محبت ۔۔۔ اختر کاظمی

محبت

(اختر کاظمی)
جو کہتے ہیں محبت مر نہیں سکتی
غلط فہمی میں رہتے ہیں
سنو، میں نے محبت کو
غلط فہمی کے خنجر سے لگے زخموں سے خوں میں تر بھی دیکھا ہے
کبھی شک کے سم قاتل کو پی کر
محبت کا اذیت دینے والا رقص بسمل بھی
میری یادوں میں زندہ ہے
محبت زیست کی آسائشوں کی چاہ کی اندھی ہوس کے ایک بحر بیکراں
میں ڈوبتی بھی میں نے پائی ہے
انا اور خود پسندی کی بلائے بے اماں کی زد میں آ کر بھی محبت مرتی آئی ہے
جو کہتے ہیں محبت مر نہیں سکتی
غلط فہمی میں رہتے ہیں
سنو، تاریخ کی سفاک آنکھوں نے محبت کو ہمیشہ سسکیاں لیتے ہوئے
مرتے ہی دیکھا ہے
محبت تو ہمیشہ
وقت کے بے رحم ہاتھوں
یا خود اپنے قیدیوں کی لغزشوں سے
مرتی آئی ہے
بس اتنا ہے کہ پھر یہ چاہنے والوں کی یادوں کے خرابے میں
کرم خوردہ کتابوں میں
بڑے اعزاز سے دفنائی جاتی ہے
جو کہتے ہیں
محبت مر نہیں سکتی
غلط فہمی میں رہتے ہیں

 

Advertisment

Be the first to comment

Share your Thoughts: