دو نظمیں ۔۔۔ کشور پروین۔۔۔۔مسعود قمر

مجھے جل تھل کرو
کشور پروین))
میری چیخ
میرا نوحہ
تمہارے کانوں تک پہنچتے
خامشی کے قہقہے بن جاتے ہیں
میں 
بارش کے پانی سے نہیں
تیرے پیار کے ابر میں
جل تھل ہونا چاہتی ہوں
جب سے تونے
خود کو آئینہ سے نکالا ہے
میں نے
آئینہ دیکھنا چھوڑ دیا ہے
میں ہر طرح کے کاموں میں
جُتی ہونے کے باوجود
تیری محبت میں مشغول رہتی ہوں
اور
ہر کام ادھورا رہ جاتا ہے
سوائے محبت کے
آؤ
میری آواز سنو
اپنے پیار کے ابر سے
مجھے جل تھل کرو
میرا آئینہ بنو
کہ 
میں خود کو دیکھ سکوں
ورنہ
محبت اور۔ خامشی
میرے ادھورے وجود
اور 
میرے ادھورے کاموں پہ
قہقہے لگاتی رہے گی

 (کشور پروین نے یہ نظم مسعود قمر کی نظم کی بے حد ستائش میں لکھی، دونوں نظمیں پیش ہین)

ہر کام میں جتی لڑکی

(مسعود قمر)

قہقہے لگاتی تمہاری خامشی
میرے کانوں میں 
نیزے گاڑتی رہتی ہے
کان کتے پردے پھاڑتی رہتی ہے 
،،،، آپ بات کریں ،،
اس جملے سے 
تم کب آگے بڑھو گی
کتاب کا کوئی ایک صفحہ تو
اونچی آواز میں پڑھو
کسی سے اونچی آواز میں
پانی کے گلاس کا ہی کہو
کسی سے اونچی آواز میں
سیپرٹ چائے کا ہی کہو
جل تھل کرتی بارش میں
تم
چھت پہ کیوں سوکھی کھڑی ہو
بغیر آئینہ دیکھے
بننے سنورنے پہ
تم کو کس نے مجبور کیا
کان میں لفظ پڑتے ہی
تم
جُت جاتی ہو ہر کام میں
سوائے محبت کے
میں نے جب یہ نامکمل نظم
اُسے اسنائی تو
اُس نے کہا
،،، پلیز میری زندگی کا سوال ہے
آپ اس نظم کو پھاڑ دیں
کہیں 
میں بولنے ہی نہ لگ جاوں 

 

Advertisment

Be the first to comment

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.