غزل ۔۔۔ ظہیر کاشمیری

Zaheer Kashmiri  was a renowned and legendary marxist and poet of Pakistan. He was a founder member of Taraki Passand Tehrik.

غزل

( ظہیر کاشمیری )

بے سبب بیٹھے رہے دیدہ بیدار کے ساتھ

ظلمتیں کم نہ ہویئں صبح کے آثار کے ساتھ

ہم ہوا خواہ ِ چمن آج بھی یہ سوچتے ہیں

گل نے کیوں پیار کی شاخ کی تلوار کے ساتھ

ابھی کچھ اور کڑی دھوپ میں چلنا ہو گا

ربط اتنا نہ بڑھا سایہ دیوار کے ساتھ

ورنہ ہم کیا تھے جو اعزاز اسیری ملتا

متصل حلقہ زنداں تھا در ِ یار کے ساتھ

ہم وہی کشتہ بیداد خزاں ہیں جو کبھی

رقص فرماتے رہے، نکہت گلزار کے ساتھ

کھل گئے پھر لب ِ منصور انا الحق کے لئے

پھر چلے آتے ہیں وحشی رسن و دار کے ساتھ

ہم کہ ہیں مسلک منصور کے پابند ظہیر

خاص نسبت ہے ہمیں جرات اظہار کے ساتھ

Advertisment

1 Comment

  1. کھل گئے پھر لب ِ منصور انا الحق کے لئ

    پھر چلے آتے ہیں وحشی رسن و دار کے ساتھ

    ہم کہ ہیں مسلک منصور کے پابند ظہیر

    خاص نسبت ہے ہمیں جرات اظہار کے ساتھ
    Bohat achy..

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.