غزل ۔۔ ذوالفقار احمد تابش

Zulfiqar Ahmad Tabish is a very senior and famous writer we have today. He is a poet, a prose writer and a painter. A blend of tasawuf is visible in his Gazal and Nazm.  His paintings are a mode of his creative expression with unique colours, tones, curves and lines.

غزل

( ذوالفقار احمد تابش )

سائے کچھ ٹھہرے ہوئے تھے اور گھر خالی پڑے تھے

وسعت افسوس میں سارے نگر خالی پڑے تھے

ایک ہی بس ذرہ ء خوں تھا جو دھڑکے جا رہا تھا

ورنہ جسم و جان اور قلب و نظر خالی پڑے تھے

جتنی شمعیں تھیں فروزاں، طاقچوں میں بجھ چکی تھیں

دیدہ و دل منتظر تھے، بام و در خالی پڑے تھے

اک ہوائے ہول تی گلیوں میں باقی کچھ نہیں تھا

سب پرندے اڑ چکے تھے اور شجر خالی پڑے تھے

ایک جیسے منظروں میں خواب جیسے تھم گئے تھے

رایئگانی کے سفر میں رہگزر خالی پڑے تھے

آتے جاتے سانس کی ڈوری سے جسم و جاں بندھے تھے

ورنہ اک مدت ہوئی شام و سحر خالی پڑے تھے

راستے آگے کی جانب تھے جو پیچھے جا رہے تھے

قافلے گم ہو گئے، کوہ و کمر خالی پڑے تھے

آیئنوں کی کرچیاں بکھری پڑی تھیں راستوں میں

آیئنے بے عکس، بازار ہنر خالی پڑے تھے

جتنی تعبیریں تھیں خوابوں کی گریزاں ہو چکی تھیں

خواب سب کھوئے گئے، آنکھوں کے گھر خالی پڑے تھے

اب فلک سے کوئی آیات خبر آتی نہیں تھیں

اہل دل، اہل نظر، اہل خبر خالی پڑے تھے

خشک بوندوں کی عجب اک قہر کی بارش ہوئی تھی

دور تک جتنے بھی تھے سب خشک و تر خالی پڑے تھے

مے کدوں میں وحشتیں تھیں اور سب مینا و ساغر

کچھ ادھر خالی پڑے تھے کچھ ادھر خالی پڑے تھے

Advertisment

Be the first to comment

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.