھ سوئی سی
میں کچی نیند میں کھوئی سی
وہ دن تھا بہت پرایا سا
سورج بھی شام کو آیا تھا
امید رچے اِن ہاتھوں سے
کچھ اندھیارا سرکایا تھا 
جب گھر کے مقدس کونے میں 
اک کانپتی لو کو جنما تھا
امشب ہے چراغِ ِ جاں مدھم
میں کچی نیند میں آوْں گی 
اور اپنے کانپتے ہاتھوں سے 
خود اپنی لو کو بجھاوْں گی
یہ اندھیارا سرکاوْں گی

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: