سلطنت ۔۔۔ محمود احمد قاضی

سلطنت

محمود احمد قاضی ایک کہنہ مشق اور منجھے ہوئے لکھاری ہیں۔ کہانی ان کے خون میں رچی ہو ئی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ’’کہانی جبر کو نہیں ،صبر کو مانتی ہے۔ میں جیسی بھی کہانی لکھ رہا ہوں، اسے میں ہی لکھتا ہوں۔ کہانی مجھے ہرگز نہیں لکھتی۔‘‘ ’’سلطنت‘‘ محمود احمد قاضی کے افسانوں کامجموعہ ہے، جس میں اُن کی 18 کہانیاں شامل کی گئی ہیں۔دلچسپ طور پر ہر کہانی ایک کردار کے احوال پر مشتمل ہے جیسا کہ بادشاہ، دربان، غلام، مسخرہ، ایلچی، مؤرخ، بہروپیا، مکینک، بازی گر وغیرہ۔


ادارہ پینسلپس کی کوشش ہے کہ، اپنے قاری کے لئے ہر شمارے میں ایک کہانی شامل کی جائے۔

چور،چوکیدار،کوتوال اور طوائف

وہ خود کو ایک یکتائے روزگار چور سمجھتا تھا اور بڑے فخریہ انداز میں اس کا جواز یوں پیش کرتا کہ آج تک وہ پکڑا نہیں گیا تھا اور اس نے اپنے پیچھے کبھی کُھرا بھی نہیں چھوڑا تھا۔ تنگ روشن دانوں میں سے اپنے جسم کو دہرا تہرا کر کے گزر جانا، خاصی اونچائی سے اپنے پیروں کی دھمک کی آواز پیدا کئے بغیر ایک خاص زاویے اور پرفیکشن کے ساتھ چھلانگ لگانا یا با لکل سیدھی سپاٹ دیوار پر کسی کیکڑے کی طرح چڑھ جانا اور سیندھ ایسے لگاتا کہ کانوں کان کسی کو خبر نہ ہو وغیرہ وغیرہ۔ وہ اپنے ایسے کارنامے گنواتے ہوئے اپنے آپ کو زیر زمین دنیا کا ایک ایسا آرٹسٹ تسور کرتا تھا جو بے مثال تھا اور اس کی مثال وہ یوں دیتا کہ وہ چوری کا مال یوں غائب کرتا تھا جیسے کسی کی آنکھ سے سرمہ چرا لیا جائے اور اسے خبر نہ ہو۔

وہ تھا بھی بڑا سمارٹ، چلبلا، چھلاوہ۔ ابھی یہاں ہے اور ابھی وہاں۔ وہ کہیں ٹکتا تو تھا ہی نہیں۔ اپنے چوری کے فن کو اس نے اب کچھ زیادہ ہی پھیلا لیا تھا کہ اب وہ چوروں کے ایک ٹولے کا سربراہ تھا۔ ہیڈ چور ہونے کی وجہ سے اب اسے خود چوری کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ کیونکہ ہر چور اسے اپنی کمائی کا بیس فی صد حصہ ادا کرتا تھا۔ لیکن چور چوری سے جائے ہیرا پھیری سے نہ جائے والی مثال کو اپناتے ہوئے وہ اب بھی کبھی کبھی اپنے ہاتھ کی ہتھیلی کی خارش ایک آدھ  فنٹاسٹک قسم کی چوری کر کے پوری کر لیا کرتا تھا۔

اپنی فنی پختگی کے ساتھ ساتھ وہ اس عظیم مملکت کے اس شہر نامراد کے ہر محلے، گلی، چوک، ناکے، چھجے،تھڑے اور کھوکھے سے واقف تھا۔ وہ اس کے حمام میں جہاں سب ہی ننگے تھے کے ہر موسم، ہر لہر اور ہر کروٹ کا بھی جانو تھا اور شہر میں ہونے والی ہر واردات کا وہ رازدان  بھی تھا حالانکہ وہ دن زیادہ تر سو کر ہی گزارتا تھا لیکن اس کی باخبری کا عالم یہ تھا کہ شہر میں ہونے والی ہر بات ہر آہٹ اس کے کانوں تک پہنچتی رہتی تھی پھر رات کو جب وہ کالا لباس پہن کر رات کے سفر پر نکلتا تو اس کی آنکھیں مثل چیتے کے ہوتی تھیں۔ بلی کے پاوں والا یہ شخص اپنے پاوں میں پڑی ہر زنجیر کو تڑا کر رات کے ایک خاص پہر اور وقت پر بھاگتا دوڑتا اس گلی میں جا نکلتا جہاں رات ہی دن کہلاتی تھی اور جہاں ایک چوبی چھجے والے چوبارے پر وہ بت طناز سنگھار کئے اس کی منتظر رہتی تھی۔ اب اس وقت اس لمحے بھی اس کے قدم اسی راحت جاں کے چوبارے کی سیڑھیاں طے کر رہے تھے۔

(2)

وہ اسی شہر کا چیف واچ مین یعنی بڑا چوکیدار تھا۔ وہ خود براہ راست کوئی چوکیداری نہیں کرتا تھا لیکن تمام چھوٹے چوکیداروں کی جملہ سرگرمیوں کی نگرانی اسی کے سپرد تھی۔ وہ شہر کے مختلف مقامات پر ان چوکیداروں کی ڈیوٹی اور ذمہ داری کو عقاب کی آنکھ سے دیکھنے کا ماہر تھا اور ساتھ ہی ساتھ شہر کی گلیوں کے نکڑون پر ایستادہ لیمپ پوسٹوں پر نصب لیمپوں کو سر شام جلوانا اور صبح کاذب کے وقت ان کو بھجوانا بھی اسکے فرائض میں شامل تھا۔ شہر میں ہونیوالی وارداتوں کی سن گن لینا، ہر اچھی بری جگہ کو سونگھنا، سب لوگوں کی ٹوہ میں رہنا کنسویاں لینا اس نے از خود یہ فرض بھی اپنے ذمے لے رکھا تھا۔ شہر کے ہر ناکے سے ” سب اچھا ہے ” کی خبر لینا اور پھر اس خبر کو سب ناکوں سے ایک ساتھ نشر کروانا بھی اسکے کام کا ایک اہم حصہ تھا۔ وہ شہر کا ایک ایسا فرد خود آگاہ اور خود بین تھا جو رات کا لبادہ اوڑھے اپنی شناخت کروائے بغیر لوگوں کے بھید اکٹھے کرتا تھا۔ وہ اپنے لب سئے رکھتا کیونکہ اس کی لب کشائی سے شہر کی بنیادوں میں موجود خفیہ بھونچال جاگ سکتا تھا۔ وہ شہر کے کئی بھیدوں کے درمیان خود بھی ایک بھید تھا۔ اسے اسکے معتبر ذرائع سے معلوم ہوتا رہتا تھا کہ کون کب اور کس وقت اپنے اشغال فضول سے فراغت پا کر اپنے گھر کی طرف لوٹتا ہے۔ کون بی بی ہے جو رات بھر جاگ کر اپنے خصم کا انتظار کرتی ہے اور کروشئے سے رومال پر دل کاڑھتی رہتی ہے۔ کس کس کے گھر ٹم ٹم کس وقت اور کتنے وقت تک رکی رہتی ہے اور اس میں سے کون اترتا ہے اور پھر کس کو اپنے ساتھ لئے چلا جاتا ہے۔ بڑے راج پاٹ کے اس چھوٹے سے شہر افسوس کا حسن البتہ وہ پھول بوٹے اور درخت تھے جو یہاں بہار دیتے تھے اور افتادگان شہر کے دامن خوشیوں اور خوشبووں سے بھرتے تھے، اسے ان عاشقوں کا بھی پتہ تھا جو موتئے کے پھولوں کے گجرے لئے اپنی آشناوں کے منتظر رہتے تھے۔ طوباروں کے اندر سے برآمد ہونے والی سسکیوں، آہون اور بعض اوقات چیخون کی بیک گراونڈ تک کی خبر اسے رہتی تھی۔ برے لوگوں، وارداتیوں، شرابیوں اور کمینوں کی بھی اس کے ساتھ لکن میٹی جاری رہتی تھی لیکن وہ انہیں طرح دے جاتا تھا کیونکہ وہ سمجھتا تھا کہ اسکے چھوڑے ہوئے شتونگڑے یعنی چھوٹے چوکیدار انہیں کہیں نہ کہیں چھاپ لیں گے اور اکثر ہوتا بھی ایسا ہی تھا کہ ایسے سارے کیس کوتوال کے سپرد ہو جاتے تھے۔

چیف واچ مین یعنی بڑا چوکیدار جو بہت نڈر، ہوشیار، بے باک اور جرات والا تھا ہر رات کے آخری پہر بکری بن جاتا تھا۔ وہ ادھر ادھر احتیاط سے دیکھتا چھپتا چھپاتا رکتا آگے بڑھتا اس راحت جاں کی گلی میں آن وارد ہوتا جہاں وہ سولہ سنگھار کئے اس کی بھی منتظر ہوتی تھی۔ اس وقت جب وہ سیڑھیاں چڑھ کر اوپر پہنچا تو شہر کا با کمال اور لا جواب فنکار وہ چور پہلے سے یہاں موجود تھا۔

( 3 )

کوتوال شہر ذرا بھاری بھرکم جسم والا، مونچھوں کو ہر وقت مروڑنے والا اور کبھی کبھی بلا وجہ زیر ناف علاقے کو کھجانے والا ایک متلون مزاج آدمی تھا۔ اس کے سر کے بال اسے اس طرف سے اب فارغ البال ہی بتاتے تھے۔ وہ شہر کے لچے لفنگوں کا ان داتا تھا۔ یہ سارے اس سے تھر تھر کانپتے اور اسے خراج ادا کرتے تھے اور وہ وقت کے حاکم شہر کو ” سب اچھا ہے ” کی رپورٹ سے مستفید کرتا تھا۔ تمام شرفا اس کا سامنا کرنے پر اسکے خوف سے اکثر اپنا پیشاب خطا کر جاتے تھے۔ شہر کا سارا حساب کتاب، سارا کھاتا، جمع تفریق، نفع نقصان، آمد و رفت،عشق، بھوک، بیماری،جہالت،خوبصورتی،بد صورتی،محبت نفرت، دن رات دوپہر، سہ پہر، صبح شام رات، سارے پل گھڑیان اسکی ذاتی ڈائری میں درج ہوتے رہتے تھے۔ اسکے ساتھ ساتھ موچیوں، جولاہوں، کسانوں، لوہاروں، ترکھانوں، بڑے چودھریون ، درمیانے درجے کے مال دار تاجرون، چھوٹے دوکان داروں، دیہاڑی دارون، چھابڑی والوں، بہروپیوں، حتی کہ گداگروں تک کی سرگرمیاں اس کے ذہن کے لاکر میں محفوظ ہوتی رہتی تھیں کہ وہ اس کی رعایا تھے اور یہ کہ ان سب کو اوپر والوں سے پہلے اسی سے واسطہ پڑتا تھا۔ وہ جب بھی کسی پر اچٹتی نظر ڈالتا تو کہتا، ” اپنا کھاتہ درست رکھو ورنہ میں تمہیں درست کر دوں گا ” لوگ اس جملے کا مفہوم سمجھتے ہوئے اسے سلام کرتے ہوئے اپنے ہاتھ جیبوں کی طرف لے جاتے تھے اور وہ اس دوران اپنے بالشت بھر کے ایک انچ موٹائی والے رنگین ڈنڈے کو دایئں ہاتھ میں پکڑے بایئں ہاتھ کی ہتھیلی پر ہولے ہولےمارتا رہتا تھا۔ اس کے چیلے چانٹے اور ٹاوت اسے پل پل کی خبر دیتے تو یوں لگتا جیسے سارا شہر کوتوال کے ابرو کے اشارے پر سانس لیتا اور زندگی کرتا تھا۔ وہ لوگوں کی زندگیوں میں اس حد تک دخیل تھا کہ اس کے پاس ہر پرانی اور نئی ہونے والی بیوہ کا بایئو ڈیٹا موجود ہوتا تھا۔ دولت مند بیواوں کا شوقین ہونے کے علاوہ رنڈیوں کا شیدائی تو وہ تھا ہی اس لیے وہ دن کی بھاگ دوڑ سے فارغ ہو کر تھک تھکا کر رات کے ان مخصوص لمحات میں رات کو دن بناتی اس گلی کے اس خاص مکان کی سیڑھیوں کا رخ کرتا جہاں وہ دلآرام اسکے لئے بھی اپنی چوڑیاں چھنکاتی اور پازیب جھلاتی تھی اور اس وقت بھی جب وہ ادھر آیا تو وہ دونوں بھی یعنی چور اور چوکیدار اس سے پہلے ہی یہاں موجود تھے اور یہ معمول کے عین مطابق تھا اس لیے وہ اپنی مخصوص جگہ پر جا کر بیٹھ گیا اور نیم وا آنکھوں سے ماحول کے ذائقے کو اپنی سانسوں کے ذریعے سے کشید کرنے لگا۔

(4)

بی بی جان اس شہر غسار کی ایک طرح دار ، طنطنے والی، نخرے والی اور تجربہ کار رنڈی تھی۔ سارے شہر اور بازار میں اس کا طوطی بولتا تھا۔ سب امیر کبیر ، بڑے منتظم حتی کہ چھوٹے اہل کار جن کے بٹوے رشوت کے مال سے پر شکم ہوتے تھے، ادھر ہی کا رخ کرتے تھے۔ وہ اپنے ناز و ادا اور دلبری کے خنجر سے ان اصیل جانوروں کو ذبح کرتی اور جب ان کے کھیسے  مال سے خالی ہو جاتے تو اسکے کارندے لات مار کر انہیں سیڑھیوں سے نیچے لڑھکا دیتے۔ وہ اپنی کلایئوں میں پڑے موتیے کے گجروں، کانوں میں جھولتے بُندوں، پاوں کی پازیبوں اور گلے کے ست لڑیے ہار کے توسط سے پھر جوانی کے غرور سے ہر آنے جانے والے پر اپنی دھاک بٹھا دیتی تھی۔ کمرے میں بچھی سفید چاندنی پر گاو تکیون سے ٹیک لگائے مفت کی روٹیاں توڑنے والے انواع و اقسام کے کھانوں سے بوجھل ہوتے پیٹ کی وجہ سے کھٹی ڈکاریں لینے والے، طرح طرح کے عطریات اور تیز خوشبووں سے لبریز پنڈوں والے بے فکرے اور عیاش اس کی آمدنی کا ایسا ذریعہ تھے کہ وہ ان کے بچھ بچھ جاتی تھی بلکہ ان سے لپٹ لپٹ جاتی تھی۔ اس طرح نہایت کاروباری انداز میں ان کے صدقے واری ہونے میں اسے ملکہ حاصل تھا۔ ان سب ہتھکنڈون کے علاوہ اس کے پاس ایک خدا داد آواز بھی تھی۔ اس کے گلے کے قدرتی لوچ سے لبریز ولمپت اور دُرت دونوں طرح کے بول خود اپنی ہی طرز کا رچاو رکھتے تھے۔ اس کے بھاو تاو بتاتے ہاتھ اور تھرکتا سیمابی جسم تماش بینوں کے وجود کو خاکستر کرنے کے لئے کافی تھا۔

اس وقت وہ تینوں گاہکوں پر، جنہوں نے اس سے ہر رات کا یہ پچھلا پہر اپنے نام خرید رکھا تھا ، واری ہوئی جا رہی تھی اور اس پر ایک ساتھ فدا یہ تینوں گاہک شہر کے وہی تینوں معروف اور خاص الخاص کردار تھے۔ یعنی چور، چوکیدار اور کوتوال۔ وہ یہاں جتنی دیر بھی اکٹھے رہتے بی بی جان کا مجرا سنتے تو اپنے آپ کو ایک خاص بھیس اور بھید میں رکھتے تھے۔ وہ اپنے علاوہ نہیں جانتے تھے کہ دوسرا کون ہے بس وہ یہ سمجھتے تھے کہ وہ تینوں بی بی جان کے پسندیدہ گاہک ہیں۔ شہر کے وہ تین چنے ہوئے لوگ جن کی دلداری کے لئے اس شہر کی مشہور مغنیہ اور طوائف ان پر اپنے لطف اور عنایت کے موتی نچھاور کرتی تھی۔ انہوں نے اس سے بھی اپنی اصل شخصیت چھپائی ہوئی تھی لیکن وہ تینوں بےوقوف نہیں جانتے تھے کہ وہ ان کے اصل روپ اور کردار سے واقف تھی۔

اس وقت جب وہ چاندی کی طشتری میں سجی چاندی کے ورق میں لپتی پان کی گلوریاں خود اپنے ہاتھوں سے معزز گاہکوں کی منہ میں رکھنے کے لیے اٹھی تو اس نے تینوں کو آپس میں کھسر پھسر کرتے دیکھا۔ بی بی جان کے لیے یہ انوکھی بات تھی۔ وہ ایک دوسرے سے لیے دیے رہنے والے اور آپس میں کم بولنے والے اشخاص تھے لیکن آج ۔۔۔

” میں صدقے، میں واری۔ کچھ مجھ نگوڑی کو بھی پتہ چلے کہ ماجرا کیا ہے۔ یہ ایک دوسرے کے کانوں میں کیا کہا جا رہا ہے۔ اگر حضور کو ناگوار نہ گزرے تو بندی کیا یہ پوچھنے کی جسارت کر سکتی ہے کہ موضوع سخن کیا ہے ؟ “

طوائف کے استفسار پر تینوں کچھ دیر زیر لب مسکراتے رہے پھر ان میں سے ایک بولا

” بی بی جان۔ آج فیصلہ ہو جانے دو “

” کیسا فیصلہ حضور ؟ “

” وہی۔ دل کا فیصلہ کہ ہم میں سے وہ کون خوش نصیب ہے جو واقعی اپنے آپ کو حقیقی معنوں میں تہمارا سچا پرستار ہونے کے قابل سمجھے۔ “

” حضور میں آپ تینوں ہی کی باندی ٹھہری۔ حکم کیجئے تو اپنا دل نکال کر طشتری میں سجاوں اور آپ تینوں کے قدموں میں ڈال دوں شاید اس طرح لونڈی کے باوفا ہونے کا بھرم رہ جائے۔ “

” نہیں بی بی جان یوں نہیں۔ آج فیصلہ کر ہی دو تو اچھا ہے “

” صاحبو۔ میں تو اب بھی اس بات پر اصرار کروں گی بلکہ التجا کروں گی کہ بھید ، بھید ہی رہے تو اچھا ہے “

ان تینوں کو اپنے دعوے اور ذد پر اڑے دیکھ کر وہ اٹھی پھر اس نے ہاتھ کے اشارے سے سازندوں کو وہاں سے ٹلنے کا حکم دیا اور خود ان کے سامنے ملتجی ہوئی کہ ان میں سے ہر ایک کمرہ خاص میں جہاں خود اس کے سوا کوئی دوسرا قدم نہیں رکھتا پانچ پانچ منٹ کے لئے اس سے ملاقات کر سکتا ہے اور یوں تینوں میں سے ہر ایک بخوبی اندازہ کر لے گا کہ وہ خوش نصیب کون ہے جس پر وہ واقعی مر مٹی ہے۔ تینوں نے حامی بھری اور باری باری تخلیے مین انہوں نے اس طوائف سے ملاقات کی، ملاقات کے بعد اب تینوں کی حالت یہ تھی کہ منہ سے تو کچھ نہ بولتے مگر ایک دوسرے کی طرف گھور کر دیکھتے تھے اور مکے ہوا میں لہراتے تھے پھر دیکھتے ہی دیکھتے وہ آپس میں گتھم گتھا ہو گئے یوں وہ پھر بھی نہ جان سکے کہ کون اصل میں بی بی جان کا دلدار خاص ہے البتہ ان کے اپنے بھید ان پر ضرور ظاہر ہو گئے۔ اب وہ تینوں ایک دوسرے سے نظریں چراتے اور شرمندہ ہوتے تھے۔ طوائف نے ان کی خفت اور خجالت کو اپنی دلفریب مسکراہٹ میں سمیٹتے ہوئے کہا:

” حضور۔ فیصلہ تو درمیان میں ہی رہا جاتا ہے “

وہ تینوں دبدا میں پڑ گئے۔

اسی آن رنڈی نے اپنی جان کی تمام دلفریبی ان پر انڈیلتے ہوئے تجویز پیش کی کہ اب جب کہ ان کے اپنے بھید بھی ان پر آشکار ہو چکے ہیں تو اس کے لئے بھی ممکن نہیں رہا تھا کہ وہ ان میں سے کس کا ہاتھ پکڑے۔ کیا ایک چور کا ؟ سب اچھا کہنے والے ایک چوکیدار کا ؟ یا پھر جبروتی شان والے کوتوال شہر کا ؟ ۔۔۔۔ اسے بہر حال اب شہر کے ان تینوں بہروپیون یا کرداروں میں سے کسی ایک کا ہو کر رہنا تھا یا رکھیل بننا تھا۔ اس نے کہا

” مین ا بھی آپ کے سامنے شربت کے تین گلاس لاتی ہون ۔ ان میں سے ایک میں زہر ہو گا۔ آپ تینوں بیک وقت یہ گلاس منہ کو لگایئں گے۔ گلاس کے چناو میں آپ ازاد ہوں گے۔ تینوں میں سے ایک یقیننا زہریلے شربت والے گلاس کا انتخاب کرے گا۔ اس طرح دو بچ جایئں گے لیکن فیصلہ اب بھی ہونا باقی رہے گا اس لئے باقی دو کو میں پان پیش کروں گی جن میں سے ایک زہریلا ہو گا اور یوں وہی قسمت کا دھنی بچے گا جو اپنے آپ کو صرف  اور صرف میرا کہہ سکے گا، چاہے وہ چور ہی کیوں نہ ہو۔ “

اتنا کہہ کر اس نے شربت کے گلاس منگوائے۔ چور چوکیدار اور کوتوال تینوں مضطرب تھے اور اپنے اپنے گلاس پکڑتے ہوئے ان کے ہاتھ لرز رہے تھے۔ ان میں سے بہر حال ایک کو اپنی جان گنوانی تھی۔ پھر وہ ایک ساتھ گھونٹ گھونٹ  کر کے شربت پینے لگے۔ تینوں شربت پی چکے تو دو تین منٹ تک کچھ  نہ ہوا حالانکہ ان میں سے ایک کی پیشانی عرق آلود تھی۔ پھر اچانک چور ایک طرف کو لڑھک گیا۔ ماحول کچھ کشیدہ سا ہاگیا۔ کوتوال نے اپنے بایئں پہلو میں لٹکتے پستول پر ہاتھ رکھا تو طوائف بولی

” حضور۔ روندی نہیں چلے گی۔ آپ نے مجھے پہلے ہی سے جان کی امان دے رکھی ہے ۔ “

کوتوال کا ہاتھ اس کے پہلو میں ہی لٹک کر رہ گیا۔ وہ اپنی مونچھوں کو مڑوڑ دینا بھی بھول گیا کہ اب پان کی دو گلوریاں طشتری میں سج کر اس کے اور چوکیدار کے سامنے آ چکی تھیں۔ دونوں نے ایکدوسرے کی طرف کن اکھیوں سے دیکھا، پان کی گلوریوں کی طرف نظر کی پھر بی بی جان ک سرخ انگارہ بنے ہونٹون کے پیچھے چھپی زہریلی اور طنزیہ مسکراہٹ کو اپنے اپنے من میں جانچا، پرکھا اور اپنے احمقانہ مردانگی کو مد نظر رکھتے ہوئے آنکھیں بند کر کے اپنے اپنے حصے کی گلوری اٹھا کر منہ میں رکھ لی۔ اس بار بھی ایسا ہی ہوا کہ کچھ دیر تک کچھ نہ ہوا پھر ایک دم سے اور نہایت خاموشی سے چوکیدار نے اپنا سر کوتوال کے کندھے پر دھر دیا۔ کوتوال بدک کر پرے ہٹا تو چوکیدار کا جسم دوسری طرف لڑھک گیا۔

حالانکہ کوتوال یہ بازی جیت چکا تھا مگر اس کا رنگ فق اور چہرہ پسینے سے شرابور تھا اور اس کا دل سینے میں دھپ دھپ کرتا حلق میں اٹکا جاتا تھا۔ تھوڑی دیر بعد اس کے اوسان بحال ہوئے تو طوائف نے کورنش بجا لاتے ہوئے کہا، ” حضور اب کھیل کے قواعد کے مطابق باندی آپ کی عمر بھر کی غلام کہلائے گی۔ آپ کو یہ سوئمبر جیتنا مبارک ہو ” کوتوال پہلے مسکرایا پھر ہنسا

” یہ دونوں بے وقوف چور اور چوکیدار چلے تھے کوتوال سے ٹکر لینے”

” صاحب۔ آپ آپ ہیں اور یہ ٹھہرے محض چور اور چوکیدار۔ بھلا خاک کو آسمان سے کیا نسبت “

کوتوال اٹھ بیٹھا، ” لو اب ہم جاتے ہیں کہ رات بھی اب تھوڑی دیر میں صبح کی گود میں جا بیٹھے گی مگر جانے سے پہلے ہم چاہتے ہیں کہ اپنے خشک حلق کو تمہارے شربت شیریں سے تر کرتے چلیں اور شربت ہم دونوں اکٹھے پیئں گے کہ یہ اچھا شگون رہے گا “

طوائف خاموشی سے اندر گئی اور شربت کے دو گللاس لے آئی۔ پہلے طواےف نے ایک گلاس اٹھایا اور غٹا غٹ سارا شربت پی گئی۔ تھوڑے سے توقف کے بعد کوتوال نے دوسرا گلاس ہاتھ میں تھاما اور پھر ہولے ہولے شربت پینے لگا۔ دونوں منہ چلاتے چہلیں کرتے ہنستے رہے پھر دیکھتے ہی دیکھتے طوائف لہرائی اور کوتوال پر آ رہی۔ کوتوال ارے ارے کرتا اسے سنبھالنے کو جھکا تو دیکھا کہ طوائف کا تو دل بند ہے۔ وہ اپنے بدن میں سرایت کر جانے والے رعشے پر قابو پاتے ہوئے ایک دم سے گھوما اور پھر گم سم اپنی ذات اپنے راز اور بھید کو ساتھ لیے لڑکھڑاتے قدموں سے چوبارے کی سیڑھیاں اترنے لگا ۔۔۔ نیچے رات ابھی صبح سے کوسوں دور تھ۔ی۔

Advertisment

Be the first to comment

Share your Thoughts: