غزل ۔۔۔ ذوالفقار تابش

غزل

( ذوالفقار تابش )

اس کے باغ بدن کو دیکھتے ہیں

اک چمن در چمن کو دیکھتے ہیں

پھول پتے ہیں شاخساروں پر

ہم گلاب اور سمن کو دیکھتے ہیں

نقرئی لوح پر نقوش بہار

خالق کل کے فن کو دیکھتے ہیں

اک کلی جو شگفتنی ہے ہنوز

ایک غنچہ دہن کو دیکھتے ہیں

اور کچھ دیکھنے کی چاہ نہیں

آپ کے بانکپن کو دیکھتے ہیں

عالم وجد میں ہیں حرف و بیاں

ان کے طرز سخن کو دیکھتے ہیں

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: