بھوک اور بھیک ۔۔۔ تنویر صادق

بھوک اور بھیک

مصنف : تنویر صادق

 (  تنویر صادق صاحب پنجاب یونیورسٹی میں ریاضی کے پروفیسر ہیں )

تبصرہ کار : راشد جاوید احمد

افسانے کی دنیا میں بہت انقلاب آتا رہا ہے پلاٹ، کردار، نقطہ نظر، اور وحدت تاثر کے بغیر کچھ دن پہلے تک افسانے کا تصور ممکن ہی نہ تھا مگر ایسا زمانہ بھی آیا کہ بغیر پلاٹ کے کہانیاں لکھی جانے لگیں ،بغیر کسی مرکزی کردارکے کہانیاں لکھی گئیں،نقطہ نظر کو تو افسانہ ہی کیا سارے ادب کے لیے مضر اور مہلک ٹھہرایا گیا۔وحدت تاثر کے بارے میں کہا گیا کہ اس کا تو وجود سرے سے ہی نہیں ہے۔جدید افسانہ پڑھنے والے کے ذہن میں مختلف بلکہ متضاد تاثرات پیدا ہوتے ہیں۔آخر علامتی اور تجریدی افسانے نے جنم لیا جس کے لیے روایتی اجزائے ترکیبی فضول اور بے معنی ہوکر رہ گئے۔لیکن کچھ عرصے کے بعد افسانہ پھر بیانیہ پر آ ٹکا۔

تنویر صادق صاحب کے افسانوی مجموعے ” بھوک اور بھیک ” مین کل سولہ افسانے ہیں۔ یہ ایک ہی کینوس پر بنائی گئی مختلف تصویریں ہیں جن میں واقعات مختلف نقوش کی مانند ابھرتے ہیں اور ان نقوش کو جوڑ کر کہانی مکمل ہوتی ہے۔ چونکہ واقعات میں ربط و تسلسل ہے اس لئے افسانے میں کہانی پن کہیں مجروح نہیں ہوا۔ 

ان افسانوں میں پیش آنے والے حالات و واقعات کی معنویت، ان افراد کے ساتھ بہت خوبصورت طریقے سے قائم نظر آتی ہے جو اپنی حرکات و سکنات، خیالات و نظریات کی مدد سے افسانہ نگار کے بیانیہ سے ابھر کر سامنے آتے ہیں

ہر فنکار کوئی خاص نقطۂ نظر رکھتا ہے اور اس نقطۂ نظر کی پیشکش کے لئے فنکار اپنی تخلیق کو جنم دیتا ہے۔مثلا پچھڑے ہوئے طبقے کی خراب و خستہ مالی حالت نے پریم چند کو رنج پہنچایا ان کی خستہ حالی سے قاری کو روشناس کرانے کے لیے انہوں نے ایک لازوال افسانہ ‘کفن’ پیش کردیا۔مولوی نذیر احمد نے محسوس کیا کہ ہندوستانیوں کو انگریزوں کی نقل نہیں کرنی چاہیے اپنا یہ نقطۂ پیش کرنے کے لئے انہوں نے ایک ناول ‘ابن الوقت’ تصنیف کیا۔
ہر انسان ہر معاملے میں اپنا نقطہ نظر رکھتاہے۔ مصنف حساس ہونے کے ساتھ ساتھ بالعموم مطالعے اور مشاہدے کی دولت سے بھی مالا مال ہوتا ہے اس لیے ممکن نہیں کہ کسی معاملے میں اس کا اپنا کوئی نقطہ نظر نہ ہو۔ان افسانوں میں بھی تیسری دنیا کے طبقاتی مسائل بڑی شدت سے نمایاں ہیں اور مصنف کو ان کا نہ صرف ادراک ہے بلکہ احساس بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ” دریا دل ” پنچھی ” اور “کنجر” جیسی کہانیاں ہمیں اپنے ارد گرد میں نظر آتی ہیں۔

افسانہ نگار کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ جس عہد و تہذیب کی بات کر رہا ہو اس عہد یا تہذیب کی خصوصیت، رہن سہن، تہذیب وتمدن، بول چال، تمام باتوں کا خیال رکھے تاکہ افسانہ پڑھنے والوں کے سامنے اس عہد یا تہذیب کا پورا نقشہ آجائے۔تنویر صادق  نے کہنانیوں میں کرداروں کو ایسی ہی زبان دی ہے جو آج بولی اور سمجھی جاتی ہے اور اس سے کرداروں میں جان دکھائی دیتی ہے۔ اس ضمن میں ” شریک ملزم ” ” فلاحی کام ” اور ” بالکونی ” اہم کہانیاں ہیں۔

ان تمام کہانیوں میں ایک مشترکہ خوبی ہے کہ یہ مختصر ہیں لیکن اسلوب ایسا ہے کہ کم سے کم لفظوں میں زیادہ بات قاری تک پہنچتی ہے۔

تنویر صاحب مشاہدہ جاری رکھیئے اور افسانہ نگاری بھی۔

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: