ایک اور آخری دن(شہناز پروین سحر)۔۔۔اظہار رائے۔۔۔۔ذوالفقار احمد تابش

ایک اور آخری دن

(شہناز پروین سحر کا پہلا مجموعہ کلام)

اظہار رائے :: ذوالفقار احمد تابش

شہناز پروین سحر کی شاعری کی پہلی کتاب میرے ہاتھ میں ہے۔ خوبصورت سرورق، عمدہ لکھائی چھپائی، دیدہ زیب گیٹ اپ۔اس مجموعے میں غزلیں ہیں اور نظمیں بھی۔ شاعری زیادہ تر اردو میں ہے مگر پنجابی میں شہناز نے جتنا لکھا ہے وہ بھی اس مجموعے میں شامل ہے۔

میرا ہمیشہ یہ خیال رہا ہے کہ شہناز بنیادی طور پر پنجابی زبان کی شاعرہ ہے لیکن اس مجموعے کو دیکھ کر پتا چلا کی تعداد میں اس کی اردو تخلیقات زیادہ ہیں۔ تاہم شہناز کو دونوں زبانوں پر یکساں عبور حاصل ہے۔ اردو کے مقابلے میں مجھے اسکا اردو محاورہ زیادہ اچھا لگا۔

اس مجموعے کو دیکھنے سے پہلے میرا یہ خیال تھا کہ شہناز نے بہت کچھ لکھ رکھا ہوگا لیکن مجموعہ دیکھ کر اندازہ ہوا کہ اس نے بہت ہی جز رسی کے ساتھ بلکہ کنجوسی کے ساتھ لکھا ہے۔ سچ یہ ہے کہ اس تھوڑی سی شاعری کو دیکھ کر مجھے قدرے مایوسی ہوئی۔ میں اس سے اب تک کم از کم چار پانچ مجموعوں کی توقع رکھتا تھا۔مجھ سے اندازے کی یہ غلطی اس لئے بھی ہوئی کہ شہناز کی بہت کم شاعری مجھے پڑھنے کو ملی۔ اب معلوم ہوا کہ اس خاتون نے لکھا ہی تھوڑا ہے تو میں پڑھتا کہاں سے۔

سن ساٹھ کے اواخر میں کچھ خاتون شاعرات کی شاعری ادبی پرچوں میں پڑھنے کو ملتی تھی لیکن ستر کی دہائی کے آغاز میں لاہور کا ادبی افق متعدد نئی خاتون شاعروں کی آوازوں سے گونجنے لگا۔ یہ شاعر خواتین اپنی اپنی طرز، اپنے اپنے رنگ اور اسلوب کے ساتھ یوں آگے پیچھے سامنے آیئں کہ لاہور کا ماحول ان کی گونا گوں آوازوں سے بھر گیا۔ یہاں کے ادبی ماحول پر حاوی مرد شاعر، ادیب اور نقاد اس منظر کو دیکھ کر حیرت زدہ ہو گئے۔ ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا تھا کہ ایک ہی ہلے میں اتنی ڈھیر ساری شاعرات سامنے آئی ہوں۔بہت سارے مرد شاعروں کے انبوہ میں ایک دو نسوانی آوازیں سنائی دیتی تھیں اور بس۔ آپ ذرا اندازہ لگایئں کہ پاکستان بننے کے بعد سے اب تک کتنی قابل ذکر خاتون شاعروں نے ناموری حاصل کی ہے ؟ اب جو پانچ سات تازہ دم خوبصورت، تعلیم یافتہ نوجوان شاعرات نے لاہور کی ادبی محفلوں میں ظہور کیا تو لاہور کا موسم ہی بدل گیا۔ نیلے پیلے لال گلابی آنچلوںوالی شاعروں نے ہر طرف دھنک بکھیر دی۔ ان نئی شاعروں نے اپنے نئے اور تازہ لہجے ، لحن، طرذ سخن اور طرز احساس سے ہر طرف تازگی بکھیر دی۔ لہجے کے انوکھے پن نے مرد شاعروں کو بھی دنگ کر دیا۔ نسرین انجم بھٹی، عائشہ اسلم، شائستہ حبیب، شہناز پروین سحر، سعیدہ ہاشمی اور سعیدہ گزدرکے نام اب تاریخ ادب کا حصہ بن چکے ہیں۔ یہ سب لڑکیاں پڑھی لکھی اور روشن خیال تھیں۔ یبوست سے وہ آزردہ خاطر تھیں۔ خیال اور وقت کی قدامت انہیں راس نہ آتی تھی۔خواتین مہذب اور خوش خیال تھیں اور شعرو ادب کے سیاق و سباق سے خوب واقف تھیں۔ یہ ادبی محفلوں میں اعتماد کے ساتھ شریک ہوتیں اور اپنی تخلیقات حاضرین کے سامنے تنقید کے لئے پیش کرتیں اور ان پر ہونے والی تنقید کے مثبت منفی جملوں کو تحمل سے سنتی اور برداشت کرتی تھیں۔ پنجاب کی کوکھ سے پیدا ہونے والی ان خاتون شاعروں نے سینئر مرد شاعروں کے لب و لہجے اور رنگ و اسلوب کی تقلید کرنے کی بجائے  اپنی اپچ، اپنے طرز احساس، اپنے مزاج، اپنے لہجےاور اپنے دکھ سکھ کے تجربوں سے اپنا رنگ سخن بنانے کو ترجیح دی۔ یہ وہ دور ہے جب پاکستان کے ادبی افق پر دس بارہ ایسے شاعروں کے نام روشن تھے جو بلا شبہ آج بھی اچھی اور عمدہ شاعری کا اعتبار ہیں۔ ہماری ان خاتون شاعروں میں ایک بھی ایسی نھیں جس پر کسی مرد شاعر کی تقلید کا الزام آتا ہو۔ یہ اس عہد کی شاعرات کے فن کا بہت قابل قدر پہلو ہے۔

خواتین کے اس گروہ میں ایک آواز شہناز پروین سحر کی تھی۔ یہ نحیف سی آواز والی، سکڑی سمٹی، شرمیلی، لال گلابی رنگ والی، ڈراکل اور قدرے گھبرائی ہوئی شاعرہ نے ، سن ستر کے آغاز میں ادبی محفلوں میں آنا شروع کیا جلد ہی اس نے پاکستان ٹیلیویژن لاہور میں ایک اچھی ملازمت حاصل کر لی۔ عصمت طاہرہ اور شہناز کو میں نے بار ہا لاہور کی ادبی سنگتوں میں آتے جاتے دیکھا۔کچھ اور خواتین قلمکار بھی شہناز کے ہمراہ تھیں لیکن مجھے ان کے نام اب یاد نہیں ۔ فن کے الگ الگ شعبہ جات کے باوجود دونوں کی دوستی پکی تھی اور آج بھی ہے۔ اس لگاو  کے باوجود شہناز نے عصمت کی طرح نہ تو کبھی جینز پہنی اور نہ مال روڈ پر موٹر سائکل چلا کر راہگیروں کو دم بخود کیا۔ شہناز کو میں نے عصمت کے مقابلے میں ہمیشہ کم سخن پایا۔ اسکی جھجک اسکا زیور بن گئی۔

اب کچھ بات شہناز کی شاعری پر ہو جائے۔ شہناز کی شاعری کا خمیر اس کی شخصیت کی طرح محبت، مامتا اور رشتوں کے تقدس سے اٹھا ہے۔ شہناز کی متعدد نظموں اور دیگر شعری تخلیقات میں محبت کے یہ رنگ اور خوشبویئن اتنی شدت اور کثرت کے ساتھ ملتے ہیں کہ ان کو اس کی زندگی، اس کی شخصیت اور اس کی ادبی کاوشوں کا مرکز و محور قرار دیا جا سکتا ہے۔ شہناز جو کچھ بھی ہے اس محبت کی وجہ سے ہے۔ محبت اسکی شاعری کا جوہر ہے۔ شہناز کی شخصیت اس کی تخلیقی ساخت اور اس کے جذبوں کی تعمیر میں سب سے زیادہ اسکے گھر کا ماحول اور اس گھر میں اسکو عطا ہونے والے رشتوں کی دھوپ چھاوں ، بے پایاں محبت و شفقت اور مادر مہربان کی دعاوں کے اثرات شامل ہیں۔ ایک انسان کی دوسرے انسان سے محبت کی معراج کا مظہر ماں کی محبت ہے۔ شہناز کی وہ نظمین جو اس نے ماں کی یاد میں لکھی ہین یا ماں کی محبت کو جہاں خراج تحسین پیش کیا ہے ، ان کو پڑھنے سے پتہ چلتا ہے کہ ماں کی محبت کے سوتے اس کی روح کی عمیق ترین گہرایئوں تک ہیں۔ ماں کے علاوہ اس نے جہاں جہاں بھی دوسرے انسانوں کو کسی رشتے کے حوالے سے مخاطب کیا ہے وہاں مامتا کے جذبے کا ہی ایک اور روپ ہی ملتا ہے۔ شہنازنے اپنی  شاعری میں کئی حوالوں سے اپنے ارد گرد کے انسانوں کو دیکھا، انہیں مخاطب کیا اور ان کے لئے دعا گو ہوئی ہے۔ میری رائے تو یہ ہے کہ انسان سب سے اول محبت کرنا اپنی ماں کی آغوش سے سیکتھا ہے۔ زندگی میں انسان جب اپنے دل کی دھڑکنوں میں کسی کے لئے لگاو، نرمی اور الفت محسوس کرتا ہے تو وہ اصل میں مامتا کے سوتوں سے ہی وہ آب حیات کشید کرتا ہے۔ محبت کا ہر روپ اصل میں مامتا ہی کا ایک اور روپ ہوتا ہے۔

شہناز کی شاعری کو میں نے ایک تجسس کے ساتھ پڑھا۔ یہ شاعری بے اختیار محبت، بے لوث چاہت، اسکے گھر والوں، ارد گرد کے لوگوں کے ایک مقدس لگاو کے رنگوں میں رنگی ہے۔ اسکی شاعری اسکے خوابوں، اس کی حیرانیوں اور دیوانگی کے تانے بانے بنتی ہوئی ہے۔

شہناز کی شاعری میں فلسفے، نعرے، جدیدیت، ما بعد الطبیعاتی مو شگافیاں، عذاب و ثواب کے وعدوں اور ڈراوں کا کوئی گزر نہیں۔ اس کے ہاں نعروں کا شور شرابا بھی نہیں ہے۔ وہ سادہ لوح، خوش مزاج، ایک اچھی حس مزاح رکھنے والی بے ضرر قسم کی خاتون ہے۔ اس کی شاعری اپنے آپ میں مگن اپنے پیاروں کی چھتر چھاوں کے تلے زندہ اور شاد خاتون کی سوچوں، خیالوں، سپنوں اور یادوں کی آمیزش سے تیار ہوئی ہے۔ جیسے ہمارے گھروں کی دوشیزایئں اپنے جہیز کے لئے چادروں، دسترخوانوں، تکیوں اور دیگر پارچات پر خوش کن اور اداس کرنے والے خواب دیکھتی ہیں ، ایسے خواب اسکی شاعری میں جا بجا ملتے ہیں بلکہ گزرتے دنوں اور آنے والے لمحوں کے بھی۔

میں اگرچہ شہناز کے نام سے سن ستر سے واقف ہوں لیکن میں اس سے شناسا نہیں ہوں نہ ہی وہ مجھے جانتی ہے۔ ادبی محفلوں اور مجلسوں میں کئی بار ہم ایک دوسرے کے قریب سے گزرے ہوں گے، ایک سرسری نظر سے ایکدوسرے کو دیکھا بھی ہو گا، ” اچھا یہ ہے ذوالفقار تابش۔۔۔۔اچھا شہناز پروین سحر۔۔۔” اور بس۔۔۔۔حالیہ چند برسوں میں فیس بک کی معرفت اس کے ساتھ کچھ بات چیت ضرور ہوئی ہے۔ وہ بہت دلچسپ باتیں کرتی ہے۔ خاص طور پر اسکی حس مزاح کا میں بہت معترف ہوں۔ موسیقی کے ساتھ اسکی دیوانہ وار رغبت قابل داد ہے۔ اس کو سینکڑوں نئے پرانے گیتوں کے مکھڑے بلکہ پورے پورے گیت یاد ہیں۔ یہی حال میرا ہے۔ مجھے اس حوالے سے اس سے مل کر خوشی ہوئی ہے کہ وہ میری طرح پاگل پن کی حد تک موسیقی کی شیدائی ہے۔ ایک بات بتاوں، موسیقی کا شیدائی چاھے کوئی بھی ہو ، وہ کسی کو دکھ نہیں دیتا، دے ہی نہیں سکتا۔ شہناز بھی ایک بے ضرر انسان ہے۔ میں نے شہناز کو ہمیشہ ایک امن پسند، من موہنی، سندر اور شفیق لڑکی اور اب ایک خاتون کے روپ میں دیکھا ہے۔

شہناز کے شوہر، فرخ ذوالفقار اور اسکے بیٹے ترتیل راو نے جس محبت کے ساتھ اسکی شاعری پر بات کی ہے وہ خوب ہے۔انہیں ایسی ہی باتیں کرنی چاہیئں تھیں۔ خلوص اور چاہت کے ساتھ۔

شہناز تمھیں شاعری کے پہلے مجموعے کی پہلی اشاعت پر مبارک۔ ایسے دو چار مجموعے مزید لکھ دو۔ جیتی رہو۔  

Advertisment

Be the first to comment

Share your Thoughts: