نظم ۔۔۔ ذوالفقار تابش

Zulfiqar Ahmad Tabish is a very senior and famous writer we have today. He is a poet, a prose writer and a painter. A blend of tasawuf is visible in his Gazal and Nazm.  His paintings are a mode of his creative expression with unique colours, tones, curves and lines.

نظم

( ذوالفقار احمد تابش )

شمالی ہواؤں کے ہمراہ اڑنے سے پہلے

یہ جاتے پرندے نے مجھ سے کہا تھا

کہ میں اب کے لوٹا

تو اس بوڑھے برگد سے پوچھوں گا

جس کی ہری شاخ پر پنکھ کھولے تھے میں نے

یہ کیا آب و دانے کی خواہش ہی کالے پہاڑوں، ہری کھیتیوں میں ہمیں

یوں لئے پھر رہی ہے ازل سے

تو وہ کون ہے جو بدن میں دھڑکتی رگیں

کالے کوسوں سے بھی کھینچ لیتا ہے۔۔ اب لوٹ آ !

وہ خوشبو کی لے

اک عجب راز رکھتی ہےجی میں ہمارے

جسے پر فشاں ہم لئے پھر رہے ہیں

ہیں اسی کے بھروسے، خنک بستیوں، گرم قریوں

دم صبح ہنگامۃنے نوازی، وہ جنگل گھنے

سبز جھیلوں، ہری پتیوں، خشک شاخوں

کی لمبی مسافت پروں کے تلے

بانٹتے پھر رہے ہیں

زمیں سے فلک تک بھلا ہم کسے

ڈھونڈتے پھر رہے ہیں

Advertisment

Be the first to comment

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.