مقدس درخت ۔۔۔ محمد زفزاف

مقدس درخت

محمد زفزاف) مراکش)

کچھ نیم خواندہ نوجوان مسکرا رہے تھے۔ ان کی ہنسی سے طنز و استہزا صاف جھلک رہا تھا۔ ان کی بلا سے اگر ایک درخت کو اس ویرانے سے کاٹ دیا جائے۔ چاہے یہ درخت باغ کا سب سے تناور درخت ہی کیوں نہ ہو جس کی شاخیں رسیلے اور عمدہ پھل سے زیربار ہیں، جو پک کر گرے یا گل سڑ کر…. یا پھر شاخوں پر ہی لٹکتا رہے….؟ انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔
وہ ادھر ادھر پھیلے اپنی گردنیں اونچی کرکے وہاں جمع ہوئے لوگوں کے ہجوم کو دیکھ رہے تھے۔ ان کی توجہ درخت کی طرف بالکل بھی نہیں تھی۔ درخت والی جگہ پر اب کام ہو رہا تھا۔ وہاں سوائے ایک درخت کے کچھ نہ تھا۔ درخت کے پیچھے سیمنٹ کے مضبوط ستون تھے جنہیں بڑی احتیاط سے ایستادہ کیا جارہا تھا۔ لمبے ستونوں کے پیچھے سیاہ رنگ عمارتیں تھیں جن کے کمروں کی کھڑکیاں ابھی نہیں بنی تھیں۔ بےکھڑکیوں کی یہ عمارتیں یوں دکھائی دے رہی تھیں جیسے قدیم عہد کے کسی دیو مالائی جانور کا جبڑا کھلا ہو۔ اس علاقے کو سکیورٹی نے چاروں طرف سے گھیر رکھا تھا۔ سکیورٹی والے ہر کسی کو مٹیالی ریت کے ٹیلے پر درخت والی جگہ کے قریب آنے سے روک.رہے.تھے۔
درخت کے گرد  دائرے کے پیچھے اضافی سکیورٹی کا  مضبوط حصار تھا جو لوگوں کے ساتھ بڑی سختی برت رہا تھا۔ گاہے گاہے سکیورٹی والے اپنی چھڑیاں لوگوں کے کندھوں اور ایڑیوں پر برسا رہے تھے۔ حزن و یاس کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ شاید کوئی بچہ قدموں کے نیچے آگیا تھا۔ وہ ننگے پاؤں، چیتھڑوں میں ملبوس بڑی بےقراری سے اپنی ماں کے ساتھ چمٹا ہوا تھا۔ پیچھے کچھ نیم خواندہ نوجوان اپنے کندھے اچک اچک کر دیکھ رہے تھے۔ ان میں سے ایک نے پاس کھڑے آدمی سے کہا:
‘‘ریاست یہ ایک اچھا کام کر رہی ہے۔’’
‘‘ریاست کیا کر رہی ہے، تمہارا اس سے کیا لینا دینا….؟ درخت کٹنے سے تمہیں کیا فرق پڑتا ہے….؟ کل وہ یہاں ایک جدید عمارت کھڑی کردیں گے۔ اس بات کا بھی تم سے کوئی لینا دنیا نہیں! اس عمارت کا کرایہ تو بہرحال تمہاری جیب میں جانے.سے رہا!’’
‘‘بالکل ٹھیک، لیکن یہ آسیبی بلا تو یہاں سے ہٹے گی۔ لوگ تو اس درخت کو پوجنا ہی شروع ہوگئے.ہیں۔’’
‘‘اس کے کٹنے پر وہ پہلے سے بھی زیادہ اس کی پوجا کریں گے!’’
‘‘بالکل بھی نہیں، معاملہ اس کے برعکس ہوگا۔ وہ اس درخت کے متعلق سب باتیں بھول جائیں.گے۔’’
درخت والی جگہ پر ہجوم بڑھتا ہی جاتا تھا۔ دھکم.پیل جاری تھی۔ کچھ بندوقیں اور قدرے بھاری ڈنڈے فضا میں بلند ہوئے اور پھر وہاں جمع ہوئے لوگوں کے جسموں اور بازوؤں پر برسنے لگے۔ ایک عورت نے قدرے لمبی ناک والے اپنے بچے کو پیچھے کھینچا اور ساتھ کھڑی عورت سے مخاطب ہوئی جو اُسے بالکل دھیان نہیں دے رہی تھی:
‘‘اس درخت نے ان کا کیا بگاڑا تھا۔ حکومت پر سیدی داؤد کی پھٹکار پڑے گی۔ میرا یقین کرو کہ یہ تمام آج رات سونے سے پہلے ہی کسی برے انجام سے دو چار ہوجائیں گے۔’’
‘‘حکومت کو کیا پرواہ۔’’
ایک دوسری عورت نے بغیر مڑے تبصرہ کیا:
‘‘یہ تو غریب اہل کار ہیں جو درخت کاٹ رہے ہیں۔ عذاب کی گرفت میں تو بےچارے وہ آئیں گے۔ رہے اعلیٰ سرکاری عہدے دار، وہ تو ہمیشہ لوگوں سے ان کی قبریں کھداتے ہیں جبکہ خود دکھ اور تکلیف سے کوسوں دور رہتے ہیں۔’’
اس عورت نے محسوس کیا کہ یوں گفتگو کرنا خطرناک ہوسکتا ہے۔ وہ مارے خوف کے کانپنے لگی اور ادھر ادھر بےچینی سے دیکھنے لگی۔ اسے لگا کہ کوئی اعلیٰ حکومتی عہدے دار پیچھے کھڑا اس  کی جاسوسی کر رہا ہے جو ہانک کر اسے تھانے لے جائے گا جہاں کوڑوں سے اس کی تواضع کی جائے گی۔ پھر اسے یوں الٹا لٹکا دیا جائے گا جیسے قصاب کی دکان پر ہک میں لٹکی.بھیڑ۔
دفعتاً اسے اپنے تین بچے یاد آگئے جن کی پرورش کی ذمہ داری اس کے میاں کی رحلت کے بعد اس کے ناتواں کندھوں پر تھی۔
وہ اپنے برابر کھڑی خاتون سے باتیں کرنے لگی:
‘‘حکومت کو پتہ ہے وہ کیا کر رہی ہے۔’’
‘‘اگر کوئی ٹھوس وجہ نہ ہوتی تو اسے نہ کاٹتی۔’’
دوسری خاتون بولی ‘‘تمہیں سیدی داؤد کی پھٹکار کا کوئی خوف نہیں۔ اپنا منہ بند رکھو ورنہ آج رات تمہیں سوتے میں آلیں گے۔’’
‘‘میں نے سیدی داؤد کا کیا بگاڑا ہے۔ میں تو ایک غریب بیوہ ہوں جسے دو وقت کی روٹی کے لالے پڑے ہیں اور جو سر توڑ محنت کرکے اپنے بچوں کو پال.رہی ہے۔’’
خاتون ہجوم میں سے نگل گئی۔ اسے کسی مصیبت میں گرفتار نہیں ہونا تھا…. پولیس کی اور نہ ہی سیدی داؤد کی۔ اسے تو یہ تک معلوم نہ تھا کہ درحقیقت سیدی داؤد ہیں کون….؟ اس نے ان کی کبھی زیارت کی تھی اور نہ ہی درخت والی جگہ پر ان کا مزار دیکھا تھا۔ البتہ لوگوں کا یہ کہنا تھا کہ جہاں سیدی داؤد کی روح نے پرواز کی تھی وہاں انہوں نے یہ درخت لگایا تھا۔  یہ بھی کہاجاتا ہے کہ یہ درخت کسی نے نہیں لگایا تھا بلکہ ایک روز اس جگہ یہ خود اُگ آیا تھا۔ یہ پہلے دن ہی اتنا بڑا تھا گویا کئی برسوں سے یہاں کھڑا ہو۔ وہ دو سال پہلے صرف ایک مرتبہ اپنے میاں کی پھانسی کی سزا رکوانے کے لیے یہاں مدد کو آئی تھی۔ تاہم درخت کی زیارت کے باوجود  سیدی داؤد نے اس کے میاں کی جان بخشی نہ کرائی.تھی۔
سورج ہجوم پر آگ برسا رہا تھا۔ گرد اور اڑتے ملبے کی وجہ سے لوگ ناقابل پہچان تھے۔ فقط ان کے ناکوں پر پسینے کے قطرے چمک رہے تھے۔ میدان میں بلڈوزر کا ناتھمنے والا شور تھا۔ کچھ اہل کار درخت کے تنے کے ساتھ بندے رسے سے کھیل کر وقت گزاری کر رہے تھے۔ ان کی بندوقوں کا رخ ابھی تک ہجوم کی طرف تھا۔ سرکاری حکم پورے طور پر ضرور بہ ضرور نافذ العمل ہونا چاہیے۔ پھر درخت کے تنے اور شاخوں کے ٹوٹنے کی آواز آئی اور درخت زمین پر گر گیا۔ اہل کاروں نے رسے کو ڈھیلا چھوڑ اور بھاگ کھڑے ہوئے۔ ان کے پیچھے پولیس والے بھی تیزی سے پیچھے کوہٹے۔ ان میں سے کسی کی آنکھ میں شاخ نہ گھسی۔سکیورٹی حصار ڈھیلا پڑا اور ایک مرتبہ بندوق کی نالیاں اور لاٹھیاں بلند ہوئیں۔ خالی بازو فضا میں لہرا رہے تھے۔ احتجاج کی صدائیں بلند ہوئیں اور پھر دب گئیں۔ ایک راہ گیر نے کہا کل یا پرسوں سیدی داؤد کی آرام گاہ پر ایک بلڈنگ کی بنیاد رکھ دی جائے گی۔
‘‘مجھے خدشہ ہے یہ لوگ اس عمارت کا نام سیدی.داؤد بلڈنگ رکھ دیں گے اور اس کی دیواروں کے ساتھ موم بتیاں اور تعویذ لٹکا دیں گے۔’’
ہر چیز ممکن ہے۔
میدان میں دھکم پیل بڑھ گئی تھی۔ لوگوں نے اپنی چھوٹی چھوٹی دکانیں اور کھوکھے چھوڑے اور ہجوم کی طرف متجسسانہ دوڑے جبکہ بعض نے اس منظر کو دور سے دیکھنا ہی مناسب جانا۔
دو کاریں یکا یک ہجوم کے قریب آکر رکیں۔ ایک کار میں سے پولیس چیف اترا۔ اس کے ہمراہ پولیس کی بھاری نفری تھی جس نے ہجوم میں سے اپنے چیف کے لیے رستہ بنانا شروع کیا۔ لوگ اسے دیکھ کر بڑے حیران ہوئے۔ بعض لوگ منہ ہی منہ میں اسے بھرا بھلا کہنے لگے جبکہ پولیس چاروں طرف سے ان پر لاٹھیاں برسا رہی تھی۔ گرد و غبار کے بادل نے پولیس کی ٹولی کو گھیر لیا۔ سوائے پولیس چیف کے کسی کو معلوم نہ تھا کہ حلیم و بردبار دکھنا کتنا اہم ہے۔ تھوڑی سی حرکت بھی ایک بہت بڑے فتنے کو جنم دے سکتی تھی…. خاص کر ایسے حساس موقع پر۔ گرد اڑتی رہی، پھر چیخیں بلند ہوئیں۔ اب لاٹھیوں اور بندوقوں کی نالیاں برس رہی تھیں۔ ایسا رد عمل ایسے مواقع پرضروری ہوتا ہے۔ دنیا کے عظیم ترین حکمران کو صرف ایک کام کرنا ہوتا ہے…. اپنے اعصاب پر قابو رکھنا۔
حکومت کا سب سے بڑا سربراہ ہو، وزیر یا پولیس چیف ہو، ان سب کو ایک بات یقینی بنانا ہوتی ہے کہ اپنے آپ کو کنٹرول میں رکھنا ہوتا ہے۔
تاہم ماتحت ایسا نہیں کرتے۔ انہیں لگتا ہے کہ جو احکامات انہیں اوپر سے ملے ہیں، وہ انہیں نافذ کر رہے ہیں۔ ریاست کا سربراہ جب ٹی وی کیمروں کے سامنے ہو اپنے منہ پر تھپڑ کھا کر چہرے پر مسکراہٹ سجائے رکھنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ لوگ اس کی تعریف کرتے ہیں کہ اس نے رد عمل میں کچھ نہیں کیا۔ جبکہ عام لوگ تو چھوٹی سے چھوٹی بات پر بھی بھڑک اٹھتے ہیں۔ تاہم جب کیمرے کی لائٹس اس پر نہ پڑ رہی ہوں، وہی حکمران بڑی آسانی سے دسیوں شہر برباد کرنے کے احکامات صادر کرسکتا ہے۔ بعد میں وہ بڑی بڑی تقریریں جھاڑے گا اور اپنے اوپر معصومیت کا لبادہ اوڑھے گا۔
بازو بلند ہوئے اور…. آوازیں بھی۔ 
بندوقوں کا شور آسمان پھاڑ رہا تھا۔ لاٹھیاں سروں پر منڈلا رہی تھیں۔ وہاں فقط چیخیں، خود آلود چہرے اور زمین پر گرتی لاشیں تھیں۔ پولیس چیف نے تھوڑی سی بھی حرکت نہ کی۔ یوں لگ رہا تھا جیسے وہ اپنے آپ کو وزارت کے لیے تیار کر رہا ہے…. کیمرے کے سامنے (بالکل سیدھا کھڑا، انتقام کا وقت قریب اور دسیوں شہر تباہ کرنے کے لیے تیار)۔  ہجوم کی کثرت کی وجہ سے کچھ بندوقوں کی نالیاں نا چاہتے ہوئے ان لوگوں کی طرف اٹھ گئیں جو اس درخت کو مقدس گردانتے تھے۔ لیکن وہ گھبرایا نہیں۔ گرد سے اٹے چہرے پر اس نے مسکراہٹ سجائے رکھی۔ 
وہ ہجوم کے گھیرے میں تھا۔ تاہم ماتحتوں میں سے ایک اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکا۔خدا جانے کہاں سے ایک بڑا پتھر پولیس چیف کے سر پر آ لگا جس سے اس کا سر زخمی  ہوگیا۔ وہ زمین پر گر گیا۔ 
مسکراہٹ ابھی تک اس کے لبوں پر سجی تھی۔ وہ خون اور مٹی میں لت پت پڑا تھا۔ پولیس نے گولی چلا دی۔ 
ہوا میں پتھر برس رہے تھے۔ گرد و غبار کی گہری دھند چھائی ہوئی تھی۔ گولیاں اندھا دھند چل رہی تھیں۔ کسی کو کچھ معلوم نہ تھا کہ گولی کس سمت سے آرہی ہے۔ لاشیں گر رہی تھیں۔ کچھ لوگ بھاگ رہے تھے۔ ہر طرف افراتفری کا عالم تھا۔ لوگ ایک دوسرے کوپچھاڑ کر بھاگ رہے تھے۔ گرد کا بادل بلند ہوا۔ اب بھرپور لڑائی جاری تھی اور ہر طرف بدامنی کا دور دورہ تھا۔
غصے، خوف، نفرت، بہادری اور بزدلی کے جذبات درخت پر چھا چکے تھے۔ درخت کٹ کر اب زمین پر پڑا تھا۔ ہر طرف سے گولیاں چل رہی تھیں اور سامنے آنے والوں کو زمین پر گرا رہی تھیں۔ ہر چیز گہنا گئی…. 
افسوس، آہ و بکا اور مرنے والوں کی چیخیں۔ باوجود مٹی اور خون میں لت پت ہونے کے پولیس چیف کے چہرے پر ابھی تک مسکراہٹ سجی تھی۔ 
گویا دسیوں کیمرے اس کے ارد گرد ہوں جو اس کی ایک جھلک کو اپنی گرفت میں لینے کے لیے بےتاب ہیں۔
لوگ اب منتشر ہونا شروع ہوچکے تھے۔ تنگ گلیاں خالی ہوگئیں۔ ٹیڑھی دیواروں میں نصب کھڑکیاں بند ہوگئیں۔ آنکھیں دیواروں، کھڑکیوں اور دروازوں سے جھانک رہی تھیں، تاہم یہ آنکھیں سوائے پولیس کے کسی کو دیکھ نہ پا رہی تھیں۔ پولیس میدان کے ارد گرد پھیلی ہوئی تھی اور ٹیڑھی میڑھی گلیوں میں بھاگنے والوں کا پیچھا کر رہی تھی۔ یہ گلیاں گرد و غبار اور سیورج سے اٹی ہوئی تھیں۔
کچھ دکان دار، سبزی والے، مسالا فروش اور بعض دوسرے چھوٹے دکان دار پناہ لینے کے لیے جہاں کہیں بن پڑا، اپنے سامان کو چھوڑ کر  بھاگ نکلے۔ مہندی، جڑی بوٹیاں، مقامی تیار کردہ صابن اور آسیبی.اثرات دور کرنے والی اشیاء بیچنے والی چند بوڑھی عورتیں بھی اپنے سامان کو چھوڑ کر بھاگ اٹھیں۔
پولیس اپنے چیف کے قریب آئی۔ چیف نے انہیں ایک کار میں لے جانے کا اشارہ کیا۔ ایک سپاہی اپنے چیف کے غیر معمولی حوصلے پر بڑا حیران تھا، جو اپنے چہرے پر مسکراہٹ سجائے یوں لیٹا  تھا جیسے اسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔

 

Advertisment

Be the first to comment

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.