غزل ۔۔۔ ذوالفقار احمد تابش

Zulfiqar Ahmad Tabish is a very senior and famous writer we have today. He is a poet, a prose writer and a painter. A blend of tasawuf is visible in his Gazal and Nazm.  His paintings are a mode of his creative expression with unique colours, tones, curves and lines.

 

غزل

( ذوالفقار تابش )

غزل میں کہہ رہا تھا اور خیال یار میرے سامنے تھا

ادھر میں تھا ادھر وہ آیئنہ رخسار میرے سامنے تھا

نہ اس کا قول تھا کوئی نہ کچھ اقرار میرے سامنے تھا

بس اک میں اور اس کا کاکل خم دار میرے سامنے تھا

عجب اک ڈور میں دونوں بندھے اک دوسرے کو دیکھتے تھے

میں صحرا میں ادھر تھا اور وہ صحرا پار میرے سامنے تھا

وہ ان دیکھا تھا لیکن میں تو اس کی دھڑکنوں کو جانچتا تھا

وہ ہر جا تھا کہ اس کا چہرہ انوار میرے سامنے تھا

حصار دید تھا اور میں وہاں پر دم بخود بیٹھا ہوا تھا

وہ میرے جان و دل کا مالک و مختار میرے سامنے تھا

میں اس الجھن میں تھا اس راستے پر پاوں رکھوں یا نہ رکھوں

کنار دشت تھا میں اور سر ہر خار میرے سامنے تھ

Advertisment

3 Comments

Share your Thoughts: