فیصلے کا پَل ۔۔۔ صدف مرزا

فیصلے کا پل

(صدف مرزا)

مقدر اپنے سارے

ہمارے ہی برہنہ پا کے ٹھہرے تھے

ثبت سارے فیصلوں پہ

مہرِ فیصلہ کن بھی

ہمارے نام ہی کی تھی

ہمیں نے طرزِ کہنہ کی قباحت کے فسانے کو

نیا اک موڑ دینا تھا

ہمیں نے تو بتانا تھا

کہاں نُطق و تکلم کی فصاحت آزمانی ہے

کہاں خاموش رہنا ہے

کہاں سوزن رفوگر ہو،  کہاں تلوار بن جائے

کہاں ریشم ہو جذبوں کا، کہاں انگار بن جائے

کہاں سنگلاخ چوٹی ہو،  کہاں ہموار بن جائے

ڈبو دے کب سفینے سب، کہاں پتوار بن جائے

کہاں کس کو

غرورِ ذات کی سب کنجیاں عطا کر کے

چارہ گر بنانا ہے

کہاں پہ اعتبار و اختیار واپس لینے ہیں

ہمیں نے تو دکھانا تھا

کہاں پر جان لینی ہے، کہاں اس کو لٹانا ہے

کہاں پہ مکر جانا ہے، کہاں وعدہ نبھانا ہے

کہاں دل توڑ دینے ہیں ، کہاں پر ٹوٹ جانا ہے

کسے برقِ نگاہِ ناز سے ہے خاک کر دینا

کہاں پلکوں کے آنچل سے نگاہوں کو بچانا ہے

کہاں تختہ الٹنا ہے، کہاں بے داد سہنا ہے

کہاں اشکِ رواں کو دل کے دریا میں اترنا ہے

کہاں آنکھوں سے بہنا ہے

کہاں قدموں تلے ہم نے ستارے لا بچھانے ہیں

کہاں قدموں تلے سے پھر زمیں بھی کھینچ لینی ہے

اس وقت کی اک کروٹ نے ، بس ایک ہی پل میں ہمیں

فیصلے کا اختیار, ایک ہی پل کو دیا

ہم داد دیتے ہیں خود کو

ہمیں نے بازی جیتی ہے،  ہمیں تو سُرخرو ٹھہرے

دشتِ جبر میں عمرِ رواں کی رائیگانی تھی

مگر یکلخت پل میں ہم ، قریبِ آبجو نکلے

ہم داد دیتے ہیں خود کو

کہ ہم تو سُرخرو نکلے

 

Advertisment

Be the first to comment

Share your Thoughts: