کمزوروں کی خود کلامی ۔۔۔ زاھد مسعود

کمزوروں کی خودکلامی

زاھد مسعود

سمندر کے قطروں کی گنتی
ہندسوں
یا انگلیوں کی پوروں پہ نہیں کی جا سکتی
آگ کے گرد
بیٹھنے والوں کی آنکھوں میں
تعبیر کی چمک مدہم پڑ جائے
تو
اڑتے ہوئے شرارے اسے روشن رکھتے ہیں
خوف اور طاقت کے تصادم کا نتیجہ
غم یا خوشی میں پنہاں ہوتا ہے
موسیقی، رقص اور نعرے
طاقت پیدا کرنے کے ٹول ہیں
اور
کنٹینروں میں گلی سڑی سبزیوں کی بدبو
سینوں میں خوف بن کر اترتی ہے
کل کیا ہوگا؟
وہی
جو آج نہیں ہو پایا
جو آج نہیں ہو پایا
وہ
 پرسوں کیسے ہوگا؟؟

 

Be the first to comment

Share your Thoughts: