کی بورڈ ۔۔۔ عثمان ضیاء

کی بورڈ

 

(عثمان ضیا ء)

خواب ٹائپ کیا

اور اسے سیو کرتے ہوئے میں نے  سوچا

کہ کی بورڈ لفظوں کی سل ہے

میں جو چاہتا ہوں

بناتا مٹاتا رہوں گا 

ادھر سے اُدھر بھاگتے لفظ جوڑا کروں گا

کبھی شعر لکھا کروں گا، کبھی نظم بویا کروں گا

سماجی روابط کی سائٹ پہ بے رابطہ لوگ ڈھونڈا کروں گا

حسابوں  کتابوں کی چھت پر

کوئی نرم بستر بچھاؤں گا، سونے کی کوشش کروں گا

میں دفتر کی کھڑکی میں سوئی ہوئی چھپکلی

اپنی محبوب لڑکی کو میسیج کروں گا

کسی خواب کی بیلکنی میں رکھی  شام منسوخ کرنے سے پہلے

ضروری مناظر کو کاپی کروں گا

کبھی خالی اذھان کی جانچ پڑتال

 کرنے سے پہلے

بناؤں گا میں اک نیا فولڈر

اور اسے دیر تک خالی رہنے گی گہری اذیت میں رکھا کروں گا
کسی شام سے کاپی کردہ ضروری مناظر

 کسی بھی جگہ پیسٹ کرکے
سوئچ آف کر دوں گا

میں اپنی آنکھیں 

Advertisment

Be the first to comment

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.